گیارہویں مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول

 

تکون کی مجلس


باطن کے گلاس میں سمندر پڑے پڑے صحرا بن گیا۔مچھلیاںسن باتھ کرنے لگیں۔ایک ایک کیکرکے درخت سے سوسو
کچھوے لٹک گئے۔صدیوں کے پیٹ سے ٹائی ٹینک نے نکل کرموٹیل کا روپ دھار لیا۔موٹیل کے ڈانسنگ روم میں آژدھوں کا
رقص جا ری ہے۔ڈائننگ ٹیبل پر بھیڑیے بیٹھے ہوئے ہیں ۔روباہیںانسانی گوشت سرو کر رہی ہیں۔ بار روم میںاونٹ اونگھ رہے
ہیں ۔جم میں غزال اپنی ٹانگوں کے مسل مضبوط کرنے میں لگے ہیں۔ہیر ڈریسر بلیاں کتوں کے بال کاٹ رہی ہیں۔ بیڈ روموں
سے ہاتھیوں کے خراٹے سنائی دے رہے ہیں۔شاید کسی نے گلاس میں جھانک کے دیکھا ہے

 


گیارہویں مجلس


قسط نمبر 2

سین نمبر1

نواب سکندر حیات کی خوابگاہ میں نور دروازے کے پاس کھڑی نواب سکندر حیات کی طرف دیکھ رہی ہے۔ نواب سکندر حیات کی
پشت نور کی طرف ہے۔اور وہ ٹہلنے کے انداز میںآگے بڑھتا جا رہا ہے۔ نور کہتی ہے
نور ؛ مجھے بلایا ہے آپ نے‘‘
وہ چہرہ موڑ کرکے نور کی طرف دیکھتا ہے۔اور پھر آگے بڑھ جاتا ہے۔ وہ دو قدم آگے جا کر پھرمڑتاہے۔اور نور کی طرف بڑھنے
لگتا ہے۔ اس کے چہرے پر غصہ کے بے پناہ تاثرات ہیں۔وہ چلتا ہوا نور کے پاس آتا ہے ۔اور نور کی آنکھوں میںتیز نظروں سے
دیکھتا ہوا پوچھتا ہے۔
نواب سکندر حیات۔‘‘تم نے منشی رحیم الدین کو ارباز خان کے پاسک کیوں بھیجا تھا ‘‘
نور کا چہرہ ایسا تھاجیسے ابھی سوئی ہوئی اٹھی ہواس نے اسی طرح نواب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے﴾
نورہاں ۔۔ ﴿وقفہ﴾۔۔۔بھیجا تھا۔
نواب سکندر حیات‘‘کیوں بھیجا تھا
نواب سکندر حیات۔ ‘‘کیا واسطہ ہے تمہارا سردار ارباز خان سے‘‘
نو رجہا ں ùمیں یہ جا ننا چا ہتی ہو ں کہ ارباز خان جیسے معمولی سردارنے اپنے بیٹے کے لئےùنواب صولت حیات کی بیٹی کا رشتہ
مانگنے کی جراٴت کیوں کی‘‘
نواب سکندر حیات۔ ‘‘ صرف یہی جاننا چاہتی تھی‘‘
نور ۔‘‘ نہیں میں یہ بھی جاننا چاہتی ہوں وہ اتنی بڑی جرائ ت کے باوجود ابھی تک زندہ کیوں ہے‘‘
نواب سکندر حیات۔ ‘‘ اس کی قبر کا چوکھٹا بن چکاہے‘کسی وقت بھی وقت تصویر سجا دی جائے گیùتمہیں معلوم ہے دہن کو ٹ
اسٹیٹ میں اکثرقبروں کے چو کھٹے بنتے رہتے ہیں۔اپنی تصویر کا خیال رکھو نور
ùنورجہان۔‘قبریں تو مجھے بہت اچھی لگتی ہےùمگر آپ بابا کی قبر پرجا نے ہی نہیں دیتے‘‘
بابا کی قبرکے زکر پر نواب سکندرحیا ت ذرا ساپیحھے ہٹ جا تا ہے اور بھیانک نظروں سے کہتا ہے
نواب سکندر حیا ت۔تم جا سکتی ہو‘
نور جہا ن۔بابا کی قبر پریا اپنے کمر ے میںù﴿طنز یہ﴾
نواب سکندر حیا ت۔ابھی کمرے میں‘‘
خواب گاہ کے دروازے پر سٹیٹ کا مینجر یاور علی باہر موجود ہے‘دروازہ کھلتا ہے نور با ہرنکلتی ہے اور یا ور علی جھکتا چلا جا تا ہے‘نور جہا
ن لمحہ بھراسے دیکھتی ھے اورچلی جا تی ہے یا ور علی دروازے سے اندر داخل ہو تاہےùنواب سکندر حیا ت ایک طرف صو فہ پر
بیٹھ جاتا ہے اور کسی گہر ی سو چ میں گم ہے۔ نواب سکندر حیا ت سو چتی ہوئی نظروں سے یاور علی دیکھتے ہوئے کہتاہے۔
نواب سکندر حیات۔‘‘آگ سراپا آگ بن چکی ہے تمہاری چھوٹی مالکن یاور علیù اس سے پہلے کہ وہ دھن کوٹ کے پہاڑوں کو
جھلسا دے اس کے لئے زمین میں کوئی ٹھنڈی آرام گاہ بنا دو۔
یاور علی سردار سکندر حیات کے قدموں بیٹھتا چلا جاتا ہے اور سکندر حیات کے پاوئ ں دابتے ہوئے کہتا ہے‘
یاور علی۔‘‘ حکم کی تعمیل ہوگئی سرکار ۔۔۔۔۔مگر وہ اپنے نواب زادہ عامر حیات۔۔۔‘‘
سکندر حیات۔‘‘ وہ ابھی بچہ ہےù اور اگر بچے کا ایک کھلونا ٹوٹ جائے تو دوسرا لا دیا جاتا ہے‘‘
یاور علی۔ ‘‘میں سمجھ گیا سرکار۔۔۔ ٹھیک ہے سرکار۔۔۔۔ سرکار ۔۔۔۔۔ کچھ دوست نما دشمن اس واقعے کو ا چھالیں گے بہت‘‘
نواب سکندر حیات۔‘‘ میں ان باتوں کو تم سے بہتر جانتا ہوںù بس یہ خیال رہے الزام مجھ پر نہیں آنا چاہئے‘‘
یاور علی۔‘‘ حضور کونسا طریقہ مناسب رہے گا ‘‘
سکندر حیات۔ ‘‘ زہر دے دیا جائے اور کہ دیا جائے کہ اس نے خود کشی کرلی ہے‘‘
یاور ۔‘‘ حضور کا کیا خیال ہے اس کام کے لئے یہ وقت مناسب ہے ‘‘
سکندر حیات۔‘‘ وقت تو مناسب نہیں مگر مجھے اس سے خوف آنے لگا ہےù ۔۔۔۔ اس کے عزائم۔۔۔‘‘
یاور علی۔‘‘ حضور ایک نہتیاور کم زور لڑکی کے کیا عزائم ہو سکتے ہیں آپ جس وقت کہیں اس کے عزائم اس سے چھین لیتے ہیں‘‘
سکندر حیات ۔ ‘‘ تمھارا کیا مشورہ ہے‘‘
یاور علی۔‘‘ آپ حالات کا اچھی طرح جائزہ لے لیں۔ تمام سرداروں سے ملاقات مکمل کر لیں۔۔۔ اس کے بعد اس کام
میںکتنی دیر لگنی ہے‘‘

