ناویں مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول


تکون کی مجلس


﴿نگارِ خانہ ئ جاں میں رنگوں کی برسات ہوئی۔بے چہرگی ئ وقت پہ خد و خال ابھرتے چلے گئے۔ایک اور خوابیدہ کہانی کی آنکھ
کھلی۔نا معلوم سے کچھ کردار قریہ ئ معلوم میں آئے۔سوچ کی ایک اور آویزش کے زیر و بم جاگے۔کوہِ سرخ کا پہاڑی سلسلہ اور
دریائے سندھ ایک اکیلے آنسو میں ڈوب گئے۔کمپیوٹر کی ونڈو سے ایک نازک اندام لڑکی نے پانچ ہزار میل لمبی چھلانگ لگائی
اورگٹار کے تار ٹوٹ گئے۔حقیقت نے ایک ڈرامہ سریل کالمبا فرغل پہن لیا۔﴾


ناویں مجلس


سین نمبر 1

با بر کے آرٹسٹک بنگلوکا سٹڈی روم۔ ایک طرف ایک چاندی جیسے رنگ کی ایک شیلف پڑی ہے جس میں کتابیں ہیں۔اس کے
ساتھ اسی رنگ کی مہیں سی کمپیوٹر ٹیبل پڑی ہے جو تقریباً اسی فیصد بلور کی بنی ہوئی ہے۔اس کے اوپر ایپل کا بڑا نفیس سا کمپیو ٹر سجا
ہوا ہے۔ساتھ والی دیوار پر ایک لائن میں سات تکونی فریم لگے ہوئے ہیں ۔پہلے فریم بابر عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے دوسرے
فریم میں وسیم اکرم کے ساتھ اس کی تصویر ہے تیسرے فریم میں جاوید میاں داد کے ساتھ موجود ہے چوتھے فریم میںٹنڈولکر
کے ساتھ اس کی تصویر ہے چھٹے فریم میںشین وارن اور بابر کی تصویر ہے۔ ساتویں فریم میں بیٹنگ کرتے ہوئے بابر کی تصویر ہے
۔اس کے سامنے والی دیوار پر تقریباًاٹھ فٹ لمبا اور چار فٹ چوڑا پین بورڈ لگا ہوا ہے۔اس پر لگے ہوئے کپڑے کا رنگ دیواروں
کے کلر کی مناسبت سے گہرا نیلا ہے۔اس بورڈ پر ایک ہی لڑکی بے شمار تصویریں پنوں کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔بابر کمپیوٹر ٹیبل کے
سامنے پڑی ہوئی بغیر بازووں والی وائٹ چیئر پر بیٹھا ہوا نور کی تصویر کا پرنٹ نکال رہا ہے۔تصویر پرنٹ ہوتی ہے بابراٹھ کر نور کی
ایک اورتصویر بورڈ پرلگادیتا ہے۔ پرنٹر سے پھرتصویر نکلنی ہے بابر پھر اسے بورڈ پر پن کے ساتھ آویزاں کرتا ہے۔،بابر نور کی
اتنی تصویریں بورڈ پر لگاتاہے کہ نور کی آخری تصویرلگانے کیلئے بورڈ پر جگہ نہیں بچتی۔بابر اسے کمرے کے درمیان میں پڑی ہوئی
ٹرالی پر رکھ دیتاہے جس پر کھانے پینے کی کچھ اشیا پڑی ہوتی ہیں۔کمرے کے ایک کونے میں گٹار بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا ہوتا
ہے بابر گٹار اٹھاتا ہے اور اس پر سمفنی کی کوئی ملول سی دھن چھیڑنے لگتا ہے۔ کھڑکی کے باہر دریا کا منظر دکھائی دے رہا ہے ۔وہ
گٹار سے الیکٹرک تار علیحدہ کرتا ہے اور گٹار لے کر گھر سے باہر نکل آتا ہے سردیوں کا موسم ہے ۔ دریا جس کی چوڑائی بیس بائیس
فٹ سے زیادہ نہیںاس کاپانی تقریباً جما ہوا ہے وہ اس کے کنارے ایک خزاں زدہ درخت کے پاس کھڑا ہو کر گٹا ر بجانے لگتا ہے۔

سین نمبر 2

سہ پہرکا وقت ہے۔ پاکستان میں نور محل کے ایک کمرے میںنور اور اسکی ملازمہ صفیہ موجود ہیں۔اٹھارہ سالہ نور کمپیوٹر ٹیبل پر
بیٹھی ہوئی ہے ۔کمپیوٹر کی سکرین پر بابر کرکٹ کھیلتا ہوا نظر آرہا ہے۔ بابر ایک زور دار چھکا مار تاہے اورنور کے چہرے پر
مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔بابر ایک اور چھکا مارتا ہے۔گیند سٹیدیم کی دیواروں سے باہر جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔نور کمپیوٹر کو
کوئی کمانڈ دیتی ہے اور کمپیوٹر کی سکرین پر بابر کاایک چھکا مسلسل چلنے لگتا ہے۔نور بہت خوش نظر آ رہی ہے۔ صفیہ کمرے کے
اندر داخل ہوتی ہے اور چلتی ہوئی نور کی بیک پر آ کھڑی ہوکرکہتی ہے
صفیہ۔ ’’چھوٹی مالکن۔ آپ یہ چھکے والا شارٹ باربار کیوں دیکھتی ہیں؟‘‘
نور : ’’دیکھتی نہیں ہو۔گیند سٹیڈیم کی اتنی اونچی فصیلوں سے باہر جا گرا ہے۔‘‘
صفیہ:’’ ہاں چھوٹی مالکن۔ اونچی فصیلوں سے باہر نکلنا کوئی آسان کام تو نہیں۔‘‘
نور : ’’فصیلیں جتنی بھی اونچی ہوں صفیہ ۔ارادوں سے اونچی تو نہیں ہو سکتیں۔‘‘
صفیہ: ’’مگر وہ بھی تو فصیلیں اور اونچی کرتی جا رہے ہیں۔‘‘
نور : ’’اسی لیے تو مجھے یقین ہوتا جا رہا ہےù مرے باپ کا قاتل۔۔۔نواب سکندر حیات ہے‘‘
صفیہ:’’بھائی کو بھائی کیسے مار سکتا ہے؟ چھوٹی مالکن‘‘
نور :’’ اقتدار کے لیے آدمی کچھ بھی کر سکتا ہے۔‘‘
صفیہ: ’’بھائی کو بھی مار سکتا ہے؟‘‘
نور: ’’بابا کہا کرتے تھے زن زر اور زمین کے لئے قتل کر نا ہماری روایت میں شامل ہے ۔آج دیکھ لو ساری جاگیرپر کس کا قبضہ ہے؟‘‘

