بارہویں مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول


تکون کی مجلس


وجدان کے تہہ خانے کی سیڑھیاں اترتے ہوئے تازہ ہوا کے جھونکے میرے چہرے سے ٹکرانے لگے۔مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ
صدیوں کے مقفل تہہ خانے میں تو سانس لینا بھی دشوار ہونا چاہئے تھایہاں معاملہ اس کے برعکس ہے میں جیسے جیسے سڑھیاں
اترتا گیا معطر سے معطر تر ہو گیا۔تہہ خانے میں ہر طرف پھول ہی پھول تھے ۔بالکل تازہ پھول۔ہر پھول کیلئے اس کے حصے کی
روشنی اور ہوا موجود تھی جیسا جیسا تہہ خانے میں قدم آگے بڑھاتا گیا ویسے ویسے اس کی وسعت بڑھتی گئی۔


بارہویں مجلس

 
سکرپٹ پڑھتے پڑھتے میں بور ہو گیا ۔سائیکی نے اس سکرپٹ میںاپنی کہانی کو بہت زیادہ پھیلا دیا تھا۔سوچا کہ تیسری قسط کل
پڑھوںگا۔اب بہلول کے سوا دلچسپی کی کوئی شے نہیں تھی حالات کے جبر سے نکلنے کے لئے وہ ایک پناہ گاہ تھا سو بستر پر لیٹتے ہی
ذہن نے چھلانگ لگائی اور بہلول کا ہم رکاب ہو گیا
ہم رکاب کیا ہوا تھا بہلول چلچلاتی ہوئی صحرا کی دھوپ میں ایک اونٹ کی مہار پکڑ کر چل رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ۔دھکتی ہوئی
ریت کی حدت جوتوںکے تلووں سے گزر کرپائوں کے تلووں کو جلا رہی تھی قافلے کے درمیان میں ایک بہت ہی سجے ہوئے اونٹ
تحت دیوی بیٹھی تھی۔تاجر کے ساتھ ساتھ سر جھکائے ہوئے چل رہے تھے میں نے بہلول سے سرگوشی کی۔’’یہ تو آج سچ مچ
دیوی لگ رہی ہے ‘‘ بہلول بولا’’اگر مجھ سے اسی طرح علم حاصل کرتی رہی تو یہ بہت بڑی دیوی ثابت ہو گی‘‘
پھر سوگیا سچ مچ سو گیاصبح دفتر میں ورما سے ملاقات ہوئی تو وہ بڑے اچھے انداز میں ملا اس کے چہرے کی ویرانی تقریباً ختم ہو چکی تھی
۔میں نے ورما سے کہا ’’مجھے لگتا ہے تمہارے سادھو اور آقا قافا کے درمیان کوئی جنگ چھیڑ چکی ہے ورما نے کہا ’’میں اپنے اندر کسی
تبدیلی کو محسوس کر رہا ہوں مجھے لگ رہا ہے جیسے آقا قافا سچائی پر ہیں مگر میں اپنے ماں باپ کو مذہب کیسے چھوڑ سکتا ہوں اور مجھے یہ
بھی احساس ہو رہا ہے کہ سادھو بابا مجھ سے مایوس ہوگئے ہیں۔ شاید اسی لئے کالی ماتا کی مورتی غائب ہوگئی تھی
دروازہ کھلا اور سائیکی اندر داخل ہوئی ۔میں نے کہا ’’ خیریت تو ہے آج اپنے آفس نہیں گئی ہو ‘‘سائیکی ہنس کر بولی ’’ آفس ہی جانا
تھا اپنے آفس نہیں گئی تو تمہارے آفس آگئی ہوں ‘‘ورما کہنے لگا’’ میرا خیال ہے ۔آپ گپ شپ لگائیں۔میں کچھ کام کر لوں ۔
سائیکی کہنے لگا ’’ نہیں نہیں۔ میں سادھو بابا سے ملنا چاہتی ہوں اسی لئے اس وقت یہاں تمہارے دفتر میں آئی ہوں ۔ورما نے میری
