آٹھویں مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول

 


تکون کی مجلس

دماغ کی ٹرین میں صدیوں کے مسافر جاگ اٹھے تھے۔ بہتی ہوئی لکیر ٹھہر گئی تھی اور اس میں مدو جزر پیدا ہورہا تھا۔کھڑکیوں کے
ساتھ بہتے ہوئے منظروں کے دریا رک چکے تھے ۔طاقت ور ڈیزل اور میٹھا پانی اپنے اپنے پائپ سے گزرتا ہو اپنے اپنے معبد میں
پہنچ رہا تھا۔ جہگیں خالی بھی ہورہی تھیں اور انہیں گھیرا بھی جا رہا تھاصندوقوں اور اٹیچی کیسوں کی شکلیں بدل رہی تھیں۔بڑی
بڑی عمارتوں کو تہہ کر پرس میں ڈالا جا رہا تھاگمشدہ تہذیبوں میں سفر کرنے والی کار مستقبل میں چلی گئی ہے ۔سن بیس ہزار دس
میں دنیا سے ہمکلام ہونے والا ابھی ابھی میرے پاس آیا ہے اور کہہ رہا ہے میں ایک بہت ہی خوبصورت زندگی دیکھ کر رہا ہوں مگر درمیان میں ایک قیامت حائل ہے﴾


آٹھویں مجلس


آج میرے کچھ ادیب دوستوں نے بھی آنا تھا۔ تھوڑی دیر میں وہ پہنچ گئے ۔ گپ شپ شروع ہو گئی۔یہ تمام دوست اہل زبان تھے
یعنی اردو ان کی ماں بولی تھی ۔زبان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اہلِ زبان دوست نے کہا

’’تم یاکستانی کس بنیاد پر اردو زبان کو اپنا ورثہ سمجھنے لگے ہو۔پاکستان کے تو کسی علاقے کی مادری زبان اردو نہیں ‘‘۔۔ اورمیرے
پرانے زخم تازہ ہوگئے مجھے اپنے وہ کرم فرما یاد آگئے جنہوں نے مرحومڈاکٹر قوی ضیائ کے اعزاز میں منعقد ہونے والی ایک
تقریب میں کہا تھا’’ایک تو ہمارے لئے مسئلہ یہ ہے کہ اردو پاکستانیوں کیلئے بھی ایک غیر ملکی زبان ہےپاکستان کا کوئی شہر ایسا 
نہیںجہاں اردو مادری زبان ہو ‘‘اور میںنے ان کی خدمت میںاس وقت جو کچھ عرض کیا تھا وہی اپنے اس اہل زبان دوست کے گوش گزار کرنے لگا میں نے کہا۔

’’میرے اہل زبان دوست!آئینہ دکھانے کا بہت بہت شکریہ ۔۔بے شک آپ نے درست فرمایا ہے اردو یوپی سی پی کے علاقے
کی زبان ہے اس کا تعلق دہلی اور لکھنئو کے ساتھ ہے ہم پاکستانیوں کے غیر مہذب اور جنگلی آبا واجدادیہ زبان نہیں بولتے تھے اس
لئے اس زبان کے ساتھ ہمارا کوئی مادری رشتہ نہیں ہے﴿ ہائے بے چاری اردو کہ جا بے جا اس کے اغوا کی کوششیں جاری ہیں﴾۔

بے شک یہ بڑے تہذیب یافتہ اور مہذب لوگوں کی زبان ہے ہم نے تاریخ کی کتابوں میںپڑھا ہے کہ پرانے زمانے میںیہ
تہذیب یافتہ لوگ اس زبان کی محبت سے اس قدر سرشار تھے کہ اسے سیکھنے کیلئے انہیںاپنے بچوں کے پائوںبالا خانوں کی
سیڑھیوں کی طرف جاتے ہوئے بھی برے نہیں لگتے تھے۔ حالانکہ ہر زمانے کے شرفائ نے ان سیڑھیوں سے لڑھکتی ہوئی پستی
کو خود سے دور رکھنے کیلئے ان سے صدیوں کے فاصلے پررہنے کی کوشش کی ۔ہم نے یہ بھی کتابوں میں پڑھا ہے کہ کسی زمانے میں
لکھنئو میں جو مشاعرے ترتیب پاتے تھے ان میں شریک ہونے والے بڑے بڑے اساتذہ ئ فن عورتوں کا لباس پہن کر ، ہار سنگھار
کر کے مشاعرہ گاہ میں رونق افروز ہوتے تھے ۔ہم یہ بھی جانتے ہیںکہ دہلی اور لکھنئوکی تہذیب میں امرد پرستی عام تھی ، غالب کا
یہ کہاکہاں بھول سکتا ہے