سین نمبر 3:
ایک اڑھائی فٹ کی ریلوے لائن پر چھوٹی ریل گاڑی آہستہ آہستہ چل رہی ہے۔ ریل گاڑی کے ڈبے مسافروں سے بھرے
ہوئے ہیں ۔اس ریل گاڑی دریا سندھ کے ایک پل سے گزرنا ہے ۔اس پل سے ریل گاڑی بھی گزرتی ہیں اور دوسری ٹریفک یعنی
کاریں اور بسیں بھی گرزتی ہیں ۔ جیسے ہی ریل گاڑی پل کے قریب پہنچتی ہے تو دھن کوٹ اسٹیٹ کے سپاہی ریل گاڑی کو سرخ
جھنڈی لہرا کر روک دیتے ہیں ۔ ڈرائیور ریل گاڑی روک کر نیچے اتر آتا ہے اور پوچھتا ہے
ڈرائیور۔’’ پل تو خالی پڑا ہے ‘‘
سپاہی ۔’’ نواب صاحب کی گاڑی آنے والی ہے ‘‘
ڈرائیور چپ ہو جاتا ہے چند منٹوں بعد نواب صاحب کی لینڈکروز آتی ہے جس کے آگے بھی ڈھن کوٹ اسٹیٹ کی دو جیپیں
سپاہیوں سے بھری ہوئی ہیںاور دوجیپیں پیچھے ۔جب یہ کارواں گزر جاتا ہے تو ریل گاڑی پل سے گزرنے کی اجازت ملتی ہے دریا ئے سندھ کے کنارے نورمحل کا مین گیٹùگیٹ کے باہربھی بیئرر لگا ہوا ہے۔ بہت سے سپاہی کلاشن کوفیں اٹھائے ہوئے
کھڑے ہیں۔ ایک لینڈ کروزر آتی ہے اور گیٹ کے اندر داخل ہو جاتی ہے۔ لینڈ کروز کے باہرایک طرف پوری سائیڈ پرانگریزی
زبان میں لکھا ہے ۔سٹیٹ آف دھن کوٹ۔سپاہیوں نے جو وردی پر بھی سیٹیٹ آف دھن کو ٹ پرنٹ موجود ہے ہر سپاہی نے
سٹیٹ کا مخصوص بیج بھی لگا رکھا ہے۔ لینڈ کروزر کے پچھلی سیٹ پر نواب سکندر حیات بیٹھا ہوا ہے ۔ گیٹ کے اندربھی ہر چھ فٹ
کے فاصلے پر ایک کلاشن کوف بردار موجود ہے ۔لینڈ کروز محل کے اندر کافی دیر تک چلنے کے بعد ایک جگہ رکتی ہے۔سٹیٹ کا
مینجر گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے نواب سکندر حیات نیچے پائوں رکھتا ہے نیچے ریڈ کارپٹ بچھا ہوا ہے نواب صاحب اس پر چلتے ہوئے
محل کی عمارت کی طرف بڑھتے ہیں۔ نواب سکندر حیات ایک دروازے پر پہنچتا ہے دو سپاہی دروازے کے کواڑ کھولتے ہیں وہ
داخل ہوتا ہے اور پھردروازہ بند ہو جاتا ہے۔ کمرے اند رسٹیج جس پر کسی والِی ریاست کی کرسی پڑی ہوئی ہے۔ نواب سکندرحیات
ان ہوتا ہے اور کرسی پر بیٹھ جاتا ہے اس کے دونوں ہاتھ کرسی کے بازئووں کو مظبوطی کے ساتھ پکڑ لیتے ہیں۔ بازئووں کے نیچے
کرسی دکھائی نہیں دے رہی۔ ایک ملازمہ اند ر آتی ہے سر جھکا کر سلام کرتی ہیں اور کہتی ہے۔
﴿ملازمہ﴾: ’’چھوٹی مالکن آپ سے ملنے کی اجازت چاہتی ہیں‘‘
نواب سکندر حیات کے ماتھے پر شکنیں پڑتی چلی جاتی ہیں۔ کرسی کے بازئووں پر ہاتھوں کی گرفت میںسختی بڑھ رہی ہے۔
ملازمہ دروازہ کھولتی ہے اور پیچھے ہٹتے ہوئے اشارے سے دروازے سے ادھر کھڑی نور کو احترام سے اندر آنے کا کہتی ہےù
نور اندر داخل ہوتی ہے ملازمہ دروازے سے باہر نکل جاتی ہے اور دروازہ بند ہو جاتا ہے۔نواب سکندر حیات ترچھی اور سوالیہ
نظروں سے نور کو دیکھ رہا ہے۔نور سکندر حیات سے کہتی ہے
﴿نور﴾:’’میں اپنے بابا کی قبر پر جانا چاہتی ہوں۔‘‘
نواب سکندر حیات دونوں ہاتھوں سے کرسی کے بارو بھینچتے ہوئے تھوڑا سا آگے ہو کر کہتا ہے
﴿نواب﴾: ’’قبر پر جانے کی اجازت ہےù کل چلی جانا۔‘‘
﴿نور جہاں﴾: ’’آج کیوں نہیں؟‘‘
﴿نواب سکندر حیات﴾: ’’کہہ جو دیا ہےù کل چلی جانا‘‘
﴿نور ۔﴾:’’ میں یہ پوچھ سکتی ہوں ù مجھ پر پابندیاں کیوں بڑھا دی گئی ہیں ù بابا نے زندگی بھر محل سے باہر قدم نہیں رکھنے دیا اور آپ بابا کی قبر تک نہیں جانے دیتے۔‘‘
﴿نواب سکند ر حیات﴾: ’’میں نے تم سے کہا ہے ù تم مرے بیٹے سے شادی کر لوù عامر حیات سے شادی کے بعد سب پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔‘‘
نور یہ کہتے ہوئے دروازہ کھولتی ہےù باہر نکل جاتی ہے
﴿نور ۔﴾: ’’میں پہلے کہہ چکی ہوں ù مرے لئے یہ ممکن نہیں۔‘‘