طرف دیکھا ۔میں نے کہا ’’چلو چلیں یقینا سائیکی کوئی اہم بات کرنا چاہتی ہوگی ان سے ‘‘اور پھر میں سائیکی ورما کی کار میں تھے اور کار
مندر کی طرف جا رہی تھی۔ اور پھرہم تینوں اس وقت تک خاموش رہے جب تک مندر نہیں آگیا۔ ورما نے کار روکتے ہوئے کہا
تم یہیں بیٹھو میں بابا سے پوچھ کر آتا ہوں ۔ انہوں نے کہا تو تمہیں بلا لوں گا۔ اور ورما کے جانے کے بعد میں نے سائیکی سے کہا ورما
سادھو بابا کے بارے میں کشمکش کا شکار ہے۔سائیکی کہنے لگی’’یہ سادھو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا میں نے نہیں دیکھاکہآقا
قافا کے پاس کوئی چند لمحے بیٹھا وہ اور پھر اسے چھوڑ گیا ہو میں تمہیں پورے یقین کے ساتھ کہتی ہوں۔ ورما کچھ دنوں کے بعد
مسلمان ہو جائے گا‘‘ اتنی دیر میں ورما واپس آگیا اور کار میں بیٹھتے ہوئے بولا ’’بابا سائیکی سے ملنے کیلئے بھی تیار نہیں ‘‘ میں نے
سائیکی سے کہا ’’ تم کیوں آئی تھی کوئی آقا قافا کا پیغام تھا ‘‘سائیکی ’’ بولی ’’ ورما کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہورہا ۔ دونوں کے بیچ
۔۔ورما کہنے لگا ’’میں ہارتا جا رہا ہوں۔ سادھو بابا نے مجھے جو بات کہی ہے وہ مثبت نہیں منفی ہے‘‘ میں نے پوچھا کہا کہا ہے ’’کہنے لگا‘‘
وہ کہتے ہیں تمہیں اس لڑکی سے جدا کروں اور پھر دو لڑکیاں بلواکر ہم دونوں شراب پیئں اور ان کے ساتھ سیکس کریں تو ہم سب
آقا قافا کے حصار سے نکل جائیں گے۔ سائیکی نے پوچھا ’’کیا تمہارے مذہب میں بھی یہ باتیں گناہ سمجھی جاتی ہیں‘‘ اور ورما نے ہاں
میں سر ہلا دیا۔ ہم واپس دفترپہنچے توآقا قافا کو اپنے دفترمیں بیٹھے ہوئے دیکھ کر حیران و پریشان ہوگئے میں نے حیرت سے کہا ’’
آپ‘‘ تو آقا قافا بولے ’’میں صرف ورما کیلئے آیا ہوں‘‘ اور پھر ورما سے مخاطب ہوکر بولے ’’سادھو بابا کسی مشکل میں ہیں ہمیں
ان کی مدد کرنا چاہئے ‘‘ورما بولا’’ میں سمجھا نہیں ۔مجھے پورا یقین ہے کہ ابھی تم جس سادھو بابا سے مل کر آیا ہو وہ کوئی بہروپیا
ہے۔اس نے مجھے سے دوری کا جو طریقہ تمہیں سمجھایا ہے۔اس نے مجھے چونکا دیا ہے۔۔ورماکہنے لگا ’’ کیا آپ کومعلوم ہو گیا ہے
کہ انہوں نے مجھے کیا مشورہ دیا ہے شاید آپ کو یقین نہیں آ رہا کہ وہ یہ سب کچھ کہہ سکتے ہیں‘ آقا قافا بولے ’’ان باتوں کا وقت
نہیں سادھو بابا کسی مصیبت میں چلو انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ سب پھر کار میں بیٹھ گئے اور کار مندر کی طرف چل پڑی