سین نمبر 2

صبح کے وقت نور ایکسرسائز کر رہی ہے ù اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی صفیہ اس کی طرف بڑھتی جا رہی ہےù نور جھک کر اپنے
ہاتھوں کی انگلیاں پائو ں کی انگلیوں سے لگا کر اٹھتی ہے اورصفیہ آہستہ سے کہتی ہےù
صفیہ۔ ‘‘ منشی رحیم الدین کو مار دیا گیا ہے‘‘۔
ù نور کے ماتھے پر شکنیں ابھرتی ہیں ù چہرے پر ذرا سا اداسی کا تاثر آتا ہے اور پھر سرد لہجے میں صفیہ سے کہتی ہے۔
نور ۔‘‘ ظالم مظلوموں کو مار دینے کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں مگر صفیہ ۔۔ ظالم اور مظلوم میں بہت کم فرق ہوتا ہے چند لمحے۔۔۔
مظلوموں کوظالم اور ظالموں کو ظالم بنا دیتے ہیں۔ وقت کے بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے‘‘۔
صفیہ۔‘‘ چھوٹی مالکن ۔۔ وہ آ پکے وفا دا روں کوچن چن کر مار رہے ہیں ۔
نور ۔‘‘ ہاں مجھے خبر ہے۔ مرا وجود ان دنوں قربان گاہ بنا ہوا ہے۔مرے ہر وفا دار کی موت خنجر کی طرح دل میں پیوست ہو رہی
ہے۔مگر میں اپنے زخم سنبھال کر رکھنا چاہتی ہوں ‘‘۔
صفیہ۔‘‘ چھوٹی مالکن‘ ارباز خان سے ملنا اتنا بڑا جرم تو نہیں تھا‘ جسکی سزا موت ہوتی‘‘۔
پیچھے محل کی عمارت کی چھت پر محافظ نظر ارہے ہیں۔ ایک محا فظ جس کے ہاتھ میں دور بین نظر آرہی ہے
نور ۔‘‘مجھے لگتا ہے ‘ارباز خان کے پاس سکندر حیات کاکوئی راز ہے‘ وہ نہیں چاہتا کہ مجھ تک پہنچے
﴿پھرمحافظوں کو دیکھ کر ﴾ہو نہہ۔۔ایک لڑکی سے ڈرا ہوا دھن کو ٹ کا نواب محافظوں کی آنکھ سے مجھے دیکھ رہا ہے‘۔مری نقل
و حرکت کا جائزہ لینے کے لیے محل کی چھت پر ایک دور بین والے کی بھی ڈیوٹی لگادی ہے‘‘۔