سین 4

نور محل کے اندر شام کے وقت گھوم رہی ہے ۔وہ افسردہ افسردہ ایک بڑی فصیل کی طرف دیکھتی ہوئی چل رہی ہے
ایک دروازے کے بڑے تالے کو غور سے دیکھتی ہے ۔ دروازے پر کھڑے سپاہی اسے سلام کر کے ایک طرف ہو گئے
ہیں۔نورایک جگہ سیڑھیوں سے نیچے آ رہی ہیں ایسے لگ رہا ہے جیسے پاتال میں اتر رہی ہو۔وہ فصیلوں کے اوپر کھڑے پہرے
داروں کی طرف دیکھتی ہے۔وہ فصیل کے ساتھ چلتے چلتے دریا کے کنارے پر آجاتی ہے اس محل کے تین میں دیواریں ہیں اور
ایک طرف دریا ۔۔محل بناتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ دریا سے فصیل کا کام لیا جائے ۔دریا کے کنارے پر بہت
خوبصورت لان بنا ہوا ہے کرسیاں بھی بڑی ہیں لان کے آگے دریا میں سیڑھیاں اتر رہی ہیں ۔تین لانچیں بھی کھڑی ہیں اور
پہرے دار بھی موجود ہیں ۔ہر طرف عجیب سی اداسی پھیلی ہوئی ہے۔کسی چیز کے چہرے پر بھی مسکراہٹ نہیں ہے۔درختوں
سے لے کر پہرے داروں تک ہر کوئی غم زدہ دکھائی دے رہا ہے۔
نور دریا میں ڈوبتے ہوئے سورج کی طرف دیکھتی ہے جس کی شعاعیں ایک چاندی کی کونج کی رنگت سونے میں بدل رہی ہیں۔دریا
کے کنارے کچھ اسٹریلین نسل کے سفید مور اورسیاہ رنگ کے دھن کوٹی مور بھی پھر رہے ہیں ۔کچھ اور پرندے بھی موجود ہیں
۔کچھ دیر وہاںگھوم پھر کر نور واپس اپنے کمرے میں آتی ہے اورکمپیوٹر کے سامنے پڑی ہوئی کرسی پر ڈھیر ہوجاتی ہے۔ کمپیوٹر کی
طرف دیکھتی ہے ۔۔پھر بے جان ہاتھ سے اسی طرح پڑے پڑے کمپیوٹر آن کرتی ہے۔۔ کمپیوٹرکی سکرین پر ایک بندکھڑکی نظر
آتی ہے۔ یہ کھڑکی انہی کھڑکیوں کی طرح ہے جیسے محل کی کھڑکیاں ہیں۔۔ سکرین پر موجود کھڑکی کلوز شارٹ میں کھلتی ہے۔اور
نور کے مرجھائے ہوئے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔پھر سکرین پربابرچھکا مارتے ہوئے نظر آتا ہے نور کے
چہرے پر تھوڑی سی رونق بحال ہوتی ہے۔اور پھرسکرین پر سٹیڈیم کی فصیلوں سے اوپر جاتی ہوئی گیند کا شارٹ نظر آتا ہے ۔ہوا میںاڑتی ہوئی گیند دکھائی دیتی ہے۔

سین نمبر 5

اڑتی ہوئی گیند نٹ میں جا کر گرتی ہے۔لیڈز کرکٹ گراونڈمیں با بر پریکٹس کر رہا ہے۔بالکل ایک کار آکر کھڑی ہو جاتی ہے۔بابر
کار کی طرف دیکھتا ہے اور پھر کھیلنے لگتا ہے۔کار میں بیٹھی ہوئی صوفیہ کچھ دیر کے بعداپنی گھڑی پر ٹائم دیکھتی ہے۔بابر کھیلتا رہتا ہے
اور صوفیہ کی جھنجھلا ہٹ بڑھنے لگتی ہے۔ صوفیہ کی جھنجھلاہٹ اور زیادہ بڑھتی ہے۔ اور وہ کار کا دروازے کھول باہر نکل آتی ہے۔
بابراسے کار سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ کرکھیل چھوڑ دیتا ہے صوفیہ واپس کار کے اندر بیٹھ جاتی ہے۔بابر آتا ہے اور کار میں بیٹھ جاتا
ہے۔ صوفیہ ناراض نظروں ذرا سا بابر کی طرف دیکھتی ہے۔اور بابر بڑے میٹھے لہجے میں صوفیہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے۔
﴿بابر﴾:’’آپ کا چہرہ مجھے بتا رہا ہے۔I am only 3 minute late
آپ لوگ کس قدر ٹائم کا نسش ہوù مجھے تو یوں لگتا ہےù جیسے ہر انگریز کے چہرے پر ایک ٹائم پیس لگی ہوئی ہے۔ جو وقت بتاتی رہتی ہے۔‘‘
صوفیہ ذرا سے تیز لہجے میں کہتی ہے۔
﴿صوفیہ﴾: ’’تم تھری نہیں ù پورے فائیو منٹس لیٹ ہو۔‘‘
بابر ù ہنس کر کہتاہے۔
﴿بابر﴾: ’’نو۔۔اونلی ٹو منٹس‘‘
﴿صوفیہ﴾:’’ ٹو منٹس لیٹ ہونے سے آدمی صدیوں پیچھے رہ سکتا ہے۔‘‘
کار چل پڑتی ہے صوفیہ کو شیشے میں پیچھے خالی سڑک دور تک نظر آتی ہے۔بابر کہتا ہے
بابر ۔ ’’پیچھے کیا دیکھ کر رہی ہو۔ آگے دیکھو‘‘
﴿صوفیہ﴾: بابر کی طرف دیکھتے ہوئے ﴾’’تم جانتے ہو میں مشرق کے فلاسفی آف لو پر تھیسز لکھ رہی ہوںù تم دو منٹ کی
بات کر رہے ہو نا۔مجھے بتائو اگرہیر دو منٹ لیٹ پہنچتی تو رانجھا جا چکا ہوتا اور انکی ملاقات کبھی نہ ہوتی تو آج رومانی داستانوں میں ہیر
رانجھے کا کوئی قصہ نہ ہوتا۔تم دو منٹ کی بات کرتے ہوناù تو یہ بتائوù سوہنی کے کچے گھڑے کو ٹوٹنے میں کتنے منٹ لگے تھےù دو ہی منٹ لگے تھے نا؟‘‘
بابر:’’تمہارے گرینڈ ڈیڈ پتہ نہیں کیا کیا الٹی باتیں تمہیں بتا تے رہتے ہیں‘‘
صوفیہ:’’ الٹی نہیں وہ صرف سیدھی باتیں بتاتے ہیں۔ اس سڑک کی طرح سیدھی‘‘
کار کچھ دیر چلنے کے بعدآہستہ ہو جاتی ہے اور پھرصوفیہ یہ کہہ کربریک لگادیتی ہے۔
صوفیہ:۔’’کلب آ گیاہے۔‘‘

سین نمبر6

لیڈز میںبکی مسٹر کے کے کا آفس ۔مسٹر کے کے۔ جمی بیٹھے ہیں۔دفتر میں مختلف کمپیوٹر اورٹیلی ویژن آن ہیںجن کے اوپر مختلف
کرکٹ اور فٹبال کے میچ چل رہے ہیں ۔مسٹر کے کے ایک بڑی آفس ٹیبل کے پیچھے بیٹھا ہے اس کے سامنے آٹھù دس فون
پڑے ہیں۔ اس نے ایک فون ایک کان سی لگا رکھا ہے اوردوسرا فون دوسرے کان سے۔
شاٹ نمبر2۔ مڈ شاٹ میں سامنے رکھے ہوئے ٹیلی فون کے سپیکر پر کسی کو کہہ رہا ہے۔
﴿مسٹر کے کے﴾: ون ایٹ آسٹریلیا۔﴿اور پھر دوسرے فون پر﴾۔ ون فور۔ ویسٹ انڈیز۔
اور پھر تیسرے فون کی گھنٹی بچتی ہے۔اسے دکھاتا ہے کان سے لگاتا ہے اور اسے رکھتے ہوئے ù جمی سے کہتا ہے۔
﴿مسٹر کے کے﴾ù لنکا شائر اور سرے کے درمیان ہونے والے میچ کی ڈیٹ فکس ہو گئی ہے۔
﴿جمی﴾:﴿ چونک کر ﴾یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہیں۔پچھلی بار اس میچ میں چیلنجز کا نقصان ہوا تھا۔
﴿مسٹر کے کے﴾ : اب کے بار یہ نیوز اچھی ہونی چاہئیے۔
﴿جمی﴾:بابر کے ہوئے یہ نیوز اچھی نہیں ہو سکتی باس۔
مسٹر کے کے منہ بنا کر خود سے اور جمی دونوں سے مخاطب ہونے کا اندازمیں
﴿مسٹر کے کے﴾: مسٹر بابر از ریئلی ڈینجرس فار اس
﴿جمی﴾:: وہ ہے بھی تو آل رائونڈر۔
﴿مسٹر کے کے﴾:﴿معانی خیز مسکراہٹ کے ساتھ﴾۔ ہم بھی تو اپنے کام آل رائونڈر ہیں۔