سبزہ ئ خط سے ترا کاکل ِ سرکش نہ دبا یہ زمرد بھی حریفِ دم افعی نہ ہوا

اور میر کا یہ شعر تو ضرب المثل بن گیا ہے

میر بھی کیاسادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

بے شک ہمارے جنگلی آبا واجدادارود زبان کی اس عظیم تہذیب کے آشنا نہیں تھے۔ وہپنجابی ، سندھی ، پشتو، بلوچی، بنگالی، کشمیری
اور سرائیکی زبان بولتے تھے ان کی اپنی اپنی ثقافتیں تھیں، وہ اپنی اپنی قدیم تہذیبوں کے وارث تھے مگر جب برصغیر کی تقسیم
مذہب کی بنیاد پر ہوئی تو انہوں نے اردو زبان کو پاکستان کی قومی زبان ہونے کا اعزاز دیا۔ایسا اس لئے کیا گیا کہ اردو اس وقت
برصغیر کے مسلمانوں کی زبان تھی۔ مغلیہ سلطنت نے برصغیر کے لوگوں کیلئے جو اچھے برے ورثے چھوڑے تھے ان میں ایک
اردو زبان بھی تھی ۔آخری مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفرخود اس زبان کا بہت بڑا شاعر تھا۔اس زبان میں برصغیر کے مسلمانوں نے
بہت کچھ لکھا ہوا تھا ۔پنجابیوں نے اس زبان کو اقبال جیسا عظیم شاعر دیا تھا،سو پاکستانیوں نے اس فیصلے کے بعد اپنی ماں بولیوں کو
پسِ پشت ڈال دیا اور اردو زبان کو صرف قومی ہی نہیں بلکہ اپنی مادری زبان بھی بنا لیا ۔ آج پاکستان میں ہزاروں خاندان ایسے

موجود ہیں جن کے باپ داد اردو نہیں بولتے تھے مگر ان کے گھروں میں اس وقت صرف اردو زبان بولی جاتی ہے یعنی کہ ہم
پاکستانیوں نے اسے پوری طرح اپنا لیا، دنیا کے تمام علوم اس زبان میں منتقل کئے ۔اردو سائنس بورڈ یا مقتدرہ قومی زبان میں جا کر
دیکھئے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ پاکستانیوں کا اردو زبان کے ساتھ کیا سلوک ہے۔اپنی پیدائش سے لے کر قیام پاکستان تک اردو

زبان نے جتنی ترقی کی تھی پچھلے پچپن سال میں پاکستان میں اردو نے اس سے کہیں زیادہ ترقی کی ہے۔

ایک اوربات پر بھی میں نے بہت غور کیا ہے کہ کیا واقعی ہم’’ جنگلی‘‘ہیںہماری زبانیں اردو زبان کے مقابلے میں کوئی بہت پست
زبانیں ہیں؟ تو مجھے احساس ہوا کہ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے اردو ہماری زبانوں سے زیادہ ملائم اور نفیس زبان نہیں ہے۔ ہم لوگ
صدیوں سے ’’اکھ ‘‘’’نک‘‘ اور ’’کن ‘‘ کہتے آرہے ہیں ۔اردو والوں نے اس میں ایک کھڑی آواز ڈال کر اسے ’’آنکھ‘‘ ’’ناک‘‘
اور ’’کان‘‘ میں بدل دیا ہے مگر میرے خیال میں’’اکھ ‘‘،’’نک‘‘اور ’’کن‘‘ میں جو صوتی رچائو، موسیقیت اور روانی ہے وہ آنکھ ،

کا ن اور ناک میں نہیں ۔ہماری زبانیں اردو کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہیں صرف پنجابی زبان میں گائے کیلئے بائیس لفظ موجود ہیں

۔ اردو زبان کے دامن میں توصرف اقبال، غالب اور میرجیسے نام سرِ فہرست ہیں جب کہ ہماری زبانوں میں ان سے کہیں بڑے
بے شمار نام موجود ہیں مثال کے طور پرخوشحال خان خٹک ، شاہ عبد الطیف بھٹائی ،خواجہ فرید ، بلھے شاہ ، وارث شاہ ،میاں محمد بخش ،
شاہ حسین ، لِلھ عارفہ، ٹیگور ۔۔۔ یہ فہرست صرف یہاں ختم نہیں ہوتی ۔۔لیکن ان ساری باتوں کے باوجود اب اردو ہماری قومی زبان بھی ہے اور مادری زبان بھی ہے۔