سین نمبر 3

سردار ارباز خان اور اس کے محافظ۔ صبح کے وقت اونچی پہاڑی پر اکیلے مکان میں موجود ہیںاس کے محافظ بھی دور بین سے
چاروں طرف دیکھ رہے ہیںدو ر بین کے دائروں کے اندر ایک پگڈنڈی پر چلتا ہوا آدمی دکھائی دیتا ہے، محافظ آنکھوں سے دور
بین ہٹا کرنیچے کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا ہے۔﴾
محافظ۔‘‘اعجاز خان آ رہا ہے۔‘‘
ارباز خان اٹھتا ہے اور اسی پگڈنڈی پر نیچے کی طرف چل پڑتا ہے جس پر اعجاز خان آرہا ہوتا ہے تھوڑی دیر کے بعد ازباز خان اور
اعجاز خان کی ملاقات ہوتی ہے ارباز خان کہتا ہے
سردار ارباز خان۔‘‘کیا خبر ہے‘ ﴿دھیمے لہجے میں﴾
ا عجاز۔‘‘سردار ارباز خان لندن کے لیے رات تین بجے فلائٹ کرا گئے ہیں۔‘‘
﴿ارباز خان کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے وہ مڑتا ہے اورپھر پگڈنڈی پر بلندی کوچلنے لگتا ہے ارباز خان ùاعجاز خان کی
طرف بیک کیے چلتے ہو ئے کہ رہا ہے۔﴾
ارباز خان۔‘‘اب میں دیکھوں گا۔۔۔ سکندر حیا ت کے محل کی فصیلیں کتنی بلند ہیں۔‘‘
ارباز خان۔‘‘وہ مجھے ایک معمولی سر دار سمجھتا ہے۔اب اسے پتا چلے گا ‘ارباز خان معمولی آدمی نہیں‘ایک غیر معمولی سردار
ہے۔‘‘
اعجاز خان۔‘‘میں نے منشی رحیم ا لدین کے قتل کی افواہ سنی ہے۔‘‘
ارباز خان۔‘‘ اگر یہ سچ ہے تو پھر اچھاہوا ہے وہ صرف نور کا وفا دار تھا۔۔۔۔نو ر۔۔اسے ہر حال میں مری بہو بننا ہو گا‘ میں نے
اپنے بیٹے سر دار ایاز خان کو نواب آف دھن کوٹ بنانا ہے‘چاہے اس میں میری جان چلی جائے۔‘‘
اعجاز خان۔‘‘سردار ایاز خان اس وقت انگلینڈ پہنچ چکے ہونگے۔‘‘

سین نمبر 4

مسٹر جان‘صوفیہ ائیر پورٹ پرموجود ہیں۔مسافر آرہے ہیں‘اور ہال میں بہت سے لوگ انہیں رسیو کرنے کے لیے کھڑے
ہیں‘جنہو ں نے کارڈ بھی اٹھا رکھے ہیں ۔ ایاز خان بھی مسا فروں کے درمیان صو فیہ سے باکل قریب سے گزررہا ہے ‘صو فیہ نے جو
کارڈ اٹھا رکھا ہے اس پر لکھا ہوا ہے ùویل کم مسٹر ایاز‘۔ مگر مسٹر ایاز کے چہرے پر کو تاثر نہیں ابھرتا ہے اور وہ چلتا ہوا مسا
فروں سے آگے لابی میں ایک جگہ جا کھڑا ہوتا ہے اور ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے﴾
پریشا ن حال ایاز کھڑا ہے ۔اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہاکہ اسے رسیو کرنے وا لاہے ۔اور اسی وقت مسٹر جان ‘ ایاز سے کہتا
ہے۔﴾
مسٹر جان۔‘‘ہیلو ینگ مین ‘تم یقنا ارباز خان کے بیٹے ایاز خان ہوùمجھے جان کہتے ہیں۔‘‘
﴿اور مسٹر ایاز کو گلے لگاتے ہوئے﴾
’’یہ جان انگلش والا نہیں اردو والا ہے‘‘
ا ور پھر قہقہہ
﴿ایاز خان ذرا سی جرائ ت کے ساتھ﴾’’آپ نے مجھے پہچان کیسے لیا‘‘
اور صوفیہ آتی ہے اس کے ہاتھ میں کارڈ بھی ہے اور مسٹرجان کہ رہا ہوتا ہے
مسٹر جان۔ تم بالکل اپنے ڈیڈی کی ہو بہو کاپی ہوù ﴿قہقہہ﴾ فوٹو سٹیٹ کاپیù
﴿اور پھر صوفیہ کی طرف مڑ کر﴾
یہ میری پوتی صوفیہ۔اور یہ مسٹر ایاز۔
گڈ مارننگ ۔ مسٹر ایاز
ا ور ھینڈ شیک کے لئے ہاتھ بڑھاتی ہے۔
ا یاز بوکھلا کر صوفیہ کے ہاتھ کی طرف دیکھتا ہے ۔ اور ہاتھ بڑھاتا ہے اور پھرپیچھے کھینچ لیتا ہے۔ جس پر صوفیہ کے چہرے پر
شرمندگی کا تاثر ابھرتا ہے۔۔ اور پھر مسٹر قہقہہ
مسٹر جان ۔ ویل ڈن نیگ بوائےù ویل ڈنù﴿قہقہہ﴾تم ایسٹ کے صحیح نمائیندے ہو۔
صوفہ۔ گرینڈ ڈیڈ ۔ میں بڑی انسلٹ فیل کر ر ہی ہوں ù یہ اپنے آپ کو سمجھتا کیا ہے۔‘‘
مسٹر ایاز عجیب سی نظروںسے صوفیہ کو دیکھ رہا ہے اور اسے سمجھنے کی کوشش کررہا ہے مسٹر جان ایک بھر پور قہقہہ میں کہتا ہے ۔
مسٹر جان ۔ نونو۔ یو آر ٹو منٹس لیٹ﴿پھر قہقہہ﴾یہ تو میں یہاں نہ کھڑا ہوتا تو تمہار ی نیو ہسٹری از فنشڈ﴿اور پھر قہقہہ﴾
صوفیہ۔ گرینڈڈیڈ۔ یہ تو مجھے پاگل لگتا ہے۔ میں ادھر کارڈ اتھائے کھڑی ہوں اور یہ ادھر آگیا ہے۔
مسٹر ایاز خان۔ معافی چاہتا ہوںù دراصل مجھے انگریزی زبان نہیں آتی۔
صوفیہ۔ گرینڈ ڈیڈ۔ اسے تو اتنی انگلش بھی نہیں آتی کہ اپنا نام پڑھ سکے ‘ یہ یہاں کیا کرے گا ۔
مسٹر جان۔﴿قہقہہ﴾ٹو گریٹسٹ آ نیو ہسٹری اف لو﴿اور پھر قہقہہ﴾
اور مسٹر جان سامان والی ریڑھی کو ایک دھکا دیتا ہے۔ اور پھر تینوں باہر کی طرف جانے لگتے ہیں