سین نمبر 7

کمپیوٹر کی سکرین پر بابر کی تصویر کمپیوٹر سے کال ٹون آرہی ہیں اور نور ایک بٹن دبا کر کہتی ہے۔
﴿نور ۔﴾: ہیلو ہیلو
﴿بابر﴾: ﴿بابرکی آواز﴾ ہیلو ہیلو نور
﴿نور ۔﴾ : ہیلو بابر
بابر﴾: آپ مرے سامنے ہیں
﴿نور۔﴾:نہیںù میں ہزاروں میل دور ہوںù۔
﴿بابر﴾:مری طرف دیکھو
﴿نور ۔﴾: کہاں ہو تم
﴿بابر﴾: کہا ناù تمہارے سامنے
﴿نور ۔﴾: میرے سامنے تو ایک بے جان تصویر ہےù تم نے کہا ہے یہ تمہاری تصویر ہے۔
اور تصویر یںمجھے اچھی نہیں لگتیں ù سوائے اس تصویر کے جس میں تم ایک گیند کو اپنے بازئووں سے اونچی اونچی فصیلوں سے
باہر پھینک دیتے ہو۔
﴿بابر﴾: اسی گنبد کی طرح ایک دن تم انہی بازئووں کی طاقت سے اونچی اونچی فصیلوں سے اڑ کر مرے پاس پہنچ جائو گی۔
﴿نور ۔﴾: میں خواب نہیں دیکھتی
﴿بابر﴾: میں تو خواب ہی دیکھتا ہوں۔ تمہارے خواب۔
﴿نور ۔﴾ : میں دیواریں دیکھتی ہوں
﴿نور ۔ کی آواز﴾: بند دروازے ù اونچی فصیلیںù اندھیرے ù پہرے دارù کڑی نگرانیù بھلا خواب کیسے تعبیر
کی گلی کی طرف جا سکتے ہیں۔
﴿نور ۔﴾: ہیلوù تم دیکھ رہے ہو ù کہیں کوئی درز ù کوئی روشن دانù کوئی کھڑکی ù کوئی دروازہ بلکہ بابا کی قبر
تک۔۔۔۔
﴿ صفیہ آتی ہے اپنا ہاتھ نور کے کندھے پر رکھ دیتی ہےù اور نورکی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں۔﴾
﴿نور ۔﴾: صفیہ۔ دیکھنا۔۔یہ آنسو آنکھ سے گر نہ جائے۔
نور مڑ کر صفیہ کی طرف دیکھتی ہے صفیہ کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے ہیں نور کمپیوٹر آف کر دیتی ہے۔اور بابرآوازیں
دیتا رہ جاتا ہے۔ بابر مایوس ہو کرکمپیوٹر ٹیبل سے اٹھتا ہے تو اسکی نظر دانیال پر پڑتی ہے ۔ دانیال صوفے پر بیٹھا شراب پی رہا ہے وہ
کہتا ہے
﴿دانیال﴾: اور مرے دوستùجس طرح یہ حقیقت ہے کہ یہ گلاس مرے ہاتھ میں ہے اسی طرح یہ حقیقت ہے کہ تم جاگتے
میں خواب دیکھتے ہو۔ ۔پلیز صرف سوتے ہوئے خواب دیکھا کرو۔ورنہ برباد ہو جاوٴ گے
﴿بابر﴾: میں برباد ہو چکا ہوں ایک آواز اور ایک تصویر مجھے برباد کر دیا ہےù اب نہ میں سو سکتا ہوں اور نہ جاگ سکتا ہوں۔
بس ایک ہی چہرہ نظرآتا ہے۔ ہر چہر ے میں ایک ہی چہرہ ہے۔اور ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے ہر آواز میں
﴿دانیال﴾: اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔You must see Dr
اوردانیال تیزی سے گلاس خالی کرتا ہے اور بابر کو ایک تھپکی دے کرکمرے سے نکل جاتا ہے۔

سین نمبر 8

نور اور صفیہ نور کمرے میں موجود ہے دروازے پر ہلکی سی دستک ۔نور دروازے کی طرف مڑ کر دیکھتی ہے اور کہتی ہے
﴿نور ۔﴾:باہر کوئی ہے
﴿صفیہ دروازے کی طرف بڑھتی ہےù دروازہ کھلتا ہےù عامر حیات سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ صفیہ مڑ کر نور کی طرف دیکھتی
ہے اور پھر سر جھکا کر عامر حیات کے قریب سے گزر کر باہر نکل جاتی ہے۔ نورسوالیہ نظروں سے عامر کی طرف دیکھتی ہے عامر
کہتا ہے
﴿عامر حیات﴾: بابا نے کہا ہے!
نورعامر کا جملہ کاٹتے ہوئے﴾
﴿نور ۔﴾: یہی نا کہ آپ مجھے مرے بابا کی قبر تک لے جائیں۔
﴿عامر حیات﴾: آپ کی ذہانت کا تو میں ہمیشہ سے قائل ہوں۔
نور نے غصہ بھری نظروں سے عامر کو دیکھ کر کہا
﴿نور ۔﴾: آپ بھی کبھی ذہانت سے کام لے لیا کریں
﴿عامر حیات﴾: میں آپ کو لینے آیا تھا۔
﴿نور ۔﴾: میں آپ کے ساتھ نہیں جائوں گی۔
﴿عامر حیات﴾: میں دروازہ کھلا چھوڑ کر جا رہا ہوں۔
﴿اورعامر مڑ جاتا ہے وہ آہستہ آہستہ چل رہا ہے اور نور ۔ آہستہ آہستہ اس کے پیچھے چلتی ہوئی دروازے کے پاس آتی ہے اور
دروازے کواندر سے بند کر دیتی ہے۔

سین نمبر9


نواب سکندر حیات کے ڈرائنگ روم کا لانگ شاٹù ﴿ نواب بیٹھا ہوا ہے ùفون کی گھنٹی بجتی ہے ù نواب فون کا رسیور
اٹھاتا ہے۔دوسری طر ف سردارارباز خان کے ہاتھ میں فون ہے﴾