ممکن ہے بہت سوں کی مادری زبان نہ ہو مگر ہمارے بچوں کی مادری زبان ضرور ہے۔سو اب اردو زبان کے بارے میں کوئی فیصلہ
کرنے سے پہلے ہم جنگلیوں سے ضرور پوچھنا پڑے گا ورنہ فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی ۔گذشہ دنوں کچھ ہندوستانی ادیبوں نے
اردو کے رسم الخط کے حوالے سے بات کی تو میں نے کہا اردو اب صرف ہندوستانی اقلیتوں کی ایک بولی ہی نہیں پاکستان جیسے اہم
ملک کی قومی زبان بھی ہے اور اس میں کسی طرح کی اہم تبدیلی صرف اسی وقت ہوسکتی ہے جب پاکستانی اس پر غور کرنے کیلئے تیار
ہوں۔ جب یہاں تک تو میرے وہ دوست کوئی جواب دئیے چائے کے کپ اسے طرح دفتر سے نکل گئے میں نے بھی روکنا
مناسب نہیں سمجھا ۔پھر سائیکی آگئی آقاقا فا کے پاس جانے کا وقت ہو گیا اور ہم وہاں پہنچ گئے ۔آقا قافا کی مجلس شروع ہوئی انہوں
نے کل جہاں اپنی کہانی چھوڑی تھی وہیں سے آغاز کیا

’’کندیاں ریولے سٹیشن پر آدھا گھنٹہ گاڑی نے رکنا تھا کیونکہ وہاں گاڑی کا انجن تبدیل کیا جاتا ہے اور میں گاڑی سے نیچے نہیں اترنا
چاہتا تھا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ میرے دوست پلیٹ فارم پر موجود ہوں گے اور وہ مجھے اس عورت کے ساتھ بھکر نہیں جانے دیں
گے۔ ادھر وہ عورت مجھے دو بار کہہ چکی تھی کہ جائو نیچے سے چائے کے دو کپ لے آئو۔ اپنے پرس سے روپے نکال کر مجھے پکڑانے
کی کوشش کر رہی تھی۔ عورت کو شاید احساس ہوگیا تھاکہ میں نیچے نہیں اترنا چاہتا، اس نے کہا کیا بات ہے پلیٹ فارم پر جانے سے
گھبرا کیوں رہے ہو تو میں نے اسے کہا، پلیٹ فارم پر میرے دوست میراانتظار کر رہے ہیں۔ اگر انہوں نے مجھے دیکھ لیا تو مجھے
تمہارے ساتھ نہیں جانے دیں گے۔

اللہ اللہ کر کے گاڑی چلی اور میری جان میں جان آئی کہ اب مجھے اس عورت کے ساتھ جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ میں بستر
بند پر بیٹھ گیا اور عورت نے اپنی ٹانگیں اپنی سیٹ پر سمیٹ لیں، مجھے احساس ہوا کہ اسے بیٹھنے میں دقت ہو رہی ہے تو میں کھڑا
ہوگیا اور کہا تم اپنی ٹانگیں لمبی کر لو۔ مگر جب اس نے انکار کر دیا، سو مجھے مجبوراً بستر پر بیٹھ کر سفر کرنا پڑا۔ پونے تین گھنٹوں کے
اس سفر میں ہم نے دنیا جہاں کی تمام باتیں کیں مگر ایک دوسرے کے بدن کو ہاتھ نہیں لگایا۔ شاید عورت کو احساس ہوگیا تھا کہ یہ
بچہ ابھی جوان ہو رہا ہے۔ ممکن ہے اس سے برداشت نہ ہو۔ اس کا نام سائیکی تھا اور پھر آقا قافا نے سائیکی سے مخاطب ہو کر کہا۔