سین نمبر5

ایک ریستوران کی میز دانیال اور مسٹر کے کے بیٹھے ہوئے ہیں۔دانیال کہہ رہا ہے
دانیال۔ ’’ بابرشائد محبت کی کوئی نئی تاریخ لکھ رہا ہے‘‘
مسٹر کے کے ۔’’ایسا لگتاہے وہ کہیں پاسٹ میں رہ رہا ہے
مسٹر دانیال ۔’’دراصل پاسٹ اور پریزنٹ کوآپس میں جوڑتے ہوئے ذہنی طور پر الجھ گیا ہے۔‘‘
مسٹر کے کے ۔’’مری دلچسپی اس لڑکی سے ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔‘‘
دانیال۔’’وہ لڑکی ہزاروںمیل دور کہیں اونچی فصیلوں میں قید ہے اور ان فصیلوں میں اس کے لیے کھلی ہوئی صرف ایک ونڈو ہے
اور ہے انٹر نیٹ ۔‘‘
مسٹر کے کے۔’’حیرت ہے ‘جس لڑکی کے پاس انٹر نیٹ کی سہولت موجود ہے‘ وہ قید کیسے ہے۔‘‘
دانیال۔ آزادی اور قید کے ان معاملات کا تعلق وہاں کے اندھے رواجوں سے ہے۔ بابر بھی حریت پسندی اور قدامت پرستی کے
اسی دوراہے پر کھڑا ایب نارمل ہوتا چلاجارہا ہے ۔‘‘
مسٹر کے کے۔’’میرا مسلہ صرف اس لڑکی تک پہنچا ہے۔‘‘
دانیال۔’’میں نے کہ دیا ہے کہ آپ کو اس کا ای میل ایڈریس مل جائے گا۔‘‘

سین نمبر 6

بابر اپنے کمپیوٹر پر بیٹھا ہوانور سے رابطہ کررہا ہے۔ نور اپنے کمپیوٹر پر بیٹھی ہوئی ہے ۔ کمپیوٹر پر بابر کی تصویر موجود ہے ù نور :
ہیلو ہیلو
بابر کی آواز: ہیلو ہیلو نور
نور : ہیلو بابر۔ کیسے ہو؟ù ﴿ہنس کر﴾ù وہ چیک کیش کرا لیاہے۔
بابر اپنے کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا ہے
بابر : میں نے اس چیک کے بے شمار ٹکڑے کیے اور پھر انہیں مسٹر کے کے کے منہ پر دے ماراù نور ایسے کرتے ہوئے مجھے بڑا
مزا آیا۔
نور : یہ اختیار کا مزا ہےù اسی مزے کے لئے تو لوگ اقتدار حاصل کرتے ہیں۔
بابر: ایک اختیار کسی چاہنے والی کا بھی اپنے چاہنے والے پر ہوتا ہے۔
نور : یہ محبت کا جذبہ میری سمجھ سے بھی بالا تر ہے۔ یہ کیا بات ہوئی کہ کوئی تم سے محبت کرتا ہے۔ تو تم بھی اس سے محبت کرنے
لگوù میرے خیال میں لوگوں نے اپنی خواہشوں ùغرضوں اور حسرتوں کا نام محبت رکھا ہوا ہے۔
بابر: بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر محبت وہاں جنم لیتی ہے ù جہں دونوں طرف سے خواہش ایک ہوجائیںù جب مجھے
تمہارے ہاتھوں سچ آئوٹ ہوجانے پر خوشی ہوئی تھیù تویقیناً تمہیں بھی مجھے کیچ کرنے کی خوشی ہوئی ہو گی۔
نور :تم پھر خوابوں کی دنیا میں چلے گئے ہوù دیکھو بابرمجھے چلتے پھرتے اور کھیلتے ہوئے خواب دیکھنا اچھا نہیں لگتا
بابر: خواب نہیںù میں بہت جلد وہ چھکا مرنے والا ہوں جو تمہیں اس محل کی اونچی فصیلوں کے اندر سے اڑاتے ہوئے مجھ تک
لے آئے گا۔

