دسویں مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول

 

تکون کی مجلس


نیند میں بدن پر چلتی ہوئی چیونٹی کے پائوں سے نکلے ہوئے خوابوں اورآسمانوں سے اترے ہوئے سپنوں میںبہت باریک پیازی
پردہ ہوتا ہے۔کچھ معلوم نہیں کونسے خواب کی کوکھ میں تعبیرکے موتی موجود ہیں اور کونساخواب اپنی سیپ کے دامن میں دماغی
الجھنوں کے کیڑوں کی پرورش کر رہا ہے۔کیا کہوں کہ کہاں کیا ہے۔کیا سچ ہے اور کیا سچ نہیں ۔کیا نیند ہے۔ کیا خواب ہے۔ کیا
خیال ہے۔ کیاسوچ ہے۔ کیاذہنی خلل ہے مگرکچھ ہے جو مسلسل وقوع پذیرہو رہا ہے۔کبھی اس میں موجود ہوتا ہے اور کبھی
تصویر سے باہر نکل جاتا ہوں

 
دسویں مجلس


نور یعنی سائیکی کی زندگی کے بارے میں اس کا اپنا لکھا ہوا یہ ذرامہ میرے بہت زیادہ حیرت انگیزتھا۔میں پہلی قسط پر رک گیا
تھا۔شاید تھکاوٹ کی وجہ سے نیند آگئی تھی۔ صبح ٹھ کر میں نے سب سے پہلے رضا ملال کو فون کیا اور کہا
’’تمہیں سائیکی زندگی کی کہانی پر ضرور ڈرامہ بنوانا چاہئے ۔ بڑا ہٹ ہو گا ‘‘
رضا ملال کہنے لگا
’’ہاں اچھا لکھا ہوا ہے‘‘
میں نے کہا’’
اچھا یہ بتاوٴاس میں کس حد تک سچائی ہے ‘‘
رضا ملال کہنے لگا
’’ کہتی تو یہی تھی کہ اپنی طرف سے اس نے پوری کوشش کی ہے کہ کہیں کوئی جھوٹ اس میں شامل نہ ہو ‘‘
میںنے کہا
’’مگر اس ڈرامہ میں ایسا کردار موجود نہیں جو میں نے سائیکی کے آس پاس کہیں دیکھا ہو۔ ‘‘
رضا ملال کہنے لگا
’’ مسٹر جان اور صوفیہ کو تو میںجانتاہوں ۔ میری دونوں کے ساتھ ملاقات رہتی ہے البتہ بابر کے بارے میں نے صرف سنا ہوا ہے کہ ایک بڑا زبردست کرکٹر تھااچانک گم ہو گیا ‘‘
دفتر کے کام ختم کر کے جب آقا قافا کی مجلس میں پہنچاتوآ قافا کی مجلس شروع ہو چکی تھی ایک شخص ان سے سوال کر رہا تھا
’’ سوویت یونین کے ٹوٹنے کی وجہ آپ کے نزدیک کیا ہے۔ ‘‘
سائیکی نے میری طرف دیکھا اور اشارہ سے کہا کہ اس کے پاس آکر بیٹھ جاوٴں ۔میں روز کی طرح سائیکی کے پہلو میں جا کر بیٹھ
گیاآقا قافا کہنے لگے۔
’’میرے نزدیک سوویت یونین کے ٹوٹنے کی وجہ سرخ رنگ ہے۔اس پر تفصیل سے کل بات کریں گے اور کسی اور بھی آنا ہے
شاید اس کا موضوع بھی سرخ رنگ ہوگا۔میرا خیال ہے مجھے اپنی کہانی شروع کرنی چاہئے ۔ہاں تواس قتل کے واقعے کو بیس پچیس
دن گزر گئے اور میں مکمل طور پر مطمئن ہوگیا تھا کہ اب مجھ تک کوئی نہیں پہنچ سکتا کہ ایک دن اچانک پولیس آئی اور مجھے گرفتار کر
کے لے گئی۔ پولیس مجھ تک اس ٹیلر ماسٹر کی وساطت سے پہنچ گئی۔ میں جس سے کپڑے سلوایا کر تا تھا۔ میں نے جو سوٹ وہاں
اتارا تھا اس پر ٹیلر ماسٹر کی دکان کا مارک لگا ہوا تھا اور درزی کو جب وہ سوٹ دکھایا گیا تو اس نے فوراً پہچان لیا کیونکہ اس کا ڈیزائن
میں نے خود اس ٹیلر ماسٹر کو سمجھایا تھا اور وہ مجھے بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ جو کچھ سچ تھا میں نے پولیس کو بتا دیا مگر پولیس نے میرا
بارہ دن کا ریمانڈ لیا ہوا تھا۔ سو بارہ دن مجھے تھانے کی حوالات میں گزارنے پڑے۔اس حوالات میں ان بارہ دنوں میں کئی قیدی
آئے چکے گئے جب مجھے حوالات میں بند گیا تو وہاں تین آدمی موجود تھے ۔ زمین پر چٹائی بچھی ہوئی تھی۔کھجور کے سخت پتوں سے
بنی ہوئی چٹائی۔
تھانے کی حوالات میں ایک شخص مجھ سے پہلے قید تھا۔ دیکھنے میں وہ کوئی ولی اللہ معلوم ہوتا تھا۔ بڑی سفید ریشمی داڑھی تھی۔
لباس بھی صاف ستھرا پہنے ہوا رہتا تھا۔ مجھے اس کی طرف دیکھتے ہوئے یوں لگتا تھا جیسے اس کے چہرے سے نور کی شعائیں خارج ہو
رہی ہیں۔ وہ تمام رات عبادت کرتا رہتا تھا میں نے ایک دن اس سے سوال کیا۔ بابا آپ جیسے بزرگوں کا حوالا ت میں کیا کام۔ آپ
کو یہاں کیوں قید کیا گیا ہے؟ تو اس نے کہا۔ بیٹے مجھے بابا جیب تراش کہتے ہیں اور میں دنیا کا سب سے بڑا جیب تراش ہوں۔ میں نے

پریشانی سے کہا۔ نہیں آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ جیب تراش نہیں ہو سکتے تو کہنے لگے میں تمہارے قریب تو نہیں آیا۔ میں
نے تمہیں ہاتھ تو نہیں لگایا۔ اس کے باوجود بھی میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ تمہاری جیب میں کیا کچھ ہے۔ تمہاری جیب میں ساٹھ
روپے اور پچاس پیسے ہیں اور میں نے اپنی جیب سے رقم نکال کر گنی و وہ واقعی اتنی تھی اور خود مجھے بھی اندازہ نہیں تھا کہ میری جیب
میں کتنے پیسے ہیں۔ میں نے بابا سے پوچھا کہ تمہیں اس کا علم کیسے ہوگیا۔ تو اس نے کہا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہیں خبر ہو جایا
کرے گی۔ میں نے کہا نہیں بابا میں جیب تراش نہیں بن سکتا۔ تو ہنس پڑے اور کہنے لگے۔ بیٹے ساری دنیا جیب تراش ہے اور بڑی
بڑی طاقتور قومیں چھوٹی چھوٹی اور پسماندہ قوموں کی جیبیں تراشتی ہیں۔ حکومتیںکرنے والے اپنی عوام کی جیب تراشتے