۔آقا قافا ورما سے کہنے لگے’’ تم اس بات پر یقین رکھو میں نہ تم کو مسلمان کرنا چاتا ہوں اور نہ ہی سادھو بابا سے میری کوئی جنگ
ہے۔ میں ان کا تم سے کہیں زیادہ احترام کرتا ہو‘‘ ورما نے کچھ دیر سوچا اور کہا ’’آپ کی بات درست بھی ہو سکتی ہے۔ میں جب
سادھو بابا کے پاس گیا توکمرے میں کوئی نہیں تھا مجھے صرف آواز سنائی دی تھی ہو سکتا ہے۔ممکن ہے وہ آواز سادھو بابا کی نہ ہو‘‘
اور ہم ایک بار پھر واپس مندر پہنچ گئے۔ اس مرتبہ ورما اکیلا اندر نہیں گیا۔ ہم سب اس کے ساتھ سادھو بابا کے کمرے میں گئے۔
کمرہ خالی تھی۔ آقا قافا نے کہا ’’سادھو بابا موجود ہیں اور تکلیف کے عالم میں ہیں‘‘ ورما نے کہا پوچھا ’’کہاں ہیں کیا ہم آپ نظر
آرہے ہیں‘‘ آقا قافا کچھ بولنے والے ہی تھے کہ مندر کا بڑا پنڈت کمرے میں داخل ہو اور ورما سے مخاطب ہو کر بولا ’’تم نے ان
مسلمانوں کو یہاں لا کر مندر کو پلید کر دیا ہے۔ انہیں فوراً یہاں سے لے جائو‘‘ ورما نے پنڈت سے کہا ’’یہ سادھو بابا کا کمرہ ہے اور
سادھو بابا کا کمرہ ہے اور سادھو بابا نے دنیا کے ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کو یہاں آنے کی اجازت دی ہوئی ہے‘‘ پنڈت
ماتھے پر شکنیںڈال کر بولا ’’سادھو اب یہاں سے ہمیشہ کیلئے جا چکا ہے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ انہیں یہاں سے لے کرفوراً
چلے جاوٴ‘‘ ورما نے پوچھا ’’سادھو بابا کہاں چلے گئے ہیں‘‘ تو پنڈت نے کہا ’’ہمالیہ کے پہاڑوں پر‘‘ آقا قافا جو اتنی دیر سے خاموشی
سے پنڈت کی طرف دیکھ رہے تھے بڑے احترام سے بولے ’’مہاراج جی جھوٹ بولنا آپ کو زیب نہیں دیتا ہمیں معلوم ہے آپ
نے انہیں نیچے تہہ خانے میں قید کر رکھا ہے ہم تو اسلئے حاضر ہوئے ہیں کہ اگر آپ انہیں یہاں مندر میں نہیں رکھنا چاہتے تو
ہمارے حوالے کر دیجئے ہم ان کا پورا پورا خیال رکھیں گے‘‘ پنڈت نے غصہ اور پریشانی سے کہا ’’لگتا ہے مجھے تم لوگوں کو یہاں
سے نکالنے کیلئے پولیس کو فون کرنا پڑے گا۔ یہاں کوئی تہہ خانہ نہیں ہے‘‘ آقا قافا بولے ’’پولیس آئے گی تو آپ بھی سادھو بابا کو
حبس بے جا میں رکھنے کے جرم میں گرفتار ہونگے‘‘ اور یہ کہتے ہوئے آقا قافا دیوار سے ابھرے ہوئے ایک کیل کو دباتے ہیں جو
کسی کپڑے وغیرہ کو لٹکانے کیلئے لگایا جاتا ہے تو دیوار میں ایک در بن جاتاہے ۔ سے سیڑھیاں نیچے اتر رہی ہوتی ہیں۔ پنڈت
سیڑھیوں کا رستہ کھلنے پر جلدی سے باہر نکل گیا۔ہم چاروںنیچے تہہ خانے میں اتر گئے۔ تہ خانہ ایک بڑے حال پر مشتمل تھا ۔