﴿ارباز خان﴾:مری آواز شاید اس وقت آپ نہ پہچان سکیں لیکن میرا نام آپ بھول نہیں سکتے ù سردار ارباز خان بول رہا ہوں
﴿نواب سکندر حیات﴾: لگتا ہے تمہارے آدمیوں نے تمہیں پورا واقعہ نہیں سنایا ان کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے اس کے بعد۔۔۔۔۔۔
ارباز خان جملہ کاٹتے ہوئے
میں نے اسی لئے کیا ہے کہ میرے آدمیوں کو کس جرم کی سزا دی گئی ہے میں نے تو اپنے بیٹے کے لئے تمہاری بھیجی نور کا رشتہ مانگا
ہے ۔تاکہ ہمارے درمیان تعلق اور زیادہ مضبوط ہو
سکندر حیات۔ اپنی گندی زبان سے میرت خاندان کی کسی بچی کا نہ لو۔ تمہیں ۔۔
پھر ارباز خان جملہ کاٹتے ہوئے کہا
﴿ارباز خان﴾: نواب سکندر حیات ۔پوری دنیا میں صرف میں ایک چشم دید گواہ ہوں ۔وہ تمہاری بھائی کی گولیوں سے چھلنی
لاش۔۔۔۔۔
﴿نواب سکندر حیات﴾: ایک نہیں گولیوں سے چھلنی دو لاشیںù تمہاری بیوی اپنے سہاگ کا ہی نہیںù اپنی جوان اولاد کا بھی
ماتم کرے گی۔
﴿رسیور سیٹ پر زورسے سیٹ کے اور دے مارتا ہے﴾
دوسری طرف ارباز خان اپنے بیٹے ایاز خان کو بلا کر کہتا ہے۔
﴿ارباز خان﴾:آج میں نے تم سے ایک بہت اہم بات کرنا ہے بیٹےù
﴿ایاز خان ﴾ سوالیہ نظروں سے باپ کو دیکھتا ہے
﴿ارباز خان﴾ محبت کا جواب نفرت سے دیا گیا ہےù دوستی دشمنی میں بدل گئی ہے۔
﴿ایاز خان ﴾ میں سمجھا نہیں بابا
﴿ارباز خان﴾: میں نے تمہارے لئے نواب سکندر حیات کی بھتیجی نور کا رشتہ مانگا تھا سردار ایاز خان۔
﴿ایاز خان﴾: بابا آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ نواب سکندر حیات اپنی بھتیجی کا رشتہ آپ کے بیٹے کو دے دے گا۔
﴿ایاز خان﴾: نور کے باپ کا قاتل نواب سکندر حیات ہے اور میں اس وقوعہ کاواحدچشم دید گواہ ہوں۔
﴿ایاز خان﴾: بابا تمہاری زندگی خطرے میں ہے۔
﴿ارباز خان﴾ میری نہیں بیٹاù تمہاری زندگی خطرے میں ہے۔ میرے ساتھ آئو۔
دونوں باپ بیٹا چلتے ہوئے ایک کمرے میں جاتے ہیں ۔وہاں پڑی ہوئی تجوری اربازخان کھولتا ہے۔ اس میں سے کچھ رقم نکالتا ہے
اور اپنے بیٹے کودیتے ہوئے کہتا ہے
﴿ارباز خان﴾: تم فوراً یہ ملک جھوڑ دوù تمہاری زندگی خطرے میں ہے۔
﴿ایاز خان ﴾ بابا آپ کی زندگی بھی۔۔۔
﴿ارباز خان﴾: یہ مرا حکم ہے۔

سین نمبر10

نور محل میں کسی بلندجگہ پر کھڑی افسردگی سے دریا میں ڈولتے ہوئے سورج کو دیکھ رہی ہے صفیہ قریب آکر نور سے کہتی ہے
﴿صفیہ﴾: ایک خبر ہے
﴿نور ۔﴾یقینا : بری خبر ہوگیù اچھی خبر کے آنے کا تو یہاں کوئی راستہ نہیں۔
﴿صفیہ﴾: ارباز خان نے اپنے بیٹے ایاز خان کے لیے تمہارا رشتہ مانگا ہے۔
﴿نور ۔﴾: یہ خبر بری سے زیادہ حیرت انگیز ہےù ارباز خان جیسے معمولی سردار کو یہ جرات کیوں ہوئی؟
﴿صفیہ﴾: ہاں چھوٹی مالکنù یہ بات سوچنے والی ہے۔
﴿نور ۔﴾: ہاں یہ بات کھوج لگانے والی ہے ù آخر ارباز خان اتنی جرات کیسے کر لی۔
﴿صفیہ﴾: کھوجی تو ہمارے پاس ہے۔
﴿نور ۔﴾: آئو منشی کے پاس چلتے ہیں۔
دونوں چلتی ہوئی ایک کمرے میں آتی ہیںجس میںبے شمار رجسٹر پڑے ہیںùایک منشی نما آدمی ایک کرسی پر بیٹھا ہوا کسی رجسٹر
پر کچھ لکھ رہا ہے۔ نور دیکھ کر فوراًھڑا ہو جاتا ہے۔
﴿منشی﴾: چھوٹی مالکنù آپ۔۔ خیریت ہے؟
﴿نور ۔﴾: سردار ارباز خان
وہ نور کو ہاتھ کے اشارے سے خاموش رہنے کا کہتے ہوئے نور کے قریب آکر سرگوشی میں کہتا ہے۔
﴿منشی﴾: دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں
نور سرگوشی میں اس کے کان میں کچھ کہتی ہے وہ کہتا ہے
﴿منشی﴾: آپ بے فکر رہیں۔دراصل سردار ارباز خان کا نواب سکندر حیات سے ٹکرائو ہوگیا ہے ù کیا میں اس سے بات
کروںù
﴿نور۔﴾:نہیں ù وہ کمزور آدمی ہے۔میں تو صرف یہ معلوم کرنا چاہتی ہو اس نے اتنی جرات کیوں کی ہے
نور اور صفیہ وہاں سے نکلتی ہیںاور واپس کمرے میں آجاتی ہیں کمرے میں کمپیو ٹر آن ہو تا ہے ۔اور اس پر سکرین سیور چل رہا ہوتا
ہے ْْنور جیسے موس پر ہاتھ رکھتی ہے بابر کے ہاتھوں کے شاٹ آتا ہے اس کے ہاتھوں نے بلے کو مضبوطی سے پکڑ رکھا ہےù

سین نمبر11

نیٹ پریکٹس کرتے وقت بابر کرکٹ کھیل رہا ہے ایک کھلاڑی بال کراتا اوربابر زور دار چھکا لگاتا ہے۔ گیند نیٹ کے اوپر سے نکل
جاتا ہے۔ بابر گیند کو ہوا میںجاتے ہوئے دیکھ رہا ہے اسے اچانک نٹ کے پار گیند کی طرف ساڑھی میں ملبوس بھاگتی ہوئی نور
دکھائی دیتی ہے۔ اسکا چہر ہ کھل اٹھتا ہے وہ دیکھتا ہے بھاگتی ہوئی نورنے گیند کو کیچ کر لیا ہے۔
بابر وکٹ چھوڑکر ہنستے ہوئے کہتا ہے
﴿بابر﴾: میں کیچ ہو گیا۔
کھلاڑی حیرت سے بابر کی طرف دیکھتے ہیں مگر بابر کوئی اور دکھائی ہی نہیں دے رہا ہوتا