ہیں۔سرمایہ دار مزدور کی جیب تراشتہ ہے اور جاگیر دار اپنے مزارعے کی جیب تراشتا ہے۔ دنیا میں جسے دیکھو وہی جیب تراش ہے
حتیٰ کہ مولوی تک مولوی جو مسجد کا امام ہے وہ اپنے نمازیوں کی جیبیں تراشتا ہے۔ مجھے تو بیٹا اپنے بابا جیب تراش ہونے پر فخر ہے۔
میں کچھ اور پوچھنا چاہ رہا تھا کہ انہوں نے کہا کہ میرا س حوالات سے جانے کا ہو گیا ہے تمہاری اور میری ملاقات چند دن کے بعد
ہوگی۔ پھر تمہیں سمجھاوٴں گا کہ جیب کس طرح تراشی جاتی ہے اور اسی لمحے حوالات کا دروازہ کھلا اور ایک سپاہی نے بابا جیب تراش
کو باہر آنے کا کہا۔ بابا جیب تراش نے جاتے ہوئے میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور حوالات سے نکل گئے۔ میں حیران و پریشان انہیں
سلاخوں سے باہر جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔ انہیں کی طرح کا ایک باریش آدمی ان کا انتظار کر رہا تھا اور پھر وہ میری نظروں سے
اوجھل ہوگئے۔ میں نے حوالات میں دیکھا کہ جو جائے نماز وہ اپنے ساتھ لائے تھے وہ اٹھا کرنہیں لے گئے۔ میں نے سپاہی سے کہا
میں وضو کرنا چاہتا ہوں۔ پھر جو دن میں نے اس حوالات میں گزارے اس میں اللہ کی عبادت ہی کرتا رہا۔ بابا کی طرح نماز یا نفل
پڑھتا رہتا تھا یا قرآن حکیم کی تلاوت کرتا رہتا۔
ابا جان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس والوں نے مجھے کبھی تنگ نہیں کیا تھا۔ وہ اکثر اوقات میرے یہ مطالبات پورے کر دیتے
تھے۔ بارہ دن کے بعد مجھے تھانے کی حوالات سے جیل کی حوالات میں منتقل کر دیا گیا‘‘
اور آقا قافا کچھ دیر کیلئے خاموش ہوگئے اور پھر بولے
’’ باقی حصہ اگلی مجلس میں۔ اب تم سب جائو مجھے کچھ دیر تنہائی کی ضرورت ہے۔‘‘
اس جملے پر سب نے آقا قافا کو حیرت سے دیکھا۔ انہوں نے اس طرح کی بات کبھی کسی سے نہیں کی تھی۔ سب لوگ خاموشی
سے باہر آگئے۔ سائیکی نے مجھ سے کہا۔
’’ میرے لئے آقا قافا کا آخری جملہ حیرت انگیزہے۔ انہوں نے اس طرح کی بات کبھی نہیں کی۔ کبھی اپنی کسی ضرورت کا اظہار
نہیں کیا ۔یہ ان کے مزاج میں ہی نہیں ہے ۔ کوئی خاص بات ضرور ہے
میں نے ہنس کرکہا
’’ آقا قافا کو چھوڑو اپنے متعلق بات کرو میں دوچار دنوںمیں تمہاری کہانی تمہیں سناوٴ ںگا ‘‘
سائیکی بولی
’’اتنا آسان نہیں ہے میرے متعلق کچھ جاننا ۔ دیکھتی ہوں تمہارا کمال بھی‘‘
سائیکی نے بھی کہیں جانا تھامجھے بھی دفترمیں ایک بڑا اہم کام تھا ۔مگر دفتر میںاس کام پر کچھ زیادہ وقت نہیں لگا۔ مجھے سائیکی کا فون
آیا کہ فوراً آقا قافا کے گھر پہنچو ۔ اندر جانا میں باہر تمہارا انتظاکروں گی اور میں ہوا کی طرح اڑکر وہاں پہنچ گیا سائیکی سڑک پر موجود
تھیں میں نے کار ایک کھڑی کرتے ہوئے پوچھا
’’خریت ہے‘‘
سائیکی بولی
’’کچھ لوگ آقا قافا کے پاس آئے ہوئے ہیں اور اسے مجبور کر رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ چلواور آقا قافا انکار کر رہے ہیں مگر وہ
بضد ہیں ۔کہتے ہیں کہتے ہیں ہم تمہیں ساتھ لے کر جائیں گے
میں نے پریشانی سے پوچھا
’’کون لوگ ہیں۔ کسی پولیس سے تعلق ہے ‘‘
سائیکی کہنے لگی
’’ نہیں کوئی سادھو ہیں ۔ میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا کہ مجھے کہیں کام جانا ہے تمہارے جانے کے بعد میں نے اپنے یہاں قریب
ہالی لین کی پارکنگ میں کھڑی کی اور پیدل واپس محل میں چلی آئی ۔میں چھپ کر دیکھا کہ آقا قافا کیا کررہے ہیں تو مجھے ان کے
کمرے میں تین آدمی دکھائی دئیے پھر میں نے ان کی گفتگو سنی ۔ آقا قافا ان کی وجہ سے مجھے خاصے پریشان دکھائی دئیے اس لئے
میں نے تمہیں فون کیا ہے‘‘
سائیکی گفتگو کرتے ہوئے میرے ساتھ کار میں بیٹھ چکی تھی میں نے کار محل کے گیٹ کی طرف موڑ دی ۔سائیکی نے پریشان ہو کر
پوچھا
’’ کیا کرنے لگے ہو‘‘
میں نے کہا
’’ اندر جانے لگا ہوں آقا قافا سے ‘‘
سائیکی بولی
’’مگر انہوں نے کہا تھا مجھے تنہائی کی ضرورت ہے ‘‘
میں نے سائیکی سے کہا
’’ سائیکی میرا دل کہہ ہے کہ اس وقت آقا قافا کو میری ضرورت ہے ‘‘
اور پھر ہم دونوں تھوڑی دیر میں لیونگ روم میں پہنچ چکے تھے ۔ میں سائیکی سے کہا
’’ مجھے آقا قافا کے کمرے میں لے چلو ‘‘
پھر سائیکی کے پیچھے پیچھے محل کے اندر میں ایک دروازے تک پہنچ گیا ۔ سائیکی نے اشارے سے بتایا کہ یہی آقا قافا کا کمرہ ہے میں
اس پر ہلکی سے دستک دی اندر سے آقا قافا کی آواز آئی
’’ دونوں اندر آجاوٴ‘‘
ہم دونوں اندر داخل ہوئے کمرے میں آقا قافا کے علاوہ تین سادھو بھی موجود تھے ۔ انہوں نے ہمیں دیکھتے ہی آقا قافا سے کہا
’’ تم نے کیوں بلا یا ہے اسے ‘‘
آقا قافا بولے
’’ میں نے نہیں بلایا یہ خود آیا ہے ‘‘
میرے ذہن میں فوراً آیا کہ معاملہ میرا ہی ہے انہیں سائیکی کے اندر پر کوئی اعتراض نہیں یہ صرف میری بات کر رہے ہیں ۔ میں