ایک طرف سے سادھو بابا بڑے ہوئے تھے ان کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے تھے ۔ منہ کے اندر کپڑا دے کر اس پر ٹیپ چپکا دی
گئی تھی۔ آقا قافا ورما سے بولے ’’سادھو بابا کو کھلو‘‘ میں ورما کی مدد کیلئے آگے بڑھا تو آقا قافا نے سر کے اشارے سے مجھے روک
دیا۔ ورما نے منہ سے ٹیپ ہٹا دی۔ کپڑا نکال دیا۔ رسیاں کھول دیں۔ سادھو بابا اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور اپنے سر کا پیچے کا حصہ ٹٹولتے
ہوئے بولا ’’اس بدبخت نے پیچھے سے میرے سر پر کوئی چیز ماری تھی جس کی وجہ سے میں بے ہوش ہوگیا تھا ورنہ تمہیں یہاں
آنے کی ضرورت نہ پڑتی آقا قافا‘‘مگر اس پنڈت کا آپ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے‘‘ سادھو بابا آقا قافا سے کہنے لگے۔ اس کے جرائم
اس کا مسئلہ ہیں۔ ورما نے کہا’’ وہ یہاں ہمارے لئے کوئی پرابلم بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے بڑے لمبے ہاتھ ہیں‘‘ سادھو بابا ورما
کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے اگر وہ بے ہوش ہوجانے کے بعد میرے منہ میں کپڑا نہ دے دیتا تو کبھی کا انجام کو پہنچ چکا
ہوتا چلو اسے بلا لیتے ہیں اور سادھو بابا کچھ پڑھنے لگ گیا ابھی اس کا وہ منتر شاید پورا نہیں ہوا ہوگا کہ پنڈت ہمیں سیڑھیوں سے
اترتا ہوا دکھائی دیا اور اندر آکر ایک طرف خاموشی سے کھڑا ہوگیا۔ سادھو بابا نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں وہ آقا قافا سے
مخاطب ہو کر کہنے لگے ’’دیکھ قافا تو اپنی منزل کو پہنچنے والا ہے تیری تقسیم تیری بہتری کیلئے کی گئی تھی اور میں کبھی تیرے راستے کی
رکاوٹ نہیں بنا۔مگرمجھے اچھا نہیں لگا کہ تم ورما کی طرف متوجہ ہو۔ اسے چھوڑ دو تم مسلمانوں کی یہ بری عادت ہے کہ دوسروں
کے مذاہب میں مداخلت کرتے ہو۔ کیا کبھی ہم نے کسی مسلمان کو ہندو بنانے کی کوشش کی ہے۔ تمہاری اپنی مثال تمہارے
سامنے ہے کیا ہم چاہتے تو تیرا مذہب بدلنے کی کوشش کر سکتے تھے نا مگر تمہارے اندر کی شکتی کو تمہارے مذہب کے ساتھ پروان
چڑھایا گیا ہے جب کہ تمہاری وجہ سے ایک بڑے سادھو کی زندگی بھر کی ریاضت بھی ضائع ہوئی مگر عظیم سادھو نے ہر بات
برادشت کی تو پھر بھی ہمارا دشمن بنا ہوا ہے‘‘ آقا قافا نے تحمل سے سادھو بابا کی ہر بات سنی اور کہا’’ میں اگر دشمن ہوتا تو اس وقت
یہاں موجود نہ ہوتا جہاں تک ان دنوں کا تعلق ہے جب میں ہمالیہ کے غاروں میں آپ لوگوں کے ساتھ تھا تو میں نے ان کا حساب
کبھی نہیں کیا جہاں تک میرے مذہب کی سچائی کاتعلق ہے تو آپ اپنے دل سے کہ دیں کہ وہ سچائی نہیں ہے۔ میں ابھی آپ کے