سین نمبر 12

کلب میں لڑکیاں اور لڑکے رقص کر رہے ہیںù مختلف رنگوں والی لائٹنگ گھوم رہی ہےù مسٹرپٹیل ،مسٹر کے کے اور
دوگوری لڑکیاں ایک میز پر بیٹھی ہوئی ہیں قہقہہ لگ رہے ہیں۔چاروں کے ہاتھوں میں وائٹ وائن کے گلاس موجود ہیںمسٹر کے
کے کہتا ہے
﴿مسٹر کے کے﴾: مسٹر پٹیل آج میں بڑے دنوں کے بعد اچھے موڈ میں ہوں ù کیا خیال ہے مسٹر بابر کے بارے میں کچھ ڈن
کر لینا چائییے۔
﴿ مسٹر پٹیل﴾: کیوں اچھے میں کو خراب کرتے ہو۔۔تم ہاری ہوئی بازی نہیں جیت سکتےù وہ ایک پاگل آدمی ہے۔
﴿مسٹر کے کے﴾: پاگل آدمی سے ڈیل کرنا تو زیادہ آسان ہےù وہ تو چائے کے کب پر بھی بک سکتا ہے۔
﴿مسٹر پٹیل﴾:یہ بات ٹھیک ہے کہ ہر آدمی کی ایک قیمت ہوتی ہے۔مگر
﴿مسٹر کے کے۔﴿بات کاٹتے ہوئے﴾ مسٹر پٹیل !ہر چیز کی بولی لگانے کا ایک وقت ہوتا ہے اور ہم جیسے لوگ نہ بکنے والی چیزوں
پر وہ وقت لے بھی آتے ہیں

سین نمبر 13

بابر کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا کال ملانے کی کوشش کر رہا ہے اور کافی دیر اسے ناکامی ہورہی ہے اتنی دیر میں بیل بجتی ہےù ڈور بیل
بابر دروازہ کھولتا ہے تو سامنے مسٹر کے کے کھڑا ہوتا ہے
﴿مسٹر کے کے﴾: گد ایوننگ مسٹر بابر۔۔
﴿مسٹر بابر﴾: گڈ ایوننگ مسٹر کے کے۔۔
﴿مسٹر کے کے﴾: آنے سے پہلے فون اس لیے نہیں کیا کہ آپ شائد ملنے سے انکار نہ کر دیں۔
اور یہ بھی جانتا ہوں ù آپ جیسا خوش ذوق آدمی دروازے پر آئے ہوئے مہمان کو..........﴿اور پھر اپنا جملہ خود ہی کاٹتے
ہوئے ﴾میں حیران ہوں آپ نے ابھی تک اندر آنے کے لئے نہیں کہا؟
مسٹر بابر پورا دروازہ کھولتا ہےù اور بڑے احترام سے ہاتھ کے اشارے سے مسٹر کے کے کو اندر آنے کی دعوت دیتا ہےù
مسٹر کے کے اندر داخل ہوتا ہے ۔ اور دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
کمپیوٹر روم میں مسٹر بابر پھر بڑے احترام سے مسٹر کے کے کو صوفہ پر بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہے۔ کمپیوٹر سے کال ٹون جیسی آواز آتی
ہے اور بابر کے کے کو بھول کر بابر تیزی سی کمپیوٹر کی طرف بڑھتا ہےù کرسی پر بیٹھ کر بٹن دباتا ہے۔ وہ کمپیوٹر پر کال رسیو
کرنے کی کوشش کرتا ہےù مگر کال نہیں آ رہی ہوتیùوہ دوبارہ کال ملانے کی کوشش کرنے لگتاہےù مگر کال نہیں مل
رہی ہوتی ہےù تین ù چار بار کوشش کرنے سے اسکے چہرے کی جھنجھلاہٹ بڑھتی جارہی ہے۔ù کمپیوٹر کی سکرین پر نور
کی تصویر بھی ہے ۔بابر مڑ کر مسٹر کے کے کی طرف دیکھتا ہے اور پہلی بار زبان کھولتا ہے
﴿بابر﴾ ù﴿تلخ لہجے میں﴾ : جی فرمائیے
﴿مسٹر کے کے﴾: آپ فارغ ہو لیںù آپ مصروف ہیں اگر میں غلط نہیںتو آپ پریشان ہیںùمیرا خیال ہے آپ ایک اور
کوشش کریںù شاید کال مل جائے۔
مجھے آپ کسی دوست نے بتایا ہے کہ آپ کی زندگی میںکسی دور سے آتی ہوئی آواز کا بہت عمل دخل ہے۔
﴿مسٹر بابر﴾ : تھینک یو
﴿بابر دوبارہ کال ملانے لگتاہے۔ کال مل جاتی ہےù
﴿ مسٹر بابر ﴾: ہیلو ہیلوù ہیلوù ہیلو
﴿نور ۔ کی آواز﴾:ہیلو
﴿مسٹر بابر﴾: کیا بات ہے آج پچھلے کئی گھنٹوں سے آپ کال اٹینڈ نہیں کر رہیں؟
﴿نور۔ کی آواز﴾ : میں پریشان ہوں۔
﴿مسٹر بابر﴾: ان ساری باتوں سے پہلے جو بات میں کرنا چاہتا ہوں
﴿نور ۔ کی آواز﴾: کیا بات کرنا چاہتے ہو؟
﴿مسٹر بابر﴾: آج میں کیچ ہو گیا ہوں۔
﴿مسٹر بابر کا کھلاِ ہو ا چہرا......﴾
مسٹر کے کے کان دبائے پوری توجہ سے دونوں کی گفتگو سن رہا ہے
﴿نور ۔﴾: گیند تو اوپر سے اڑتی ہوئی اونچی فصیلوں کے باہر گئی ہوگیùاسے کون کیچ کر سکتا ہے؟
﴿بابر﴾ : اپنے ہاتھوں میں دیکھو .. کیا ان میں گیند موجود نہیں؟
﴿نور ۔ کی آواز﴾: دیکھ رہی ہو ں ù اپنے ہاتھوں کو ù چندالجھی ہوئی لکیریں ہیںù کچھ اندھیرے ہیںù کچھ دیواریں
ہیں اور کچھ بند دروازے....
مسٹر کے کے اٹھتا ہےù اور بابر قریب آکر کہتا ہے
﴿مسٹر کے کے ﴾: میں آپ کی پراویسی میں مخل ہو رہا ہوںù یہ لفافہ چھوڑ کر جا رہا ہوںù
وہ ایک لفافہ میز پر رکھ کر چلاجاتا ہے۔
﴿بابر﴾: اوکے بائے ù تھینک یو..