سائیکی میں نے تمہارا نام اسی عورت کے نام پر سائیکی رکھا تھا۔وہ عورت میانوالی ضلع کی تحصیل عیسیٰ خیل کی رہنے والی تھی اور بھکر
میں گرلز ہائی سکول میں ٹیچر تھی۔ چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس ڈیوٹی پر جا رہی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ بھکر میں اکیلی
رہتی ہے۔ اس نے کہا وہ لڑکیوں کے بورڈنگ ہائوس کی انچارج ہے اور خود بھی وہیں رہتی ہے، ہم بھکر اسٹیشن پر اتر ٹانگے میں
بیٹھے اور بورڈنگ ہائوس پہنچ گئے۔ چوکیدار نے دروازہ کھولا۔ اس نے اپنے چھوٹے بھائی کی حیثیت سے چوکیدار سے میرا تعارف
کرایا اور کہا کہ اس کے کمرے میں ایک چارپائی اور لگا دے۔ بڑی بہن کے ساتھ چھوٹے بھائی کے رہنے پر اسے کیا اعتراض ہو سکتا
تھا۔ اس نے فوراً ایک چار پائی اس عورت کے کمرے میں لگا دی۔ میں عمر میں چھوٹا تھا مگر قد بت کے اعتبار سے اس وقت بھی
جوان دکھائی دیتا تھا اورپھر اس نے کنڈی لگا دی اور لائٹ آف کر دی۔ ابھی ہم گناہ کے عمل کے رستے میں تھے کہ دروازے پر
دستک ہوئی۔ اسنے آواز دے کر پوچھا کون ہے۔ مگر کوئی جواب نہیں۔ اس نے مجھے سرگوشی میں کہا تم چارپائی کے نیچے چلے جائو۔
میں چارپائی کے نیچے گھس گیا اور اسی لمحے دروازے کی کنڈی پر باہر سے فائر ہوا۔ کنڈی ٹوٹ گئی دروازہ کھل گیا۔ دو فائر اور ہوئے
میں نے اس عورت کی چیخ سنی اور پھر دوڑتے ہوئے قدموں کی آواز۔ میں تھوڑی دیر کے بعد نیچے سے نکلا میں نے لائٹ آن کی تو
دیکھا کہ اس عورت کی خون میں لتھڑی برہنہ لاش زمین پر پڑی ہے مجھے کچھ سمجھ نہ آیا اور میں دوڑ پڑا۔ دوڑتا ہوا میں دروازے کی
طرف آیا، دروازہ کھلا ہوا تھا میں گلی میں دوڑتا چلا گیا اور مجھے احساس ہوا کہ میں بالکل ننگا ہوں باہر بے پناہ سردی تھی مگر مسلسل
دوڑنے کی وجہ سے یا خوف کی وجہ سے مجھے اس کا بالکل احساس نہیں ہوا۔ دوڑتے دوڑتے میں اپنے مکان پر پہنچ گیا مگر اس کو تالا لگا
ہوا تھا دیوار پھلانگ کر اندر چلا گیا۔ مجھے کپڑوں کی تلاش تھی۔ ایک جگہ ایک رنگ سے بھرا ہوا جوڑا مل گیا۔ یہ شاید ان
مزدوروں کا تھاجو مکان میں سفیدی کا کام کر رہے تھے۔ میں نے وہ کپڑے پہن لئے اور وہاں سے نکل کھڑا ہوا۔ پائوں بھی ننگے
تھے۔ بہرکیف بڑی مشکل سے اپنا ایک ماموں زاد بھائی جو میرا ہم عمر تھا اس تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اور اسے کوئی الٹی سیدھی
کہانی سنا کر مطمئن کر لیا۔ اس کے جوتے اور کپڑے پہن کر اور اسے میانوالی تک جانے کا کرایہ لیکر خاموشی سے میانوالی واپس
آگیا۔ تمام دن یہی سوچتا رہا اس قتل کے کیس میں کہیں میرا نام نہ آ جائے۔ میں مطمئن تھا کہ میرے لباس میں کوئی ایسی چیز نہیں
جس سے میری پہچان ہو سکے۔ سوائے اس چوکیدار کے۔ چوکیدار کو میرا چہرا ضرور یاد ہوگا۔‘‘

آقاقافا یہاں تک پہنچا تھا کہ بھاگتا ہوا ورما لیونگ روم داخل ہوا اور چیخ چیخ کر آقا قافا سے کہنے لگا

’’مجھے بچا لیجئے مجھے بچا لیجئے‘‘

اور کارپٹ پر گرپڑا آقا قافا اس کے قریب آئے اس کے چاروں طرف انگلی سے ایک لکیر کھینچ دی لکیر مکمل ہوتے ہی ورما اٹھ کر
بیٹھ گیا اور کاریٹ سے اٹھ کر کرسی پر بیٹھنے کیلئے کرسی کی طرف بڑھنے لگا ہی تھا تو آقا قافا نے کہا

’’وہیں رہو کارپٹ پر بیٹھے رہو۔تمہیں سزا دی گئی ہے ۔کیا وہ سبز کپڑا تمہارے پاس ہے ‘‘
ورما نے کہا