مذہب پر آجاوٴں گا‘‘ سادھو بابا کچھ دیر خاموش رہے اور کہنے لگے ’’تو جانتا ہے سارے مذہب بنیادی طور پر نیکی کے پرچارک
ہوتے ہیں۔ سچے ہوتے ہیں اور ہم جیسے لوگوں کے مذاہب سے کچھ لینا وینا نہیں ہوتا۔ روحانیت، شکتی اور نروان کا تعلق کسی مذہب
سے نہیں یہ مذاہب تو راستے ہیں۔ شکتی کی منزل کی طرف جانے والے ورما نے کہا کہ سادھو بابا ’’کیا کچھ باتیں میں پوچھ سکتا ہوں
سادھو بابا نے کہا ’’ہاں‘‘ اور ورما بولا تھوڑی دیر پہلے آپ کی آواز نے مجھے جو مشورہ دیا تھا کیا وہ درست ہے دوسری بات یہ پوچھنا
چاہتا ہوں کہ جس دن میں پہلی بار آپ کے پاس آیا تھا آپ دیوی جی کو خون سے غسل دے رہے تھے کیا وہ خون کسی انسان کا خون
تھا ۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ آقا قافا اور منصور آفاق کا آپس میں کیا تعلق ہے‘‘ سادھو بابا ہنس پڑے اور بولے ’’میں نے تمہیں کوئی
مشورہ نہیں دیا اس بدبخت نے میری آواز کی نقل اتاری تھی ﴿پنڈت کی طرف اشارہ کر کے ﴾ اور یہی نقل اس کی بربادی کا سبب
بنی کیونکہ تمہاری وساطت سے یہ بات آقا قافا تک پہنچی اور اسے معلوم ہو گیا کہ میں کسی مصیبت میں ہوں جہاں تک خون کی بات
ہے تو وہ انسانی تھا مگر جس شخص کا خون تھا سے کسی نے قتل نہیں کیا تھا اس نے ایک لازوال شکتی کیلئے خود اپنی جان کی قربانی دی
تھی۔۔۔ اور آقا قافا۔۔۔۔ سوچتے ہوئے اور آقا قافا کی دیکھتے ہوئے ﴿آقا قافا نے اپنا سر جھکایا ہوا تھا﴾ آقا قافا اور منصور آفاق
ایک وجود کے دو حصے ہیں اس کے سوا ابھی کوئی اور بات نہیں بتائی جا سکتی اور اب تم لوگ جائو میں نے آقا قافا سے کچھ گفتگو کرنی
ہے ہم لوگ باہر جانے لگے تو آقا قافا نے کہا تم لوگ گھر چلے جائو کل ملاقات ہوگی اور ہم خاموشی سے واپس آگئے۔ کھانے کی میز
پر ورما نے کہا مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی روحانی کلوننگ ہے۔ میں نے کہا کلوننگ میں تو دونوں شخصیتیں بالکل ہم شکل ہوتی ہیں ۔
سائیکی بولی تم دونوں ہم شکل ہی تو ہو کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ آقا قافا نے منہ اور ناک کی پلاسٹک سرجری کرائی ہوئی ہے۔ تم
جانتے تمہارے فنگر پرنٹ اور تمہیںآنکھیںاندر تک ایک جیسی ہیں مگر کلوننگ تو ﴿سوچتے ہوئے ﴾ہمارے مذہب میںجائز
نہیں اور آقا قافا کوئی ایسا کام نہیں کرتے جو مذہب میں جائز نہ ہو۔ میں نے کہا’’ اسلام میں تو کلوننگ جائزہے۔ قرآن حکیم کی
تفاسیر میں بتایا گیاہے کہ اماں حوا کو آدم(ع) کی پسلی سے نکالا گیا تھا وہ کلوننگ ہی توتھی پھر حضرت مریم کا واقعہ بھی تو کلوننگ ہی