نے ذہنی طور پر اپنے مظہر قیوم صاحب کو آواز دی ۔ ہر مشکل مسئلہ میں مجھے وہی یاد آجاتے تھے۔ سادھو کچھ دیر میری طرف
دیکھتے رہے پھر ایک سادھو نے آقا قافا سے کہا
’’ اگر تم نے نہیں بلایا تو پھر اس کے آنے کی ہمیںخبر کیوں نہیں ہوئی ۔ہمیں یہ تو معلوم ہو رہا تھا کہ ایک لڑکی اندر آرہی ہے مگر
یہ احساس نہیں ہورہا تھا کہ اس کے ساتھ کوئی اور بھی ہے جب کہ تمہیں دونوں کی آمد کی خبر ہو رہی تھی‘‘
آقا قافا بولے
’’اس کے پاس بھی کوئی روحانی شکتی موجود ہے۔دوسرا میں کچھ نہیں ہوں نا جو کچھ یہی ہے‘‘
ایک سادھو جو مسلسل خاموش تھا اس نے کہا
’’ہم جا رہے ہیں تم ہمارے ساتھ نہ آئو مگر تمہیں اپنے وجود ختم کرنے کی اجازت ہے اگر تم نے ایسا کیا تو پھر اسے بھی زمیں پر کہیں
جگہ نہیں ملے‘‘
اس جملے کے ساتھ تینوں سادھو یکدم غائب ہو گئے
میں نے آقا قافا سے کہا
’’یہ کیا معاملہ ہے کچھ مجھے بھی شریک کریں
آقا قافا بولے
’’ ابھی تمہارے شریک ہونے کا وقت نہیں آیا۔ تمہیں یہاں نہیں آنا چاہئے تھے ۔ اب مجھے معاملہ کسی اور طرح دیکھنا پڑے گا
۔تم جاوٴ‘‘
اور سائیکی اور خاموشی سے وہاں نکل آئے ۔ کار میں پہنچ کر سائیکی نے مجھ سے کہا
’’ میرے خیال میں ہم نے وہاں جا کر ٹھیک کیا ہے آج میں پہلی بار آقا قافا سے اختلاف کر رہی ہوں ‘‘
میں نے الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ سائیکی سے پوچھا
’’ میرے اندر اگر کوئی روحانی طاقت ہے تو مجھے اس کا احساس کیوں نہیں ‘‘
سائیکی بولی
’’آقا قافا کے سوا ہمیں کچھ سے کچھ پتہ نہیں چل سکتا ۔ویسے میں نے ایک شخص تلاش کیا ہے کالے علم کا ماہر ہے بنگالی ہے ۔میری
اس سے بات بھی ہوئی تھی اس نے مجھے کہا تھا میں جس وقت چاہوں اس کے پاس آسکتی ہوں مگر میں نے اس سے ملنا مناسب
نہیں سمجھا تھاچلو آج اس سے ملتے ہیں دیکھتے ہیں وہ کیا کہتا ہے ‘‘
میں نے سائیکی کے کہنے پر گاڑی سکس او سکس کی طرف موڑ لی ہمیں ہڈرز فلیڈ جانا تھا ۔ یہ شہر بریڈفورڈ دس پندرہ میل کے فاصلے پر
ہے ہم وہاں پہنچے ایک بنگالی نے ہمیں لیونگ روم میں بیٹھا یا اور تھوڑی دیر کے بعد آکر کہنے لگی
’’ حضرت صاحب آپ سے نہیں مل سکتے ۔ وہ کہتے ہیں آپ کے کوئی اور بھی ہے۔جس سے ان کا ملنا ٹھیک نہیں
سائیکی نے حیرت سے پوچھا
’’یعنی ہم دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا بھی ہمارے ساتھ ہے ‘‘
عورت ہاں میں سر ہلا دیا اور کہا
’’آپ جتنا جلدی ہو سکے ہمارے گھر سے چلے جائیں ۔ آپ کی بہت مہربانی ہوگی‘‘
میں اور سائیکی کار میں آکر بیٹھے تو میں سائیکی سے کہا
’’ لعنت بھیجو سب پر چلو گھر چلتے ہیں نماز پڑھتے ہیں ۔ اور اپنے اللہ سے روشنی مانگتے ہیں
اور پھر تھوڑی دیر کے بعد ہم اپنے گھروں میں تھے ۔ میں نے کھانا کھایا عشائ کی نماز پڑھی اور لیٹ گیا۔نیند آئی تو بہلول ساتھ
تھا۔مجھے کہہ رہا تھا
’’جلدی کرو ۔ دیوی کی عبادت شروع ہونے والی ہے یا آج اس نے تمام قافلوں والوں اپنی عبادت میں شریک ہونے کی دعوت دی
ہے ۔‘‘
ہم خیمے سے نکلے تو ایک جگہ تمام قافلے والے دائرے میں بیٹھے ہوئے تھے اور دیوی ان کے درمیان رقص کر رہی تھی کتھک ناچ
رہی تھی ۔ میں نے بہلول سے کہا
’’ یہ تو رقص کر رہی ہے ۔تم نے کہا تھا عبادت کا وقت ہو گیا ہے‘‘
بہلول کہنے لگا
’’یہ کتھک ناچ۔۔ ایک عبادت ہے اس کے ذریعے ناچنے والا تمام بدن کی حرکات سے منتر پڑھتا ہے ۔یہ بھگوان کا پسندیدہ ترین
رقص ہے۔رقاص ناچتے ہوئے اس کے آگے اپنی کتھا بیان کر رہا ہوتا ہے ۔اسی کتھا سے کتھک نکلا ہے یہ کتھا کہتا ہے اس لئے
کتھک کہلاتا ہے۔موہنجو داڑو میں کتھک کے بڑے رقاص موجود ہیں ۔لوگ انہیں دیوتائوں کی طرح پوجتے ہیں۔کتھک ناچ
میں ہرحرکت کا ایک مفہوم ہے ۔ اس ناچ میں بانوے ہزار حرکات موجود ہیں ۔کتھک زندگی کی بے مائیگی کا اظہار کرتا ہے،
موت کا منظر پیش کرتا ہے ۔ فطری احساسات بیان کرنے کا وسیلہ ہے ۔کہانیاں سنانے کا جسمانی انداز ہے۔ کائناتی بکھرائو کے
مکمل سمٹائوکھیل کا ہے ۔وحدت میں کثرت دکھاتا ہے اورکثرت میں وحدت ۔بھگوان اور زندگی کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے
۔ کتھک کرنے والا موج کی طرح ہوتا ہے جو دریا مل کر دریا بن جاتی کی طلب میں مست ہوتی ہے‘‘
کافی دیر ہم دیوی کا رقص دیکھتے رہے پھر وہ اپنے خیمے میں چلی گئی اور ہم اپنے خیمے میں آگئے ۔میں نے بہلول سے پوچھا
’’کتھک کے علاوہ بھی بہت سے رقص ہیں ان کے متعلق کیا خیال ہے
بہلول کہنے لگا
’’عورت ناچنے والی ہومجھے کتھک کلی، بھنگڑا،راس لیلی، بھرت ٹاٹیم،اوڑیہ اور گریا بہت اچھے لگتے ہیں۔مرد کا رقص ہو مجھے جھمر
اور لڈی پسند ہیں۔ ‘‘
میں نے بڑی سنجیدگی سے سوال کیا