’’نہیںنہیں ہے‘‘

آقا قافا یہ سن کر اندر چلا گیا اورایک مورتی لا کر ورما کو دیتے ہوئے کہا

’’ اس کو اپنے تمام بدن پر اچھی طرح پھیرتے رہوابھی سب اثر ذائل ہوجائے گا۔‘‘

ورما نے جیسے وہ مورتی بدن پر پھیرنی شروع کی اس کی حالت بہتر ہوتی گئی تھوڑی دیر بعد وہ ایک کرسی پر بیٹھ کر آقا قافا کو اپنی کہانی
سنا رہا تھا مجلس ختم کردی گئی تھی وہاں صرف میں، سائیکی اور آقاقافا موجود تھے ۔ورما کہہ رہا تھا

’’میں اسی رات یہاں سے سید ھا سادھو بابا کے پاس گیا تھا انہوں نے جاتے ہی مجھ سے وہ سبز کپڑالے کر آگ میں پھینک دیا اور کہا


’’یہ شہر چھوڑ دو اگر اب تم کبھی اپنے پارٹنر آقا قافا سے ملے تو میں تمہیں سزا سے نہیں بچاسکوں گا ۔میں نے رحم کی درخواست کی
مگر وہ یہ جملہ کہتے ہی غائب ہو گئے ۔ آج صبح میری ملاقات جب منصور سے ہوئی تو مجھے خیال آیا کہ سادھو بابا اسے ہی آقا قافا قرارد
یتے ہیں ۔ اور میری تو اس سے ملاقات ہوگئی ہے ۔ میں پھر سادھو بابا کے پاس چلا گیا وہ وہاں نہیں تھے میں ان کے انتظار میں کئی
گھنٹے انہی کے کمرے میں بیٹھا رہا اور جیسے ہی مایوس ہو کر وہاں سے نکلا تو مجھے محسوس ہونے لگا کہ مجھے کچھ ہونے لگا ہے ۔میرے
تمام جسم میں سوئیاں چبھ رہی ہیں۔اور مجھے سادھو بابا کی آواز سنائی دی تم نے میرا کہنا نہیں مانا ۔اب میں تمہیں سزا نہیں بچا سکتا
۔میں نے یہ جملہ سنتے ہی کار آپ کے گھر کی طرف موڑدی ۔میں نہیں بتا سکتا کہ میں یہاں تک کیسے پہنچا ہوں۔ مگر مجھے اس بات پر
بڑی حیرت ہوئی ہے کہ آپ مسلمان ہیں مگر آپ نے مجھے جسم پر پھیرنے کیلئے ایک مورتی دی جب کہ آپ کے نزدیک یہ شرک ہے ‘‘
آقا قافا بولے ’

’وہ مورتی مٹی کی ایک مورتی ہے اس میں کوئی کمال موجود نہیں۔میںنے اس پر چند آیتیں پڑھ کر پھونکی ہیں اور اسے دوا کے طور پر
استعمال کیا ہے بالکل اسی طرح جب جسم میں کہیں درد ہو تو کسی پتھر کو گرم کرکے اس سے لوگ ٹکور کرتے ہیں تو درد میں افاقہ ہو
جاتا ہے ۔اس کیلئے مورتی کا استعمال اس لئے کیا ہے کہ تم نظریاتی اعتبار سے ہندو ہو اور علاج میں یقین کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔‘‘
ورما نے پو چھا ’’
مگر اب کیا ہو گا‘‘
آقا قافا بولے
’’جب تک یہ مورتی تمہارے پاس رہے گی سادھو بابا کی روحانی قوتیں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی ‘‘
سائیکی بولی
’’کیا سادھو بابا کی قوت کو بھی روحانی قوت کہیں گے۔‘‘
آقا قافا کہنے لگے ’
’تمہارے لئے سادھو بابا کی قوت شیطانی قوت ہے مگر ورماکیلئے وہ روحانی قوت ہے ۔میں ذاتی طور پر خیر اور شرکے فرق کو کچھ زیادہ
اہمیت نہیں دیتاکیونکہ دونوں کا بنیادی ماخذ ایک ہے ۔اور میںاس ایک وحدت کا پجاری ہوں۔جس کے سوا اور کسی شے کاوجود
نہیں ہے اس وحدت کی کثرت میں خیر بھی ہے اور شر بھی ۔ دوزخ اور جنت بھی ۔دن اور رات بھی ۔عدم اور وجود بھی ۔آدم اور
ابلیس بھی ۔کوئی شے بھی اس وحدت سے الگ نہیں لیکن کثرت کے کسی جلوے کو اس وحدت کامکمل اظہار نہیں کہا جاسکتا۔اسی
لئے ایک جلوے کی عبادت حرام قرار دی گئی ہے۔‘‘
ورما نے پوچھا