سین نمبر 7

صوفیہ اور ایاز کار میں ۔صوفیہ کہہ رہی ہے
صوفیہ: کیا تمہارے علاقے میں مرد عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتے؟
ایاز: ملاتے ہیں۔
صوفیہ: پھر تم نے مجھ سے ہاتھ کیوں نہیں ملایاتھا؟
ایاز: میں کسی لڑکی کو اچھی طرح سمجھے اور پرکھے بغیر کس طرح اس سے ہاتھ ملا سکتا ہوں؟
صوفیہ: یہ کیا بات ہوئی؟
ایاز:ہمارے علاقہ میں لوگ جس لڑکی سے ایک بار ہاتھ ملا لیتے ہیںپھر اسی لڑکی سے ہاتھ ملاتے ہیںù اور لڑکی بھی ساری
زندگی صرف ایک ہی مرد سے ہاتھ ملاتی ہے۔
صوفیہ: تم تو مجھے پاگل بنا کر رکھ دو گےù ہاتھ ملانا کوئی شادی کرنا تو نہیں ہوتا ہے۔
ایاز: شادی سے پہلے بھلا لڑکا لڑکی سے کس طرح ہاتھ ملا سکتا ہے۔
صوفیہ: حیرت ہےù یہ جو سسی پنوںù ہیر رانجھاù اور سوہنی مہینوال تھےù اپنوں نے ساری زندگی ایک دوسرے سے
ہاتھ تک نہیں ملایا تھا۔
ایاز: میرا خیال ہے نہیں ملایا ہوگا۔
دونوں کار سے اتر کر ایک کلب میں داخل ہوتے ہیں
صوفیہ:یہ وہ جگہ ہے ù جہاںلڑکیاں اور لڑکے شادی سے پہلے ایک دوسرے کو تھام کر رقص کرتے ہیںù کرو گے مرے
ساتھ رقص؟
ایاز: تمہارے دادا مسٹر جان کو۔۔۔۔ہم دونوں کے اکٹھے رقص کرنے پر کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا؟
﴿اور صوفیہ کا بھرپور قہقہہ﴾

سین نمبر8

مسٹر جان اور بابررات کے وقت ایک کسینو میں رولٹ ٹیبل پر جوا کھیل رہے ہیں مسٹر جان جیتنے والے ٹوکن اپنی طرف کھینچ رہا
ہے۔ اور اسکی نظر بابر پر پڑتی ہے وہ حیرت سے چونک کر بابر کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے
مسٹر جان: مسٹر بابر تم؟ ù تم بھی؟ ﴿بھرپور قہقہہ﴾
مسٹر بابر: مجھے گیمبلنگ کا کوئی شوق نہیں میں تو آپ سے ملنے یہاں آیا تھا۔
مسٹر جان: اوکے اوکے
اور مسٹر جان اپنے ٹوکن لڑکی کو دیتا ہے۔ اس سے پونڈ لیتا ہے اور پھر دونوں چلتے ہوئے کلب کے اندر ایک صو فے پر آکر بیٹھ
جاتے ہیں مسٹر جان مسٹر بابر سے پوچھتا ہے۔
مسٹر جان: وہ صوفیہ نے تمہیں مسٹر ایاز سے ملایا ہے؟
بابر: کون ایاز؟
مسٹر جان: تم نہیں جانتے ù تمہیں وہ ارباز خان کی کہانی سنائی تو تھی میں نےù مسٹر ایاز اسی کا بیٹا ہےù امیری جان بچانے
کے صلہ میںاس نے مجھ سے کچھ نہیں لیا تھامگر اب۔ ﴿قہقہہ﴾ù وقت بیچارہù وقت۔ میری مٹھی میں سمٹ آیا ہےù
﴿قہقہہ﴾
مسٹر بابر: میں اسی ارباز خان کے سلسلہ میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔
مسٹرجان ۔’’کرو‘‘
مسٹر بابر۔’’دراصل مجھے اس کی مدد کی ضرورت ہے
مسٹرجان ﴿حیرت سے سوچتے ہوئے سوالیہ انداز میں﴾اس کی مدد کی ضرورت ہے تمہیں ؟﴿کچھ وقفہ دے کر﴾اگر اس کیلئے
ممکن ہوا تو وہ ضرور تمہاری مدد کرے گاتم کل لنچ پر میرے ہاں آجانا پہلے اس کے بیٹے سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا وہ تمہاری مدد کر بھی
سکتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ان پتھروں میں تمہیں کیا کام پڑ گیا ہے ‘‘
مسٹر بابر ’’میری زندگی وہیں کسی پہاڑی چٹان کے نیچے کراہ رہی ہے‘‘
مسٹر جان ۔﴿یک بھرپور قہقہے کے ساتھ﴾’’یہ تو کوئی سنگین معاملہ لگتا ہے۔تم یہاں ہو اور تمہاری زندگی وہاں ہے یہ تو لگتا ہے
محبت کی کوئی نئی داستان لکھی جارہی ہے ‘‘
مسٹر بابر۔ ’’آپ تو سمجھتے ہیں کہ محبت کیا ہوتی ہے‘‘
مسٹرجان ۔ہاں جانتا ہوں مشرقی محبت رولٹ کی میز ہوتی ہے جہاں کبھی کوئی جیت نہیں جا سکتا‘‘
مسٹر بابر۔ ’’مسٹرجان ہر مشرقی محبت تو ناکام نہیں ہوتی ‘‘
مسٹرجان ۔’’مشرق میں محبت میں کامیاب ہونے والے کو عاشق نہیں شوہر کہتے ہیں ﴿ایک بھرپور قہقہ﴾