ہے ورنہ بن باپ کے کوئی بچہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔ انسان کو یہ باتیں اب معلوم ہو رہی ہیں مگر یہ تو ازل سے موجود ہیں‘‘۔ سائیکی
بولی میرے لئے تو سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ آقا قافاہمالیہ کے پہاڑوں میں سادھووں کے ساتھ جوان ہوئے ہیں۔
منصور تمہیں بھی کوئی ایسی بات یاد ہے‘‘ میں نے کہا ’’میں نے تو صرف حسن کی چوٹیاں ہی سر کی ہیں پہاڑوں کی نہیں پتہ نہیں یہ
کیا معاملہ ہے میں اور آقا قافا کس طرح ایک وجود کے دو حصے ہیں‘‘ ورما بولا جب اسکی اور تمہاری کہانی ایک ہے تو پھر ہمالیہ کے

پہاڑوں پر گزرے ہوئے دن تمہیں کیوں یاد نہیں‘‘ میں نے کہا ’’یہاں بھی وہ ایک علیحدہ شخص کی حیثیت سے رکھتے ہیں مگر کچھ
خبر نہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں مگر انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں‘‘

آج ہم وقت سے کچھ پہلے آقا قافا کی محفل میں پہنچ گئے ۔ دفتر سے نکلتے وقت میں نے ورما سے پوچھا مناسب نہیں سمجھا تھا کہ وہ
ساتھ چلے گا یا نہیں۔کیونکہ اس کا معاملہ بھی خاصا الجھ چکا تھا۔ سادھو بابا کے خیال میں آقا قافا ورما کو مسلمان کرنا چاہتے ہیں اور میں
یہ سمجھتا تھا کہ کسی کرامت یا کسی معجزے سے کسی کو مسلمان کرنا جائز نہیں وگرنہ محمد(ص) سے زیادہ کس ذات کیلئے ممکن تھا کہ وہ
دنیا کو ایسے حیرت انگیز معجزے دکھا دے کہ لوگوں کو خدا نظر آنے لگے مگر انہوں نے معجزوں کے اوپر کسی کو ایمان لانے کا نہیں
کہا بلکہ جو زندگی گزاری اسے نمونہ بنا کر پیش کیا۔ میں ورما کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ وہ اندر داخل ہوا اور مجھ سے بولا ’’مجھے

ساتھ لے کر کیوں نہیں آئے میں کام کر رہا تھا اور تم چلے آئے‘‘ میں نے کہا ’’تم آنا چاہتے تھے سو آگئے اور اپنی مرضی سے آئے
میں نے صرف یہ سوچ کر تمہیں نہیں کہا کہ کہیں تم سادھو بابا کی طرح یہ سوچنا نہ شروع کر دو کہ ہم تمہیں مسلمان بنانا چاہتے ہیں‘‘
ورما ہنس پڑا اور کہنے لگا ’’نہ تو میں تمہیں مسلمان سمجھتا ہوں اور نہ خود کو ہندو‘‘
آقاقافا آئے اور کہنے لگے آج زیادہ دیر گفتگو نہیں ہوگی کسی نے کوئی سوال پوچھنا ہے تو پوچھ لے ایک شخص نے اٹھ کر سوال کیا
’’کیا خدا کو معلوم کیا جا سکتا ہے یا کسی بے خدا کواس وجود کا یقین دلایا جاسکتا ہے‘‘
آقا قافا کہنے لگے
’’یونانی فلاسفر ’’پر ہو‘‘ سکندر اعظم کے ساتھ ہندوستان آیا تھا۔اس سفر میں وہ ہندو فلسفے سے روشناس ہوا ۔ دریائے جہلم کے