’’آپ کیسے سادھو بابا کی قوتوں کو شیطانی ثابت کرتے ہیں میں اس بات کو سمجھنا چاہتا ہوں۔‘‘
آقاقافا بولے

’’سنو میں آج تمہیں تمہارے سادھو بابا کی کہانی سنا تا ہے ۔سادھو بابا بنیادی طور پر کان کن تھے نمک کی کان میں مزدوری کرتے
تھے اور ایک شوہر کی طرح زندگی گزار رہے تھے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی لیکن بیوی بہت زیادہ خوبصورت تھی اتنی خوبصورت
کہ اس کے حسن کا دور دور تک چرچا تھا آج کے یہ سادھو بابا بھی اس سے ٹوٹ کر محبت کرتے تھے ان کی زندگی میں بس ایک شے
تھی اور وہ ان کی بیوی تھی مگر افسوس کہ بدقسمتی ان کی بیوی کے چال چلن اچھے نہیں تھا اس نے کئی اور لوگوں کے ساتھ بھی ناجائز
مراسم قائم کر رکھے تھے ۔ تمہارے سادھو بابا کے خیرخواہ اسے بناتے رہتے تھے مگر انہیں اپنی بیوی پر اندھا اعتقاد تھا وہ بتانے
والے کے دشمن ہو جاتے تھے مگر بیوی کو کوئی بات نہیں کہتے تھے ایک دن اتفاق سے انہوں نے خود اپنی بیوی کسی اور ساتھ حالتِ
مباشرت میں دیکھ لیا جس کا پتہ ان کی بیوی کو نہیں چل سکا تھا ۔انہوں نے ایک دو دن کچھ سوچا اور پھر بیوی کو کہا کہ آوٴگھومنے
پھرنے چلتے ہیں یہ لوگ دریا کے کنارے ایک قصبے میں رہتے تھے نمک کی کانیں دریا کے دوسری سمت تھیں اور ادھر جانے کیلئے
کشتی سے دریا عبور کرنا پڑتا تھا۔نمک لانے کیلئے دریا کے اوپر ’’روب وے‘‘ لگی ہوئی تھی۔وہ بیوی کو لے کر کشتی میں بیٹھ گئے

۔بیوی نے اسے کہا’’کیا بات ہے آج یہ دریا بہت خاموش ہے‘‘تو سادھو بابا کہنے لگے ’جب یہ بولتا ہے توپھر لیکھوں والے ہی
دوسرے کنارے تک پہنچتے ہیں‘۔ بیوی نے کہا ’’ مجھے لگ رہا ہے یہ سورج نمک کی کان میں اتر جا،ے گا اسے بھی شاید نمک کی
بھینٹ چڑھنے کیلئے اتارا جا رہاہے ‘‘ تو سادھو بابا نے حیرت اور پر یشانی سے کہا کہ ’’تم کچھ پریشان لگتی ہو ‘‘ان کی بیوی بھی بڑی
سمجھدار تھی کہنے لگی ’’نہیں نہیںبس سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ نمک میں مٹھاس کس حدتک ہے‘‘سادھو بابا نے حیرت
سے پوچھا’’نمک میں مٹھاس‘‘وہ کہنے لگی ’’ہاں نمک میں مٹھاس ۔۔ہڈیوں کو چاٹ جاتی ہے جس نمک کی مٹھاس ۔اور پھر وہ