سین نمبر14

ایک خوبصورت اور بڑے ڈرائنگ روم میںù قہقہوں کی آواز۔ صوفیہ اور اسکا دادا مسٹر جان اندر داخل ہو رہے ہیں۔دادا کہہ
رہا ہے
﴿مسٹر جان﴾ù﴿بیٹھتے ہوئے﴾: اٹ از گریٹ سرپرائز
﴿صوفیہ﴾ù﴿بیٹھی ہوئی﴾:آپ کے زور دار لافٹر سے تو میں یہ سمجھی ùù اٹ از ا ے گریٹ جوکùù
﴿مسٹر جان﴾: لگتا تو مجھے یہ جوک ہی ہےù لیکن اس میں سرپرائز بھی ہےù میرے دوست کا فون آیاہےù میں نے
تمہیں اپنے دوست ارباز خان......
وہ جملہ کاٹتے ہوئے کہتی ہے
﴿صوفیہ﴾: یس گرینڈ ڈیڈù ناٹ ونس بٹ ہنڈرڈ آف ٹائمز لیکن ایک بات سوچتی ہوں ù اس رات ارباز خان اگر ٹو منٹس
لیٹ پہنچتا ù تو نہ وہ آپ کی جان بچا سکتا اور نہ آج میں ہوتی
﴿مسٹر جان﴾: تمہاری ٹو منٹس فلاسفی از آ گریٹ ہومر۔ تمہاری ایڈین گرینی ٹو منٹس لیٹ ہوتی۔﴿مسٹر جان کا بھرپور
قہقہہ﴾تو تمہارا باپ پیدا نہ ہوتا ù ایک گورا کا کالا بیٹا ﴿اور پھر مسٹر جان کا قہقہہ﴾ اور اگر تمہاری پاکستانی ماں کی فلائٹ ٹو منٹس
لیٹ ہو جاتی تو آج ایک کالے انگریز کی گوری بیٹی مرے سامنے کھڑی نہ ہوتی۔﴿اور پھر دونوں کا بھرپور قہقہہ﴾
﴿مسٹر جان﴾ù﴿اٹھتے ہوئے﴾: میرا خیال ہےùمیں اپنے دوست کے بیٹے کے ویزے کا بندوبست کردوں کہیں وہ ٹو منٹس
لیٹ نہ ہو جائے۔ پاسیبلی آنیو ہسٹری از ان دی میکنگ﴿دونوں کے قہقہے﴾

سین نمبر15

نواب سکندر حیات کے ہاتھ کرسی کے بازئووں کو سختی سے پکڑ رہے ہیںاور نور کہہ رہی ہے
﴿نور ۔﴾: میں بابا کی قبر پر جانے کے لیے ایک بار پھر آپ سے اجازت مانگنے آئی ہوں۔
نواب سکندر حیات کرسی کے بازئووں کواپنے ہاتھوں سے کچھ اور مضبوطی سے پکڑتے ہیں
﴿نواب﴾ ایک سوال بار بار کرنے سے اسکا جواب نہیں بدل جاتا
﴿نور ۔﴾: میں بابا کی قبر پر جانے کی اجازت چاہتی ہوں۔
﴿نواب﴾: ﴿غصے سے ﴾ میں کہہ دیا ہے نا کہ عامر حیات کے ساتھ چلی جانا۔
﴿نور ۔﴾: اکیلی جانا چاہتی ہوں۔
نواب سکندر حیات غضبناک نظروں سے نور کی طرف دیکھتا ہےùاورنور نواب کی آنکھوں میں ﴾
﴿نور ۔﴾: کیا آپ کبھی میرے بابا کی قبر پر گئے ہیں؟
﴿نواب سکندر حیات﴾: دھن کوٹ اسٹیٹ کی تاریخ میں آج تک کسی عورت کو یہ گستاخی کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔
﴿نور ۔﴾: بابا کی قبرتک جانے سے اگر دھن کوٹ اسٹیٹ کی تاریخ بدلتی ہے تو اسے بدل دینا چائیے۔
﴿نواب سکندر حیات ﴿ سرد لہجے میں﴾: کیاجاننا چاہتی ہو؟
﴿نور۔ ﴾: میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا کبھی آپ نے اپنے بڑے بھائی کی قبر فاتحہ پڑھی ہے؟
﴿نواب سکندر حیات﴾:کھل کر بات کرو کیا جاننا چاہتی ہو؟
﴿نور ۔﴾: میں عامر حیات کے ساتھ نہیں ù آپکے ساتھ باباکی قبر پر جانا چاہتی ہوں۔
﴿نواب﴾: دھن کوٹ اسٹیٹ کے نواب مرنے کے بعد قبرستان جایا کرتے ہیں
یہ کہہ نواب غصے کے عالم میں باہر نکلتا ہے اورراہداری میں تیز تیز قدم اٹھا کر چلتا جا رہا ہےù غصہ سے بھرا ہو اù پائوں فرش
پر رکھنے کی زور دارآوازپھیل رہی ہے۔ نواب ایک کمرے میں دا خل ہوتا ہے عامر حیات اور اس کا دوست شطرنج کھیل رہے ہیں
وہ دونو ں کھڑے ہو جاتے ہیںù دوست عامر حیات کے باپ کا چہرہ دیکھتے ہوئے جھک کر سلام کرتا ہوباہر نکل جاتا ہے۔نواب
دو قدم عامر کی طرف چل کرکہتا ہے
﴿نواب سکندر﴾: معاملہ میری برداشت سے باہر ہوگیا ہےù۔ عامر حیات ù میں او رانتظار نہیں کر سکتا۔
﴿عامر حیات﴾: بابا آپ اسکے باپ کی قبر پر جانے کی اجازت نہیں دیتے اور چاہتے ہیں وہ مرے ساتھ شادی کر لے۔
﴿نواب سکندر﴾: وہ تمہارے ساتھ کیوںنہیں باپ کی قبر جا سکتی؟
﴿عامر حیات﴾:وہ یہ سمجھتی ہے آپ اس پر اعتماد نہیں کرتے ù آپ کا خیال ہے کہ وہ کہیں فرار ہو جائے گی۔
﴿نواب سکندر﴾:تم اسے نہیں جانتےù اس سے کسی بھی بات کی توقع کی جاسکتی ہے۔
﴿عامر حیات﴾:مگر ابھی میں نے دروازہ کھلا رکھا ہوا ہےù
﴿سکندر حیات﴾: صرف دروازہ کھلا رکھنے سے کوئی اندرنہیں آ جاتا ù میں صرف یہی پوچھنے آیا تھاù مجھے اور کتنا انتظار کرنا
ہے؟اس کے تیوربہت خراب ہیں اور تم جانتے ہو میرا غصہ اس سے کہیں زیادہ