کنارے اس نے اس دور کے پنڈت جمع کئے اور ان کے سامنے فلسفہ ئ تشکیک کے حق میں ایک پُر مغز اور پُر دلیل تقریر کی وہ
بہت متاثر ہوئے ۔ دوسرے دن پھر انہیںجمع کیا گیا اور’’پر ہو‘‘نے تشکیک کے خلاف ایک پر زور تقریر کی ۔ اور یہ تقریر کی کسی
طرح بھی پہلی تقریر سے کم نہیں تھی گذشتہ روز اس نے جو دلائل دئیے تھے وہ سننے والوں کے دل میں اتر گئے تھے اوردوسرے
دن بھی اس نے کچھ کہاوہ بھی ناقابل تردید تھا۔جب اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟تو کہنے لگا اسی کو تشکیک کہتے ہیں۔ حواس خمسہ
سے تعلق رکھنے والے دلائل کوئی اتنی اہم چیز نہیں کہ جس پر یقین کی بنیاد رکھی جا سکے۔اسی طرح کا ایک واقعہ افلاطون کی فکر کے
ایک اہم پیروکار کاریناویزکے نام سے بھی تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ سقراط سے جب کہا گیاکہ یہ کیامعمہ ہے ہم جب ڈلفی
کی کاہنہ سے پوچھتے ہیں کہ اثینا کا سب سے عقل مند آدمی کون ہے تو وہ تمہارانام لیتی ہے اور جب تم سے پوچھتے ہیں تو تم کہتے ہیں
میں کچھ نہیں جانتا۔۔سقراط نے کہا میںبھی سچ کہتا ہوں اور وہ بھی غلط نہیں کہتی ،دراصل ہم سب کچھ نہیں جانتے ، ہم سب جاہل
ہیں تم میں اور مجھ میں صرف اتنا فرق ہے کہ تمہیں اپنی جہالت کاعلم نہیں اور میں اپنی جہالت کا عالم ہوںاسی بات پر اہل علم کا
خیال ہے کہ سقراط بھی زیادہ تر عرصہئ تشکیک میں رہا ہے ۔لیکن وہ تلاش میں رہنے والا شخص تھاخود بھی مشقِ تفکر کرتا تھا
دوسروں کو بھی فروغ ِ تفکر کی تحریک دیتا تھا۔
مجھ سے نیپال کے ایک انتہائی ذہین طالب علم ’’یو ہا‘‘ نے کہا ’’ مذہب اور علم دو متضاد چیزیں نہیں ہیں۔ علم کی اساس ہی شک پر
ہے جب تک ہم کسی شے کے ہونے نہ ہونے کی کھوج نہیں کریں گے اس وقت تک اسے کیسے اسے جانیں گے اور یہی جاننا علم ہے
جب کہ مذہب تو بغیر دلیل کے یقین رکھنے کا نام ہے‘‘سو اس سے تشکیک کے موضوع پر ہونے والی بحث ابھی تک جاری ہے اور
اس وقت تک ہم جن باتوں پر متفق ہوئے ہیں ان میں پہلی بات تو یہ ہے کہ تشکیک کی کئی سطحیں ہوتی ہیں مثال کے طور پر تشکیک
کی ایک سطح یہ ہے بقول نظیر اکبر آبادی
پڑے بھٹکتے ہیں لاکھوں ملا، کروڑوں پنڈت ہزار سیانے بغور دیکھانظیرآخر خدا کی باتیں خدا ہی جانے
تشکیک کی ایک سطح مکمل انکار بھی ہے ۔اسی طرح علم کی بھی کئی سطحیں ہیں ایک علم وہ جس کا تعلق حواس خمسہ سے ہے اور ان
کے غیر یقینی ہونے پر تقریباً تمام اہل فلسفہ متفق ہیںکہ علم کا چھٹا دروازہ ہی سچائی کا دروازہ ہے جو باہر کو نہیں اندر کو کھلتا ہے یعنی ہر