دوسرے کنارے پر اتر گئے۔ شام کا وقت تھا سورج ڈوبنے والا تھا وہ اپنی بیوی کے ساتھ غار میں داخل ہوے ۔اورپھر بڑی محبت
اور احتیاط سے بیوی کا دوپٹہ اس کے گلے میں ڈال کر اسے قتل کر دیا ۔یعنی دریا پار کرتے ہی بیوی زندگی کے اس پار چلی گئی سادھو
باباکافی دیر تک اس کی لاش سے وہیں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے ۔ رات ہوئی تو انہوں نے لاش کاندھے پر اٹھا ئی اور چلتے ہوئے نمک
کے کان میں داخل ہوئے۔رات کے وقت وہاں کوئی بھی نہیںہوتا تھا۔کسی کو خبر بھی نہ ہوئی اور وہ لاش اٹھا کر کان ایک ایسے
حصے میں چلے گئے جہاںجانا ممنوع تھا اس جگہ پر باقاعدہ بورڈ آویزاں کیا ہوا تھا کہ کان کا وہ حصہ کسی وقت بھی گر سکتا ہے۔انہوں
نے اندر جا کر لاش ایک جگہ پر لٹا دی اور پھر اس کے جاروں طرف شیشے کی طرح شفاف نمک کی پلیٹیں رکھ دیںاور اوپر سے بھی
نمک کی ایک بالکل شفاف پلیٹ سے ڈھانپ دیا ۔اب تمہارے بابا یہ معمول بن گیاکہ روز صبح آتے تھے اور کان کے اسی حصے میں
چلے جاتے تھے ۔وہاں اپنی مقتول محبوبہ سے گھنٹوں باتیں کرتے رہتے تھے۔کوئی اور خوف کی وجہ سے ادھر جاتا نہیں تھا کیونکہ وہ
حصہ واقعی بہت خطرناک تھے بہت سے دوستوں نے سادھو بابا کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ باز نہ آئے اور پھر ایک دن وہی ہوا
جس کا ڈر تھا سادھو بابا اندر تھے اور کان گرپڑی کوشش کی گئی کہ کسی طرح اس جگہ کو دوبارہ کھود کر ان کی لاش نکالی جائے اس
کوشش میں تقریبا اکتالیس دن صرف ہوئے ۔ کان کن جب حصے میں پہنچے تو انہوں یہ حیرت انگیز منظر دیکھاکہ تقریباً بارہ فٹ کا
علاقہ بالکل محفوظ ہے نمک کے شیشے کے جار میں سادھو بابا کی بیوی لیٹی ہوئی بالکل اسی طرح جیسے ابھی ابھی سوئی ہو اور اس کے
پاس سادھو بابا التی پالتی مار کر بیٹھے ہیں اور کچھ پڑھ رہے ہیں ۔ چالیس دن ہوا، پانی اور خوراک کے بغیر زندہ رہنے کی کرامت اتنی
بڑی شے تھی کہ لوگ ان کی بیوی کی لاش کو بھول گئے اورسادھو بابا کو دیوتا قرار دیا گیا ۔پھر سادھو بابا سچ مچ دیوتا بننے کیلئے ہمالیہ کے
ان پہاڑوں میں چلے گئے جہاں کچھ نسلیں صدیوں سے ہمیشہ زندہ رہنے کی کوشش کر رہی ہیں اور زیادہ سے زیادہ غیر مرئی قوتوں کا حصولان کی زندگی کا مرکز و محور بن گیا۔یہ ہے تیرے سادھو بابا کی کہانی۔۔۔
ورما بولا ’’
مگر انہوں نے اپنی بیوی قتل تو ٹھیک تھا وہ بری عورت تھی ‘‘
۔آقاقافا کہنے لگے
’’یہ تواپنے اپنے حالات کے تناظر میں اپنے اپنے قوانین کی بات ہے مگر کہیں بھی فرد کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘‘
ورمانے پوچھا
’’یہ کہانی آپ کو خود سادھو بابا نے سنائی ہے ‘‘
تو آقا قافا بولے
’نہیںکچھ سادھو بابا کے ایک پرانے دوست نے اور کچھ ان کی بیوی نے ‘‘
ورما نے حیرت سے کہا
’’مرنے کے بعد ‘‘
توآقاقافا ہنس پڑے اور کہنے لگے ’
’’یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم روحوں کو بلا کر ان سے گفتگو کرنے کے تجربے کیا کرتے تھے ‘‘
سائیکی بولی ’’
’’آپ روحوں کو بھی بلا سکتے ہیں ؟ میری خواہش ہے کہ میں اپنے باپ کی روح سے بات کروں ‘‘
آقا قافا سنجیدگی سے کہنے لگے
’’ ان کے قتل کے متعلق تمہیں جو کچھ علم ہے وہی سچ ہے روحوں کو بلانا کوئی اچھا عمل نہیں‘‘ ۔
وہاں سے نکلتے ہی میں نے سائیکی سے پوچھا
’’تمہارے باپ کو کسی نے قتل کیا تھا ‘‘
سائیکی ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا
’’ہاں ان کے سگے بھائی نے ‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا
’’کیوں‘‘
بولی
’’بہت لمبی کہانی ہے چند جملوں میں مکمل نہیں ہو سکتی‘‘
اب سائیکی بھی مجھے پریشان کرنے لگی تھی ایک تو میں کئی دنوں سے یہ معلوم کرنا چاہ رہا تھا کہ آقا قافا کا یہ میشن کہاں سے آیا ہے
۔وہ اس کے اخراجات کیسے پورے کرتے ہیں بجلی اور گیس بل کون دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔سائیکی یہ تسلیم کرتی تھی کہ ان سب