’﴿تمہیں یہ بدن کے مختلف اعضائ کو قوسوں میں بدلنے سے کیسا احساس ہوتا ہے بے شک یہ عمل خوبصورت ہے مگر انسان کو
جنسیت کی طرف مائل کرتا ہے۔اور جنسیت کا کھلا اظہارقابل ستائش چیز نہیں ‘‘
بہلول کہنے لگا
رقص تو دیوتائی عمل ہے۔تمام کائنات رقص میں ہے۔ ہر لمحہ زندگی کا رقص جاری ہے جب ہوا چلتی ہے تو درخت رقص کرتے
ہیں ، جب موسم آتا ہے تو پرندے اور جانور بھی ناچتے ہیں۔ تم نے مور کا رقص کبھی نہیں دیکھا۔ میرا خیال میں انسان نے پہلی
مرتبہ اپنی خوشی کا اظہارناج کر کیا ہو گا‘‘
بس اسی گفتگو میںنیند کے ملاقات ہوئی ۔دو نوں مقامات پر۔۔۔صبح اٹھا تو جلدی جلدی دفتر آگیا۔دفتر میں کام بہت زیادہ
تھا۔میںکام لگ گیا بڑی مشکل اس وقت کام ختم ہو ا جب آقا قافا کی مجلس میں جانے کا وقت ہواتوبھاگم بھاگ وہاں پہنچامجھے احساس
ہوا ہے کہ جب تک میں مجلس میں نہیں پہنچتا آقا قافا اپنی کہانی نہیں شروع کرتے آج بھی انہوں نے میرے بیٹھ جانے کے
بعداپنی کہانی وہیں سے شروع جہاں کل ختم کی تھی
’’مجھے میانوالی جیل کے منڈے خانے میں رکھا گیااس میں تقریباً تین سو سے زائد لڑکے قیدی تھے جو حوالدار مجھے منڈے خانے
تک چھوڑنے آیا تھا اس نے منڈے خانے کے ایک لڑکے کو بلا کر کہا ’’یہ جیلر کا آدمی ہے اس کے ساتھ کسی طرح کی شرارت
آپ لوگوں کو بہت مہنگی پڑے گی اور اس کی دوستی میں بہت فائدہ ہو سکتا ہے‘‘ سو اس لڑکے نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لے لیا چند
لمحوں کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا جیسے تمام بارک میری غلام ہو چکی ہے۔ وہ لڑکا شیدا منڈے خانے کا سب سے بڑا بدمعاش تھا
اس کے چار اور ساتھی بھی تھے اور انہوں نے منڈے خانے میں اپنی حکومت قائم کر رکھی تھی۔ مجھے باقاعدہ مہمان کا درجہ دیا گیا
اور کہا گیا کہ آپ جتنے دن یہاں ہیں آپ نے کوئی کام نہیں کرنا یہ تمام لڑکے آپ کے حکم کے غلام ہیں۔ رات سونے کے وقت
شیدے نے ایک لڑکے سے کہا آج رات تم نے مہمان کی خدمت کرنی ہے دیکھ گلہ نہیں آنا چاہیئے۔ میں نے غور سے اس لڑکے کو
دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ وہ ایک کیوٹ سا بہت خوبصورت لڑکا ہے۔ شیدا اسے میرے پاس چھوڑ کر چلا گیا اور وہ لڑکا پاوٴں کی
طرف سے میرے کمبل کے اندر گھس کر بیٹھ گیا اور میرے پائوں دابنے لگا میں نے اسے منع کیا تو اس نے کہا ’’جی آپ مجھے روکیں
گے تو صبح شیدا مجھے مارے گا اور آپ سے بھی ناراض ہو جائے گا‘‘ اس کی یہ منطق سن کر میں خاموش ہوگیا اور پھر وہ میرے جسم کو
دابتے دابتے پوری طرح میرے کمبل کے اندر گھس آیا اور مجھے احساس ہوا کہ وہ ایک لڑکی کی طرح مجھے سے جسمانی مراسم قائم
کرنا چاہ رہا ہے۔ میں نے غصہ کے ساتھ اسے اپنے کمبل سے نکال دیا اور گرد سوئے ہوئے لڑکوں نے مجھ سے پوچھا کیوں کیا ہوا؟
اور مجھے یوں لگا کہ یہ سب اس انتظار میں تھے کہ ابھی اس کمبل میں کچھ ہوگا۔
صبح ہوئی شیدا آیا اور کہنے لگا ’’کیوں رات ہماری مہمان نوازی پسند نہیں آئی‘‘ میں نے کہا ’’وہ بہت بڑا گناہ ہے۔ میں تم کو بھی منع
کروں گا کہ ایسے کام مت کیا کر‘‘ وہ حیرت سے بولا ’’یہ کیا کہ رہے ہو یہ تو گناہ نہیں ہے میں نے خود مولوی صاحب سے سنا ہے
﴿اپنے ساتھی سے مخاطب ہوکر﴾ ادا کرو، مولوی کو بلا لا۔ ابھی پتہ چل جاتا ہے‘‘ اور وہ ایک نوجوان کولے آتا ہے جس نے
مولویوں کی طرح داڑھی رکھی ہوئی ہوتی ہے۔ عمر میں سترہ اٹھارہ سال کا لگ رہا ہوتا ہے ۔شیدا اسے کہتا ہے ’’مولوی یہ بولتا ہے
لڑکوں کے ساتھ ہم بستری گناہ ہے اسے سمجھا‘‘ اور مولوی کہتا ہے ’’اسلام نے ۔ تمام برائیوں کیلئے سزائیں تجویز کی ہیں۔ اس کام
کیلئے کوئی سزا نہیں مقرر کی۔ قرآن حکیم کے بعد ہم مسلمانوں کی جو سب سے مقدس کتاب صحیح بخاری ہے۔ اس میں ایک روایت
درج ہے۔ ’’ایک شخص حضرت ثابت بن مسود کے پاس گیا اور کہا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ پیچھے سے ہم بستری کی ہے مجھے
بتایئے کہ میں اس گناہ کا کیا کفارہ ادا کروں تو انہوں نے کہا یہ کونسا گناہ ہے۔ میرے بھیگے ہوئے بال دیکھے ہیں۔ میں نے ابھی یہی
عمل کیا ہے اور قرآن کی یہ آیت پڑھی ﴿عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں انہیں جس طرف سے چاہو استعمال کرو﴾ مولوی جب
یہاں تک پہنچا تو میں نے اپنی کانوں میں انگلیاں ٹھونستے ہوئے کہا میں کچھ نہیں سننا چاہا میرا دل کہہ رہا ہے کہ یہ شخص جھوٹ بول
رہا ہے۔ اللہ کایقینا اس قہر نازل ہوگا اور اسی لمحے ادھر سے وہی حوالدار آگیا اور مجھ سے بولا ’’آئو تمہارا بلاوا ہے‘‘ اور اس کے
ساتھ فوراً چل پڑا وہ مجھے ایک اور احاطے میں لے گیا وہاں جا کر مجھے حیرت ہوئی کہ بابا جیب تراش کے اردگرد بہت سے قیدی اس