سین نمبر 17

نور اور صفیہ کے درمیان گفتگو
﴿نور ۔﴾: صفیہ کیا تم موت سی ڈرتی ہو؟
﴿صفیہ خوف زدہ ہوکر سینے پر ہاتھ رکھ کر﴾
﴿صفیہ ﴾: ہائے چھوٹی مالکن؟
﴿نور ۔﴾: میں موت نہیں ڈرتی مگر آج تمہارا نواب اسکندر حیات موت کے ڈر سے ساری رات جاگتا رہے گا۔ مو ت کا خوف
سب سے زیادہ قاتلوں کو ہوا کرتا ہے
صفیہ نور کے پائوں دابتے ہوئے کہتی ہے
صفیہ ۔ چھوٹی مالکن ۔ مجھے موت سے ڈر لگتا ہے
﴿نور ۔﴾ صفیہù میں موت کے قریب کھڑی ہوںù لیکن میری ماں نے اس قید خانے میں میرے لیے ایک کھڑکی کھولی
دی تھی۔
﴿صفیہ﴾: کھڑکی ù کونسی کھڑکی چھوٹی مالکن؟
نورکمپوٹر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
﴿نور ۔﴾: تمہیں پتہ ہے صفیہ؟ اس کمپوٹر نے مجھے کیا کیاسکھا یا ہے؟یہ بڑی زبردست چیز ہے اسی نے مجھے ذہنی طور پر ہر لمحہ
چاک و چوبند رہناسکھایا ہے۔ رات کے اندھیرے میں اس محل کی دیواروں اور فصیلوں پر اڑتے ہوئے پرندوں کے پروں کی
آواز..... اس کھڑکی سے مجھے سنائی دیتی ہے۔
﴿صفیہ﴾: چھوٹی مالکن بڑی بیگم تو اس طرح نہیں سوچتی تھی؟
﴿نور ۔﴾: ہاں صفیہ ù میری ماں محبت میں اندھی تھی ù اسے بند دروازے اور اونچی فصیلیں دکھائی نہیں دیتی تھیںù وہ
تو اپنی خوشی سے اس سپنوں کے محل میں داخل ہوئی تھی جہاںسے باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں۔
﴿کمپیوٹر سے کال فون آنی شروع ہو جاتی ہے﴾
﴿صفیہ﴾: لگتا ہےùکوئی کھڑکی پر دستک دے رہا ہے۔
﴿نور ۔ ﴾ ‘ ﴿اٹھتے ہوئے﴾ میں کھڑکی کھولتی ہوں
﴿نور ۔﴾: ہیلو ہیلو
﴿باہر کی آواز﴾: ہیلو ہیلو ùنور
﴿نور ۔ ﴾ : ہیلو بابر
﴿بابر﴾: ہاں نورù میں تم سے ایک بہت اہم مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔
﴿نور ۔ ﴾ : کھلی ہوائوں میں اڑنے والا پرندہ مجھ سے مشورہ کرناچاہتا ہے؟ ایک قیدی سے ؟
﴿بابر﴾: میرے ہاتھ میں ایک بلینک چیک ہےù اسکی قیمت مجھے میچ ہارکر ادا کرنا ہے۔
﴿نور ۔﴾: اس کا مطلب ہےù کہ تمہاری گیند اس مرتبہ سٹیڈیم کی اونچی فصیلوں سے باہر نہیں جائے گی؟
﴿بابر﴾:اور کیا کروں؟
﴿نور ۔﴾: میں تمہاری جگہ ہوتی تو اس بلینک چیک کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے دینے والے کے منہ پر دی مارتی۔

سین نمبر18

ٹیلی وژن پر کرکٹ میچù ٹیلی فون کالوں کی گھنٹیوں کی آواز ù کمپیوٹر بھی موجود ہےù وغیرہ وغیرہù مسٹر کے کےù
مسٹر پٹیل جمی موجود ہیں
﴿مسٹر پٹیل﴾: مسٹر کے کے تم نے پھر میلز آف پونڈ کی انوسٹمنٹ کر ا دی ہے؟
اور تمہارے مسٹر بابر نے ابھی تک بنک سے چیک کیش نہیں کرایا۔
﴿مسٹر کے کے﴾: مجھے اسی بات کا پو را یقین ہے کہ مسٹر بابر پرانی غلطی نہیں کریں گے۔ تم جانتے نہیں ہو ہر آدمی کی آخر کوئی نہ
کوئی قیمت ہوتی ہے۔
شیشے سے مسٹر جمی دیکھ رہا ہے۔ مسٹر بابر کو آتے ہوئے جمی کی نظر جیسے مسٹر بابر پر پڑتی ہے وہ فوراً کہتا ہے
﴿جمی﴾Congratulations, Mr. Babar here
﴿مسٹر پٹیل اور مسٹر خان دونوں کھڑے ہو جاتے ہیںù مسٹر بابر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتا ہے۔ اور دونوں بیک زبان
کہتے ہیں۔
﴿Well Come Please! ﴾
وہ چلتے ہوئے آتا ہے اور مسٹر کے کے کے بالکل سامنے کھڑا ہو کر اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے چیک کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے
اور مسٹر کے کے کے اوپرپھینک دیتا ہے۔مسٹر کے کے اور غصہ بھری نظروں سے بابرکی طرف دیکھتا ہے مگر پھر بھی ٹھنڈا رہتا ہے
﴿مسٹر پٹیل﴾:جس کو تم یقین سمجھتے ہوù وہ ہمیشہ تمہاری غلط فہمی ہوتی ہے۔یو آر مس انڈر سٹینڈڈ۔ آئی ایم شوور دس جنٹلمیں
از آڈیلز میڈ۔
﴿مسٹر کے کے﴾ ڈونٹ وری جنٹل مین ù گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مسٹر بابر اس چیک کے ایک ایک ٹکڑے کو خود
جوڑ کر خود فل کرے گا۔میرے پاس ایک راستہ ہےù مسٹر بابرù جس کے ہاتھوں کیچ آئوٹ ہوا ہےù ابھی وہ لڑکی زندہ
ہے۔

سین نمبر 19

رات کا وقت ہے۔ تیز ہوائیں ùپردے ہل رہے ہیںù کھڑکیاں بج رہی ہیں۔سوئی ہوئی نور اٹھ چکی ہے اٹھ کر کمرے میں
دیکھ رہی ہے۔ قدموں کی آواز بھی سنائی دی رہی ہے۔ خوفناک منظر ہے۔ وہ چلتی ہوئی ایک کھڑکی کے پاس جاتی ہےù اسے
بند کرتی ہےùایک اور کھڑکی کے پاس پردے ہل رہے ہوتے ہیںù وہ اسے بند کرتی ہے۔پھر دروازہ کھول کر باہر دیکھتی
ہےù تیز ہوا اندر آتی ہے تووہ دروازہ بند کردیتی ہے اور پھر بستر پر سو جاتی ہے۔

سین نمبر 20

سٹیٹ کا مینیجر سکندر حیات کی خواب گاہ اندر داخل ہوتا ہےù ایک ملازم سکندر حیات کو دبا رہا ہو تا ہے۔
﴿مینیجر﴾‘﴿ملازم سے﴾: تم ذرا باہر چلے جائو۔
﴿ملازم خاموشی سے باہرچلا جاتا ہےùنواب اٹھ کر بیٹھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے مینیجر کو دیکھتا ہے﴾
﴿مینیجر﴾: حضور منشی رحیم الدین نے پوچھ گچھ کے دوران خود کشی کر لی ہے۔
صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ چھوٹی مالکن نے اسے ارباز خان کی پاس بھیجا تھا۔
نواب غصہ کے عالم میں اٹھتا ہے۔
﴿نواب ﴾: نور ۔.... ﴿کچھ سوچتے ہوئے﴾۔ بلایا جائے اسے....
﴿مینیجر باہر نکل جاتا ہے۔اور نواب خود کلامی کرتا ہے﴾
﴿سکندر حیات ù اس سے پہلے کہ کوئی بڑا فتنہ جنم لے ù اسے مر جانا چائیے﴾