سوالوں کے جواب اس کے پاس ہیں مگر میںجب بھی پوچھتا تھا بات گول کر جاتی تھی آج اس کے متعلق ایک نئی بات کی خبر مجھے
مجبوری کر رہی تھی کہ کہیںسے سائیکی کی مکمل ہسٹری شیٹ حاصل کی جائے کہ یہ کیاچیز ہے مجھے صرف اتنا معلوم تھا کہ اس کے
ماں باپ کے ساتھ جو فوت ہو چکے ہیں اس لئے اکیلی رہتی ہے اور ابھی تک اس نے شادی نہیں کی۔ میں نے سائیکی سے کہا

’’ آج تمہیں بتاناہو گا کہ جس مینشن میں آقا فاقا رہتے ہیں ۔یہ کہاں سے آیا ہے ۔ان کے اخراجات کہاں سے آتے ہیں۔’’
سائیکی بولی

’’بتائوں گی مگر پھر کسی وقت۔
میں نے بضد ہو کر کہا۔‘
‘آج تم مجھے یہ بتائے بغیر یہاں سے جا نہیں سکتی‘‘
سائیکی ماتھے پر شکنیں ڈال کر کہنے لگی
’’بڑی طویل کہانی ہے سنانی شروع کی تو ختم نہیں ہوگی‘‘
میں نے کہا
’’جو کچھ بھی ہے میں نے معلوم کرنا ہے ۔‘‘
سائیکی بولی

’’وہ مینشن میرا ہے اور ان کے تمام اخراجات میں برداشت کرتی ہوں﴿میرا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا﴾۔اب یہ پوچھو کہ میں کون ہوں‘‘
میں نے انتہائی پریشانی کے عالم میں کہا

’’اب اگر تم اپنے بارے میں سب کچھ سچ سچ نہیں بتائو گی تو ہمارے درمیان جواعتماد کی فضا ہے شاید وہ مجروح ہو جائے ‘‘
سائیکی ہنس کربولی
’’اتنا زیادہ سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔ میرا خاندانی نام نور ہے اور میں نواب آف دھن کوٹ کی اکلوتی وارث ہوں‘‘اور پھر بڑبڑاتے ہوئے ’’پتہ نہیںتم سے کیا تعلق ہے نو ر بھی منصور کا ہی حصہ ہے‘‘
میں نے کہا
’’نوابزادی صاحبہ میں کسی مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں ‘‘
سائیکی بولی
’’میں جارہی ہوں جب تک مجھ پرآقا قافا اور تمہاری کہانی واضح نہیں ہوتی میں اپنے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتی‘‘

اورپھر سائیکی چلی گئی میں نے کچھ دیر سوچا اور پھر اپنے دوست رضا ملال کو فون کیا ۔رضاملال نے جب مجھے لیڈز یونیورسٹی میںلیکچر
کیلئے بلایا تھا تو وہاں سائیکی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی ۔ اور سائیکی نے اس بات کا بھی اقرار کیا تھا کہ رضا ملال نے اس کے کہنے پر

مجھے یونیورسٹی میں دعوت دی تھی میں نے رضا ملال سے پوچھا کہ سائیکی کے ماضی کے متعلق مجھے کہاں تفصیل مل سکتی ہے تواس
نے ایک بات بتا کر مسئلہ حل کر دیا اس نے بتایا کہ سائیکی نے اپنے جو ڈرامہ سریل کے سکرپٹ کسی زمانے میں مجھے پڑھنے کیلئے
دئیے تھے وہ اس کی زندگی کی کہانی پرمشتمل ہیں اس میں کوئی کردار خیالی نہیںہے۔ ان کا ایک ایک لفظ سچ ہے۔میں نے وہ
سکرپٹ پہلے نہیںپڑھے تھے مگر وہ میرے پاس کہیں موجود ضرور تھے ایک گھنٹے کی مسلسل کے بعد میں نے وہ سکرپٹ ڈھونڈھ لئے اور سب کچھ بھول کر انہیں پڑھنے لگا ۔