سین نمبر9

عامرحیات ،اس کا کتااور صفیہ محل کے اندر کے باغیچے میں موجود ہیں عامر حیات اپنے کتے کے ساتھ جاگنگ کرتا ہوا آتا ہے اور
ایک خوبصورت سے بینچ پر بیٹھ کر اپنے کتے کی بیٹھ سہلارہا ہوتا ہے کہ صفیہ فریم آتی ہے ۔اور عامر حیات کہتا ہے
عامر حیات ۔ ہاں بول اس پتھر کی چٹان میں کوئی دراڑ پڑی یا نہیں
صفیہ۔میں نے جی چھوٹی مالکن کو بہت سمجھایا ہے کہ آپ اس کیساتھ بے پناہ محبت کرتے ہیں مگر وہ کہتی ہیںمحبت کرنے والے
زبردستی نہیں کرتے۔اگر وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو محبت کا ثبوت فراہم کریں ۔ ممکن ہے میرے دل میں ان کیلئے کوئی جذبہ پیدا ہوجائے
عامر حیات ۔ دنیا میں میں نے صرف دو لوگوں سے محبت کی ہے﴿اپنے کتے سے پیارا کرتے ہوئے ﴾ ایک یہ میرا پیاراجانی ہے اور
دوسری تمہاری چھوٹی مالکن سے۔دیکھ میں سارا دن اپنے اسی’’ جانی ‘‘ کے ساتھ ہوتا ہوں
صفیہ ۔’’ چھوٹے مالک انسان اور کتے میں بڑا فرق ہوتا ہے ‘‘
عامر حیات۔ ’’ہوتا ہو گا فرق مجھے تو کچھ خاص نہیں لگتاصرف یہی ہے کہ جانی کی زبان صرف میں سمجھتا ہوں اور کوئی نہیں
سمجھتا۔لیکن تمہاری مالکن کی زبان تو مجھے بھی سمجھ نہیں آتی کسی اور کیا آتی ہوگی
صفیہ۔ ’’آپ نواب صاحب سے کہیں نا کہ وہ چھوٹی مالکن پر پابندیاں ختم کردیں ‘‘
عامرحیات ۔ میرا خیال ہے لان میں گھاس بہت بڑھ گئی ہے اب اسے کاٹنا ہو گا
صفیہ ۔’’جی چھوٹے مالک گھاس بہت بڑھ جائے تو راستے مٹ جاتے ہیں ‘‘

سین نمبر10

نور صبح کے وقت اپنے بستر سے اٹھتی ہے اس نے سونے والا لباس پہنا ہواہے وہ اپنے کمرے کا پچھلا دروازہ کھولتی ہے باہر نکلتی ہے
باہر ایک ملازم گھاس کاٹ رہا ہوتا ہے۔ ملازم نور کے احترام میں اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔
نور۔’’یہاں گھاس کیوں کاٹ رہے ہو‘‘
ملازم ۔جی نواب صاحب نے خود حکم دیاہے کہ یہاں گھاس بہت بڑھ گئی ہے
نور۔ ۔ مجھے تو بڑھی ہوئی نہیں لگ رہی ‘‘
ملازم۔ جی اتنی زیادہ تو بڑھی ہوئی نہیں ہے ۔
نورجہان ملازم کو غور سے دیکھتی ہے اور کہتی ہے
نور۔یہ تمہارے نیفے میں کیا ہے
ملازم بہت زیادہ گھبرا جاتا ہے ۔ اوروہاںسے بھاگتا ہوئے دکھاتا ہے ۔
نور خود کلامی کرتے ہوئے
نور ۔ہاں سروں کی گھاس ہر طرف پکی ہوئی ہے دیکھتے ہیں کہاں سے گھاس کٹتی ہے‘‘