طرح بیٹھے ہوئے ہیں جیسے کسی پیر کی کوئی مجلس ہو۔ حوالدار نے وہاں جا کر بابا سے کہا حضور میںلے آیا ہوں۔ اسے بابا نے میری
طرف دیکھا اور اٹھے اور مجھے گلے لگاتے ہوئے کہا ’’تم بہت بڑے آدمی بنو گے۔ یہاں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی نا‘‘ میں نے انہیں
بتایا کہ اور تو کوئی پریشانی نہیں ہوئی مگر۔۔۔۔ اور پوری تفصیل بیان کر دی۔ بابا نے کہا ’’اس بدبخت مولوی کو فوراً بلایا جائے۔
تھوڑی ہی دیر میں مولوی آگیا۔ بابا نے اس مولوی کی سرزش کی تو اس نوجوان مولوی نے عجیب قصہ سنایا اس نے کہاکہ ’’وہ جس
مدرسہ میں پڑھتا تھا اور اس کے مولوی نے اس کے ساتھ زبردستی بدفعلی کی۔ جس پر میں نے اسے کہا کہ وہ گھر جا کر بتائے گا تو
مولوی نے بخاری شریف نکال لی اور ایک روایت کا مجھے ترجمہ کر کے سنایا پھر قرآن حکیم نکال کر یہی آیت سنائی او ر اس کا یہی
ترجمہ بتایا خیر میں نے اس کے بعد گھر جا کر تو کسی کو یہ بات نہیں بتائی مگر سوچا کہ یہ گناہ ہے یا نہیں اس کے بارے میں تو بہتر وہی
مولوی جانتا ہے مگر ایک بات طے ہے کہ اس نے میری عزت لوٹ لی اور ہمارے معاشرہ میں اگر کسی کی زبردستی عزت لوٹ لی
جائے تو اس کا بدلہ اسے قتل کر کے لیا جاتا ہے۔ سو میں نے مولوی کو قتل کر دیا۔ یہاں جیل میں یہ روایت اور آیت تو میں صرف
شیدے کے حکم پر سنایا کرتا ہوں اس جیل میں رہ کر شیدے سے دشمنی کرنا دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر رکھنا ہے۔آقا قافا نے
یہاں پہنچ کر مجلس ختم کرنے کا اعلان کرنے لگے تو ایک شخص جو نظم کا بہت مشہور شاعر ہے اس نے کہا’’جی مجھے ایک سوال کی
اجازت دی جائے ‘‘آقا قافا نے ہاں میں سر ہلا دیا ۔نیلے رنگ کی پینٹ اور سرخ شرٹ میں ملبوس اس شخص نے کہا’’میں نے سنا ہے
آپ کی اردو شاعری پر بڑی گہری نظر ہے۔میں آپ سے اردو شاعری کے پس منظر میں جاگتے ہوئے رنگوں کی فلااسفی پر گفتگو
کرنا چاہتا تھا‘‘
آقا قافا کچھ دیر خاموش رہے اور پھر کہنے لگے
’’اس محفل میں منصور آفاق موجود ہیں میرا خیال ہے وہ اس موضوع پر مجھ سے بہتر بات کریں گے ‘‘
اور پھر آقا آقافا نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا
’’یہاں آجاوٴ ‘‘
میں آقا قافا کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا وہ مجھ سے کہنے لگے ۔ ’’پہلے یہ بتاوٴکہ رنگ کیا ہوتے ہیں اور یہ جو اردو نظم کے معروف
شاعر ہیں ان کی شاعری میں کونسا زیادہ کارفرما ہے اور کیوں ‘‘
میں نے کہا
’’رنگ اس طاقت کو کہتے ہیں جو ہمیں ایک حسیاتی تجربے سے دوچار کرتی ہے ۔رنگوں کی فلاسفی پر غور کیا جائے تو سوچنا پڑتا ہے کہ
رنگوں کی فطرت کیا ہے ؟ ان کی اصلیت کیسی ہے؟ اور ان سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہوئے یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ
کیاہر شخص میں رنگوں کو سمجھنے کی اتنی قابلیت ضروری ہے کہ وہ ان کا صحیح تصور کرتے ہوئے انہیں دانستہ یا غیر دانستہ طور
پراستعمال کر سکے ؟ لمحہ ئ موجود کی سماجی اور ثقافتی زندگی میں رنگوں کے بے تحاشا استعمال نے معنی کے اعتبار سے انہیں ایک وسیع
بصری فرہنگ سے وابستہ کر دیا ہے ۔رنگوں کی معنویت مختلف تہذیبوں اور ادوار میںبدلتی بھی رہی ہے ۔ایک وقت تھا کہ رومن
تہذیب میں جامنی رنگ طاقت ، اقتدار اور اشراف کا رنگ سمجھا جاتاتھا اور بڑے لوگ جامنی رنگ کے فرغل پہنتے تھے ۔ ابھی
دوسری جنگِ عظیم سے پہلے یورپ اور امریکہ میں سرخ رنگ بہت زیادہ پہنا جاتا تھالیکن جنگ ختم ہونے کے بعد لوگوں نے ہلکے
نیلے رنگ کے ملبوسات پہننے شروع کردئیے ۔۔ شاید امن کی علامت کے طور پر ۔ ۔ ۔ رنگوں کو دیکھ کر انہیں استعمال کرنے والے
کی شخصیت کو کسی حد تک سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ مصوری کی تنقید کے باب میں تویہ کام بہت ہواہے ۔ادب میں بھی شاید
کسی نے کیا ہو۔میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی تخلیق کار کے رنگوں کو دیکھ کر اس کی لاشعوری گرہیں کھولی جاسکتی ہیں ۔ غالب کی
شاعری میںسبز رنگ کی کثرت ہے اور شاید یہی چیز اسے پچھلی دو صدیوں سے مرجھانے نہیں دے رہی۔کیونکہ سبزرنگ کائناتی
رنگ ہے انسانی شخصیت کوسب سے زیادہ فرحت پہنچانے رنگ ہے۔ زندگی کا رنگ ہے ۔ نمو کا رنگ ہے ۔ نرم روی کا رنگ ہے
۔کشادہ دلی کا رنگ ہے۔ مگر اس وقت ہم کینوس پر صرف سرخ رنگ کو دیکھتے ہیں کیونکہ یہ جو ہمارے دوست یہاں م رنگوں کی
فلاسفی پر بات کرنے آئے ہیں ان کی شاعری میں یہی رنگ سب سے زیادہ بکھرا ہوا ہے۔
سرخ رنگ رنگوں کی دنیا میںسب سے زیادہ تکلیف دہ رنگ ہے ۔ اگرکسی شخص کو کسی ایسے کمرے میں قید کردیا جائے جہاں اس کی
نگاہ صرف سرخ رنگ میں محدود ہو کر رہ جائے تو وہ شخص کچھ عرصہ میں نفسیاتی مریض ہو جائے گا۔ خودرنگ بنانے والے نے