انسان کے باطن میں ہوتا ہے اسی سے انسان کو اپنے ہونے کا احساس ہوتا ہے وہی اپنے اندر کسی اور کی موجودگی کی خبر دیتا ہے اسی
سے آئینہ ئ ذات میں کسی کا عکس دکھائی دیتا ہے جو ایک طرح سے ہماری اپنی صورت بھی ہوتی ہے مگر اسے اپنی صورت پر تشبیہ
دینا کفر ہے کہ وہ ذات حدود و قیود سے ماورآ ہے اور اسے کسی شے میں مقید کرنا شرکِ عظیم ہے۔مگر آدمی اپنے آپ کو پوجنے سے
باز نہیں آتااس نے دیوتا بھی اپنی صورت تراشے ہیں
بات شروع کی تھی ’’پرہو‘‘ سے ۔یہاں مجھے پھر وہی یاد آگیا ہے وہ حواس خمسہ کی بے یقینی اتنا قائل تھا کہ آتی ہوئی بیل گاڑی کے
سامنے سے نہیں ہٹتا تھا کہ پتہ نہیں وہ آرہی یا نہیں اس کے محبت کرنے والے دوست اگر اس کو نہ بچاتے رہتے تو اپنی اس بے یقینی
کی وجہ سے کسی گڑھے میں گر کر مرگیا ہوتا۔لیکن اس کے برعکس ’’یوہا‘‘ کا استدلال یہ ہے کہ تم اسے فریب کس کئے کہتے ہو۔
فریب یا دھوکے کا فیصلہ تووہاں ممکن ہے جہاں کوئی یقینی اورمستقل معیار موجود ہو۔چونکہ کوئی ایسا معیار وجود نہیں رکھتا ۔ اس
لئے وہی درست ہے جو کوئی کسی چیز کو جس حالت میں محسوس کرتا ہے ۔ صاحبانِ بصیرت سمجھتے ہیں کہ وجود مطلق کا علمِ مطلق
انسانی عقل کے بس کی چیز نہیں اور تحقیق انسانی عقل بہت محدود ہے اسکی نظم جیسی ہے۔اور کوئی نظم شاعر کے وجود احاطہ کیسے کر
سکتی ہے انسان سے تو یہی ممکن نہیں ہو سکا کہ اس کے کارخانے سے باہر نکل جاتا
خدا کے کارخانے سے کوئی باہر نہیں نکلا اگرچہ ہے بلا کی قوتِ پرواز ہم سب میں
بہرحال کوئی خدا کو مانے یا نہ مانے خدا ہے اور وقت آنے والے پر اپنے ہونے کا ثبوت بھی ہر شخص کو فراہم کر دیتا ہے جن لوگوں
پر کرم کرتا ہے انہیں اپنے ہونے کی گواہی کی ساتھ توبہ کی مہلت بھی دیتا ہے اور کچھ لوگوں کو موت کے تلخ ذائقہ سے اس کے
ہونے کی خبر ملتی ہے اور موت کے تلخ ذائقے کو زندگی میں صرف ایک بار محسوس کیا جا سکتا ہے۔آج تک موت کی وادی میں
اترنے والا پلٹ نہیں آیا ۔سو بات وہیں ہے کہ اہل تشکیک کیسے یقین کر لیں کہ موت کے اُس پار اسے محسوس کیا جاسکتا ہے ۔اس
لئے وہ اس کی تلاش میں ہیں۔ اس کی تلاش کا عمل بھی کوئی اتنا زیادہ غیر مذہبی نہیں۔کسی حد تک مذاہب میں بھی تشکیک موجود
ہے مگر اس کا تعلق نواحِ یقیں سے ہے
اور پھر آقاآفا نے کہا کہ مجھے کوئی کام اس لئے مجلس اختتام کو پہنچتی ہے میں نے بھی سائیکی اور ما سے معذرت کی وہ مجھے حیرت سے
دیکھنے لگے مگر میں گھر چلا گیا اور سکرپٹ پڑھنے لگا۔