سین نمبر11

واب سکندر حیات نواب زادہ عامر حیات، نواب سکندر حیات کاکمرہ ئ خاص میں عامر کہہ رہا ہے
عامر حیات ۔ ’’بابا میں کچھ نہیں جانتا ، آپ نور پر عائد کردہ تمام پابندیاں اٹھا لیں
نواب سکندر حیات۔’’اگر وہ کہیں نکل گئی تو بڑی شرمندگی ہوگی تم جانتے ہو کہ ان دنوں دارالحکومت میں بھی اپنے مراسم بہتر
نہیں ہیں
عامر حیات۔ وہ کہیں نہیں جائے گی‘‘
نواب سکندر حیات۔ اگرتمہیں اتنا یقین ہے تو میں تو سوچتا ہوں۔۔۔۔۔اور ہاںمیری صبح دارالحکومت میں سکریٹری داخلہ کے
ساتھ میٹنگ ہے میں نہیں جا سکتا میری جگہ تم چلے جائو ۔ مگر ابھی چلے جاو
عامر حیات ۔بابا آپ فکر نہ کریں ۔ میں شام کو نکل جائو ں گا
نواب سکندر حیات۔ تو پھر تم خود اسے جا کر بتا دو کہ اس پر پابندیاں ختم کردی گئیں۔ ہاں ایک دو گھنٹوں میں نکل جائو موسم کا کچھ
اعتبار نہیں اور میٹنگ بڑی ضروری ہے تمہیں وہاں رئیس خان پوری بریفینگ دے دیگا کہ کیا بات کرنی ہے ۔

سین نمبر12

مقام ۔نورجہان کے کمرے سے باہر دروازے پر۔ عامر حیات صفیہ سے کہہ رہاہے
عامر حیات۔’’میں تمہاری مالکن سے ملنا چاہتا ہوں
صفیہ ’’جی مالکن سو رہی ہیں اور انہوں نے کہا ہے مجھے مت جگایا جائے اگر آپ کہیں تو میں انہیں جگا دوں ‘‘
عامر حیات ۔نہیں نہیں۔میں اس سے اچھے موڈ میں ملنا چاہتا ہوں ۔تمہاری مالکن کا موڈ کس وقت اچھا ہوتا ہے
صفیہ ۔ ’’ملتے ہوئے وقت مالکن کو اچھے لگتے ہیں ‘‘
عامر حیات .۔ٹھیک ہے شام کے وقت آئوں گا ۔

سین نمبر 13۔

مسٹر جان کا گھرمیںڈائننگ ٹیبل پر لنچ کرتے ہوئے گفتگوہو رہی ہے مسٹر جان بابر کو مخاطب ہو کر کہتا ہے
مسٹر جان ’’یہ مسٹر ایاز ہیں میرے دوست سردار ارباز خان کے بیٹے ‘‘
﴿یاز بابر سے ملاتا ہے اور مسٹر جان ایاز سے کہتا ہے ،۔﴾
مسٹر جان ۔تم تو جانتے ہو نگے ۔ یہ کرکٹ کے بہت بڑے کھلاڑی بابر ہیں ۔
مسٹر ایاز ۔ جی میں جانتا ہوں
مسٹر جان ۔ ان کا تمہارے باپ سے کوئی کام ہے ۔
مسٹر ایاز جی ممکن ہوا توابا حضور ضرور کریں گے
مسٹرجان ﴿ایک بھرپور قہقہے کے ساتھ﴾ لیکن انہیں کرکٹ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے‘‘
مسڑایاز۔ جی وہ اس زمانے لوگ ہیں جب لوگ کرکٹ نہیں ’’اٹی ڈنڈا ‘‘ کھیلا کرتے تھے
مسٹرجان کا ایک روز دار قہقہہ
﴿مسٹراایاز بابر سے مخاطب ہو کر ﴾’’کیاآپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ کا کیا کام ہے ‘‘
مسٹر بابر ’’ میں نے وہاں سے ایک قیدی لڑکی کو نکلوانا ہے ‘‘
مسٹر ایاز ’’قیدی لڑکی ۔۔۔اور ہمارے علاقے میں ۔یہ ممکن نہیں ہم عورتوں کو اغوا کر کے قید نہیں کیا کرتے ‘‘
مسٹر بابر ۔’’ وہ دھن کوٹ کے نواب صوالت حیات خان کی بیٹی ہے نور اس کا نام ہے ۔
ایاز حیرت کے عالم سے بابر کو دیکھتا ہے اور پھر بے چینی سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے
مسٹر ایاز۔’’ نہیں میرے خیال اباحضور اس سلسلے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔‘‘
اور خاموشی سے باہر نکل جاتا ہے
مسٹرجان ۔مجھے تو یوں لگا ہے جیسے تم نے مسٹر ایاز کی کسی سلگتی ہوئی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے ‘‘
مسٹر بابر ۔ ’’ مجھے بھی حیرت ہوئی ہے ۔ لگتا ہے اس معاملہ سے اس نوجوان کا بھی کوئی گہرا تعلق ہے
مسٹر جان ۔ میں کسی وقت اکیلے میں کریدنے کی کوشش کروں گا
مسٹر بابر’’مسٹرجان اس کیلئے میں لاکھوں پونڈ بھی خرچ کر سکتا ہوں پلیز میری مدد کریں ۔ کوئی ایسا شخص تلاش کریں جو اس کام کی
اہلیت رکھتا ہو‘‘
مسٹر جان ۔ ایک شخص ہے میری نظر میں ۔ میں اس سے بات کر کے تمہیں بتائوں گا‘‘