اس رنگ کا استعمال بہت کم کیا ہے۔ کائنات کو دیکھا جائے توسورج کے طلوع و غروب میںاس رنگ کی عمل داری نظر آتی ہے یا
کہیں کہیں پھولوں ،پھلوں اور سبزیوںمیںیہ رنگ جھلکتا ہے ورنہ کائنات میں سفیدی اور سیاہی کے بعدصرف ہرے اور نیلے
رنگ کی جلوہ سامانیاں دکھائی دیتی ہیں۔سرخ رنگ میں ایک وحشت سی ہے اور اس وحشت کو چھپانے کیلئے فطرت ِاسے ڈھانپتی
ہوئی نظر آتی ہے۔ جانداروں میں یہ رنگ لہو کی صورت میں دوڑتا پھرتاہے مگر بدن کے لباس کے اندر۔ہرر نگ کے کچھ مثبت
اور کچھ منفی پہلو ہوتے ہیں سرخ رنگ جہاں غصہ ، تشدد، ظلم اوربے رحمی کا عکاس ہے وہاںاس میں جرات، بہادری ،خوشی اور مہم
جوئی کی علامت بھی موجود ہے۔سرخ رنگ کی اِنفرادیت اور شِدت کے اظہار کیلئے یہی بات بہت ہے کہ یہ رنگ بتدریج ایک
طرف پیلے رنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے اور دوسری سمت نیلے رنگ میں ۔ اسے فطرت کے ہرے رنگ میں تبدیل ہونے کیلئے ان
دونوں رنگوں میںسے کسی ایک رنگ میںسے گزرنا ضروری ہے۔۔ انیسویں صدی کے آغاز میں روس میں آنے والے اشتراکی
انقلاب کے ساتھ یہ رنگ بہت ابھرکر سامنے آیا اور اسے حتمی طور پرانقلاب کے رنگ کا اعزاز حاصل ہو گیا ۔پوری دنیا کے
انقلابیوں نے اِسے اپنے ماتھے پر سجا لیا۔مصوری اور اد ب میں بھی اسی رجحان کے تحت سرخ رنگ کثرت سے استعمال ہوا۔ خاص
طور پر ترقی پسند تحریک کے زیر اثر تخلیق ہونے والے ادب میں اس رنگ کی پر چھائیاں بہت زیادہ دکھائی دیتی ہیں ۔ ہمارے یہ
شاعر نظریاتی اعتبار سے ترقی پسند تحریک سے کبھی وابستہ نہیں رہے اور اشتراکیت سے بھی ان کی وابستگی صرف اِس حد تک ہے
کہ انہوںنے اپنے کتے کانام ’’کا مریڈ‘‘ رکھا ہوا ہے ۔‘‘
اس شخص نے کہا ’’وہ بیچارہ مرحوم ہو گیا ہے۔‘‘
آقا قافا کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور میں نے کہا
ہاں تو میں کہہ رہا تھاکہ ان کی شاعری کے سرخ رنگ سے لتھڑے ہوئے ہونے کی وجہ کسی طرح کی نظریاتی وابستگی نہیں ان کے
پاس سرخ رنگ کا استعمال مثبت اور منفی دونوں رویوں میں موجود ہے اپنے قطعی مفہوم کے ساتھ بھی اور تفصیلی اعتبار سے بھی
۔انہوںنے جہاں بھی سرخ رنگ کو بکھیرا ہے وہاں اسے معنویت سے محروم نہیں ہونے دیا۔‘‘وہ شاعر کہنے لگا

’’ ایسا ہر گز نہیں میں تو سرخ رنگ سے الرجک ہوں میری شاعری میں اس کی کثرت نہیں ہو سکتی ‘‘
میں نے برائے راست اسے مخاطب کرتے ہو کہا
’’تم جب کہتے ہو ’’غصہ کی سرخ شال میں ‘‘ تو یہاں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سرخ شال کیوں کالی کیوں نہیں کیونکہ سرخ رنگ غصہ کی
علامت ہے ۔ تمہارے پاس ’’پان دار بوسے ، شہوت کے سرخ ڈورے ، مہندی کے رنگ،سرکش خون فروش،خونی کار، رات کی
خونیں تصویریں ،شرمیلی سی بیر بہوٹی،لال چھڑی ،بھل بھل بہتے خون میں لت پت،میلی صبح میں سرخ رنگ ،آنگن کی دلہن
،سورج ڈوب رہا تھا، انگاروں کی بھٹی ،سرخ گلاب ،مقتل ، افق سرخ تھا،سرخ زہر میں بچھی زرد زرد بالیاں،سرخ لبوں کا دھیان
‘‘جیسی بے شمار علامتیں موجود ہیں جو تمہاری شاعری کے پورے منظر نامے کو سرخ کئے ہوئے ہیں مگر اس تصویر میں سب سے
اہم کردار خون کا ہے۔ خون سے تمہاری رغبت کا یہ عالم ہے کہ تم نے اپنے ایک شعری مجموعے کانام بھی اپنی ایک نظم’’بلڈ بینک
‘‘ کے عنوان پررکھا ہوا ہے۔ تم اپنی اس نظم میں کہتے ہو ’’پھر ان گنت سیال موتی سیلِ خوں میں بہہ گئے‘‘اور یہ سیلِ خوںمجھے
تمہاری نظم ’’جوئے خوں‘‘ کی طرف لے جاتا ہے ’’ کوئی دیکھے مجھے ۔ بہہ رہی ہوں یونہی ۔ سالہاسال سے ‘‘۔خون بہنے کی علامت
تمہارے پاس ایک ایسی عجیب و غریب وسعت کے ساتھ دکھائی دیتی ہے جو مقتل کی صبح سے ٹپک ٹپک کرٹیلی ویژن کی شریانوں
سے پھوٹ پھوٹ کر بہتی ہوئی مہواری کے مردہ لہو تک پہنچ جاتی ہے اور سرچشمہ ئ خون یعنی زخم تمہارے پاس ایک ایسا استعارہ
ہے جو ہر لمحہ اپنا مفہوم بدل لیتا ہے ۔ جب تم کہتے ہو ’’زخم سے معافیاں نہ مانگ‘‘تو یہاں زخم کی معنویت کچھ اور ہے مگر’’نئے
زخموں کی بدحواس زمیں‘‘ اور’’ جو زخم کہ سرخ گلاب ہوئے ‘‘ میں زخم کسی اور تفہیم سے بھر جاتا ہے۔اور جب تم کہتے ہو’’مگر
نگاہِ سیپی کے ایک زخم کا سوگ‘‘ یا ’’خون سے دائرہ ئ خواب بنانا ہو گا‘‘تو زخم کا مطلب ہی بدل جاتا ہے۔
تمہاری بیشتر نظمیںسرخ رنگ میں ملبوس ہیں۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس بات کے پسِ منظر میں تمہاری وہ جبلت کار فرما ہے جو
کسی ’’انتباہ ‘‘کو دیکھ کر انسان کواس کے برعکس عمل کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ سرخ نشان خطرے کی علامت ہے ۔ لوھے یا انسان
کو گرم کیا جائے تو وہ سرخ ہو جاتا ہے ۔بیل کے سامنے سرخ کپڑا لہرا یا جائے تو وہ طیش میں آکرحملہ کر دیتا ہے۔لال جھنڈی