سین نمبر 14

صوفیہ کے گھر باہر سڑک کے کنارے پر ایاز ایک بنیچ پر بیٹھا ہوا ہے اور دور سے کار آتی ہے جو ایاز کے بالکل قریب آکر تیزی سے
رکتی ہے اس میں سے صوفیہ اترتی ہے اور ایاز سے پوچھتی ہے
صوفیہ ۔تم یہاں کیا کر رہے ہو
ایاز۔ درختوں سے گرتے ہوئے پتے گن رہا ہوں
صوفیہ ۔ تمہارا چہرہ کہہ رہا ہے کہ تمہیں کوئی پریشانی ہے ‘‘
ایاز۔ ’’نہیں تو ۔ بس ذراتازہ ہوا کیلئے باہر نکل آیا تھا
صوفیہ ۔کوئی تو بات ہوئی ہے کہ تمہیں گھر کے اندر گھٹن محسوس ہونے لگی ہے ۔ ہاں یاد آیا وہ مسٹر بابر نے آنا تھا‘‘
ایاز۔’’ وہ آکر جا بھی چکا ہے ‘‘
صوفیہ ۔ آئو اندر چلتے ہیں ‘‘اور ایاز کار میں بیٹھ جاتا ہے
صوفیہ ۔ کیا کام تھا مسٹر بابر کا ‘‘
ایاز’’وہ کسی لڑکی کو اغوا کرانا چاہتا ہے ‘‘
صوفیہ۔ حیرت سے ۔ ’’مسٹر بابر۔ نہیںوہ ایسا نہیں ہے یقینا تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے‘‘
ایاز۔’’ ہو سکتا ہے مگر بابا اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتے اس سلسلے میں ‘‘﴿کار پورچ میں پارک ہو چکی ہے ﴾

سین نمبر 15

شام کا وقت ہے نور اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی ہے صفیہ داخل ہوتی ہے اس کے ہاتھوں میں ایک بڑا تھال ہے جس میں کھانا سجا ہوا
وہ کھانے کو میز پر رکھتی ہے اور پھر نورجہان کے قریب جا کر رو دینے والی آواز میںکہتی ہے
صفیہ ۔ ’’کھانے میں زہر ملا ہوا ہے ‘‘
نور۔ ۔﴿مڈشاٹ میں کرسی سے اٹھتے ہوئے ﴾ تمہیں کس نے بتایا ہے ‘
صفیہ ۔’’ باروچی نے ‘‘
نور۔ ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک اور جانثار مجھ پر قربان ہو گیا ہے ‘‘
نور ۔ جاوٴاور اسے کہو کہ فوراًغائب ہو جائے ۔اس سے پہلے کے سکندر حیات کے کتے اس تک پہنچ سکیں ‘‘
صفیہ کمرے سے نکل رہی ہے اور عامر حیات اپنے کتے کے ساتھ کمرے میں داخل ہور ہا ہے۔
نور ۔ آپ جانتے ہیں میں پسند نہیں کرتی کہ بغیر اجازت کوئی میرے کمرے میں آئے
عامر حیات ۔’’دروازہ کھلا ہوا ہے سو جسارت کرلی ۔ معافی چاہتا ہوں ‘‘
نور ۔’’ کہیے کیسے آنا ہوا‘‘
عامر حیات ۔ آپ کو یہ بتانا تھا کہ بابانے آپ سے تمام پابندیاں اٹھا لی ہیں
مجھے علم ہے کہ انہوں ہر طرح کی قید سے رہائی کا حکم دے دیا ہے میرے لئے ‘‘
عامر حیات ۔ ’’ میں سمجھا نہیں ‘‘
نور ۔چھوڑئیے اس بات کو ۔۔﴿کتے کی طرف دیکھتے ہوئے ﴾ آپ کا جانی کچھ بھوکا لگ رہا ہے ‘‘
اور پھر نورمیز سے سالن کی پلیٹ اٹھاتی ہے کتے کے آگے رکھ دیتی ہے کتا فوراً کھانے لگتا ہے
عامر حیات ۔’’مجھ سے میرا کتا بہتر ہوا جسے آپ کے کھانے میں شرکت کا موقع مل رہا ہے ‘‘
نور ۔ ۔ ﴿کتے کی طرف بڑھتی ہوئی ﴾یہ اسے کیا ہو رہا ہے‘‘شاید کھانے میں زہر تھا۔ کتے کے منہ سے خون بہتا ہے اور وہ دم توڑ دیتا
تھا
نور ۔ کوئی بہت ہی تیزی سے اثر کرنے والا زہر تھا
عامر حیات مکمل طور بات سمجھ چکا ہوتا ہے وہ خاموشی سے مردہ کتے کو ہاتھوں پر اٹھاتا ہے اور کمرے سے باہر نکل جاتا ہے ۔