لہرانے سے ٹرین یا ٹریفک روکی جاسکتی ہے ۔ریڈ لائٹ ایریائ دنیا کے ہر معاشرہ کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔فٹ بال کے میدان
میں سرخ کارڈ دِکھا کر کھلاڑی کو میدان سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔یعنی تم نے خطرے کے نشان سے بغاوت کرتے ہوئے ادب
میں ہر وہ کام کرنے کی کوشش کی جسے مشرقی تہذیب کی ضِدسمجھا جاسکتا تھا۔ شاعری میں جنسیات تمہارا ایک اہم موضوع ہے اور
جنسیات میں بھی کراہت آمیزجنسی تعلق ۔ اگرچہ جنسیات کا رنگ نیلا ہے مگر تمہاریپاس اس کی وحشیانہ کراہت آمیزی نے اسے
خون سے لت پت کردیا ہے۔ میں سرخ رنگ کے اظہار کے مثبت پہلو نظر انداز نہیں کررہامگر میرے نزدیک اس مثبت عمل کی
تہہ میں بھی کوئی منفی رویہ موجود ہے جس طرح اسٹیشنوں پر سامان اٹھانے والے قلیوں کی وردی سرخ ہوتی ہے اور اسی اسٹیشن پر
جب کسی بڑی شخصیت نے اترنا ہوتا ہے تو وہاں ریڈ کارپٹ یعنی سرخ قالین بِچھایا جاتا ہے۔
تمہارے پاس موجود سرخ رنگ اپنی تمام تر شِدت ، بے رحمی اور وحشت کے ساتھ جنسیت سے وابستہ ہے ’۔’ سرخ لب ، مشرقی
دلہن کی سرخ لباسی ،شب باشی کا زندہ لہو ، عورت کا مردہ لہو، شہوت کے سرخ ڈورے ، سرخ آبدوزیں، سرخ جزیرے، نافِ زخم،
شہ رگ میں اترتا ہوانامردی کا ٹوٹا استرا، خبروں کی خوں پاشی، زرخیز بدن پر کھِلتے ہوئے سرخ دھبے، پتلیوں میں جمع ہوا خون، لہو
میں صدا کے ہلکورے، بستر پر پہلی جنگِ عظیم‘‘جیسی لائنیںتمہاری شاعری سے ’’ریپ‘‘ ہوتی ہوئی زندگی کا تصور ابھارتی ہیں
یعنی دست درازی سے نبرد آزما ، زخم زخم ،لہو لہان زندگی۔ بچپن کا کوئی واقعہ بھی اس کا محرک ہو سکتا ہے۔‘‘
ایک شخص اٹھ کر کہتا ہے
’’جی ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ۔ ہمیں ادب سے کوئی شغف نہیں ہم تو آپ کی باتیں سننے آئے ہیں ‘‘
آقا قافا نے مجھے کہا
’’منصور تم جائو اپنی جگہ پر بیٹھ جاوٴ ‘‘
اور پھر اس شخص سے کہنے لگے
’’کبھی کبھی میرا دل بھی چاہتا ہے کہ وہ باتیں جو مجھے اچھی لگتی ہیں ۔ میں بھی سنوں ۔آج کی محفل ختم کرتے ہیں کل پھر ملیں گے ‘‘
اور آقا قافا اٹھ کر چلے جاتے ہیں ان کا موڈ خراب ہو گیا ہوتا ہے ۔ ادبی گفتگو سے بور ہونے والا شخص بڑا شرمندہ دکھائی دے رہا تھا
۔ سائیکی نے اس سے کہا
’’اپنی ذہنی سطح بڑھانی چاہئے یہ نہیں کہ دوسرے کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی سطح سے کم تر درجے پر آکر گفتگو کرے ‘‘
ایک دو اور لوگوں نے بھی اسے بری نظر سے دیکھا ۔وہ جلدی جلدی وہاں سے نکل گیا۔
ایک اور شخص نے اٹھ کر سوال کیا ’’ جی میں ’’سر مد کے بارے میں کچھ جانناچاہتا ہوں ‘‘
آقا قافا کہنے لگے
’’سرمد کے آبا اجداد کا تعلق آرمینہ سے تھا اور وہ مسلمان ہونے سے پہلے یہودی تھے ۔ سرمدگوالیار میں رہتے تھے مغل بادشاہ
شاہجہان کے بیٹے دارا شکوہ کے ساتھ ان کی بہت دوستی تھی۔ نظریاتی ہم آہنگی بھی بہت تھی۔ اورنگ زیب نے اپنے دورِ اقتدار
میںانہیں مسجد میں آکر نماز پڑھنے کی درخواست کی تھی۔ اس زمانے میں ہر مسلمان پر فرض تھا کہ وہ حکومت کی تسلیم شدہ
مساجد میں آکر نماز ادا کرے۔ سرمد اپنی دنیامیں مست ایک ایسے مجذوب آدمی تھے جن کا ہر لمحہ عبادتِ الٰہی میں گزرتا تھا۔ان
کے نزدیک وہ کسی خاص وقت اور خاص جگہ پر عبادت کے پابند نہیں تھے۔ ویسے بھی ان کا ہر لمحہ ، ہر سانس، ہر مقام پرعبادت اور
ریاضت سے سرشار رہتاتھا سووہ شاید بادشاہ کے فرمان کو بھول گئے یا شایدانہوں نے مسجد میں آکر نماز پڑھنے سے انکار کردیا۔
اس جرم کی پاداش میں انہیں جاں سے گزرنا پڑااور اس میں کوئی شک نہیں کہ سرمد جیسے لوگوں کیلئے دنیاوی قوانین بازیچہ ٴ اطفال
سے زیادہ نہیں ہوتے ۔جب ان کی گردن جسم سے جدا ہوگئی تھی تو اس وقت بھی ان کی انگلی اپنے لہو میں ڈوب کراللہ کا نام لکھتی
چلی جارہی تھی۔ ان کا سرکے بغیر دھڑکئی قدم چلا تو ان کے مرشد جنہیں وہ’’ہرے بھرے صاحب‘‘ کہتے تھے انہوں نے سرمد
سے کہا ’’اپنے راز کو فاش مت کر‘‘تو ان کا سربریدہ بدن مردہ حالت میں زمیں پر گر پڑا۔اس بات کی حقانیت ثابت کرنے والے
اس حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ جسم ، احساس اور دماغ کے علاوہ ایک اور چیز روح بھی ہے جس پر کبھی موت واقع نہیں ہوتی۔اور
اس کا تعلق وحدت ِ کل سے ہے، خدا کی ذات میں اپنی ذات کو فنا کر دینے والی روحیں خدا کے ساتھ اپنے تعلق کواتنا زیادہ مضبوط
کرلیتی ہیںکہ خدا خود ان کے ہاتھ پائوں بن جاتا ہے ۔وہ دلیل کے طور پر قرآن حکیم کی وہ آیات پیش کرتے ہیں جن کا مفہوم کچھ
یوں ہے کہ وہ زمینوں اور آسمانوںکا نور ہے جس طرح طاق میں چراغ ۔۔اور چراغ میں شیشہ ۔۔اتنا چمک دارجیسے ستارہ اور یہ
روشن ہے زیتون کے تیل سے جو کہ نہ مشرق کا ہے اور نہ مغرب کااور جو بے پناہ روشن ہے روشن در روشن ہے مگر اسے آگ چھو
کر نہیں گزری اور خدا اپنی اس روشنی تک ان لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے جنہیں چاہتا ہے۔
سرمد نے اپنی شاعری میں بھی اسی بات پر زور دیاہے کہ خدا انسان کو اپنا آپ دے دیتا ہے ۔جس پر وقت کے علمائے کرام نے سر
مد کے خلاف فتوے بھی دیئے تھے۔ بعض صوفیائ نے اس بات کی وضاحت کچھ یوں کی ہے کہ فرض کرو کہ کوئی شخص کہیں چھپا
ہوا ہے مگر وہ حرکت کر رہا ہے اور اس کی حرکت اس کے ہونے کی خبر دے رہی ہے کہ وہ کہاں ہے، خدا کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ۔
کوئی شخص کبھی خدا تک نہیں پہنچ سکتا خود خدا انسان تک پہنچتا ہے۔
سرمد کی رباعیات خدا کی ذات میں جذب ہو جانے کے جذبے سے سرشار ہیںان کے مصرعے کی کرافٹ میں ایک والہانہ پن
ہے۔خدا کے ساتھ اپنے تعلق کے اظہارمیںاتنی گرم جوشی کا احساس اور کہیں نہیں ملتا ۔وہ کہتے ہیں ’’اگر میں خالص ہوتا تو میں
گناہوں کی معافی کی شیرینی کا ذائقہ کبھی نہیں چکھ سکتا ۔۔۔ اگر میں پاک ہوتا تو میرے آنسو نہ بہتے ۔۔اے محبت اے الوہی
انکسار۔۔۔اے ہمدرد ،اے رحیم، اے درگزر کرنے والے ۔۔ اگر میں خالص اور شفاف ہوتا تو تجھے کبھی نہ جان سکتا‘‘۔سرمد کی
شاعری میں اسکی مقدس دیوانگی ابھر ابھر کر سامنے آتی ہے اس حوالے سے ایک حدیث کچھ یوں ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک
مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں مجنون کی حالت کو نہ پہنچ جائے۔
سر مدکو اپنے زمانے کے لوگ اتنا زیادہ مانتے تھے کہ جب انہیں شہید کردیا گیا تو ہر شخص کی زبان پریہی آیا کہ اب مغلیہ خاندان کا
اقتدار زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا ۔ اس وقت مغلیہ سلطنت اپنے عروج پر تھی اور بظاہر کہیں اس کے زوال کا کوئی جواز نظر نہیں
آتا تھا ۔ سرمد کے ماننے والے اس وقت بھی یہی کہتے تھے اور آج بھی یہی کہتے ہیں کہ مغلوں کے زوال کا پہلاسبب سرمد کا قتل ہے
۔روحانی بادشاہت کے مالک مرنے کے بعد بھی زمینی بادشاہت کو الٹ دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ سرمد کی قبر آج بھی سرخ ہے
ان کے ماننے والوں نے علامت کے طور پر اس قبر کارنگ سرخ رکھا ہوا ہے۔ سرمد کی قبر کے ساتھ ایک سبز رنگ کی قبر ہے کچھ
لوگ کہتے ہیں کہ یہ سرمد کے مرشد کی قبر ہے جسے وہ’’ ہرے بھرے صاحب‘‘کے نام سے یاد کرتے تھے اور کچھ لوگوں کے
خیال میں وہ ایک صوفی بزرگ کمالی ہے جو ایک اور صوفی بزرگ جمالی کے ہمزاد تھے ۔جمالی کی قبر بھی وہیں موجود ہے، ان قبروں
کا ذکر اس لئے کر رہا ہوں کہ سرمد کی قبر کے حوالے سے کسی شاعرنے کہا ہے
سرمد کی قبرسرخ ہے یاسبز اِس سے کیا ہر ظلم پوش حکم سے انکار۔ اس کانام
اسی نظم کا ایک اور شعر دیکھئے
وہ جبر کے خلاف تھا سچائی کا جلوس تاریخ کی سڑک پہ ہے ضوبار ۔اس کا نام
دراصل جولوگ روحانی طور پر اس باطنی دنیا سے آشنا نہیںجہاںزماں ومکاں کے اسرار گردش میں ہوتے ہیںانہیں ایسے
اشخاص کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہوتا کہ جو روحانی طور پر بلندیوں پر پہنچ چکے ہوتے ہیں۔اِن مقدس دیوانوں کا
روحانی راستے پر الوہی سفر اکثرظاہری اور مروجہ رویوں سے متضاد ہوتاہے اور ان کی مقدس زندگی کو عام اقدار اور حقیقت پسند
رویوں کی شدید مخالفت کا کچھ احساس نہیں ہوتا ۔ وہ خود ملامتی میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں ان کی زندگی کا اولین مقصد اپنی ذات
کو فنا کرنا ہوتا ہے کیونکہ جب تک کوئی مکمل طور پر اپنی نفی نہیں کرلیتا وہ اس وقت تک اثبات کی اس منزل تک نہیں پہنچ سکتا جو
راہِ سلوک کے ہر مسافر کا مقصدِ حیات ہوتی ہے اورتاریخ نے ہمیشہ یہی ثابت کیا ہے کہ بادشاہوں اور فقیہوںکے فیصلے غلط تھے۔۔
معاملہ چاہے منصور حلاج کا ہویا سرمد کا۔۔تاریخ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ وہ سچائی پر تھے۔ جب اس طرح کے لوگ کسی تہذیب
میں قتل ہوتے ہیں تو پھر وہ تہذیبیں زوال پذیر ہو جاتی ہیں۔ مغل تہذیب جو اپنے دور میں ایک بہت بڑی تہذیب گردانی جاتی تھی
اس واقعہ کے بعد کتنی کم مدت میںٹکڑے ٹکڑے ہو کر ختم ہو گئی۔ مجھے یہ بات لکھتے ہوئے خوف محسوس رہا ہے کہ کہیں ہماری
تہذیب کے خون سے لتھڑے ہوئے ہاتھ ہمیں بھی کسی ایسے ہی خوفناک انجام سے دوچار نہ کردیں ۔‘‘
اور پھر آقاقافا اندر چلے جاتے ہیںمیںبھی سب لوگوں کے ساتھ باہر نکل آیا
میری بھی وہ شام اپنے معمول کے مطابق گزر گئی سائیکی کو کوئی کام تھایا پھر وہ ناراض پھرتی تھی ورما سہما ہوا تھا ۔آج میرے پاس
بہلول کے علاوہ بھی ایک کام تھا ۔میں نے سائیکی کی کہانی کے اگلے اپنی اسوڈ پڑھنا تھے ۔گھر پہنچتے ہی میں نے سکرپٹ پڑھنا شروع
کردیا