تیرہویں مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول

 

تکون کی مجلس


شہرِ ذات میں بھی وہی مناظر تھے جن سے بھاگتے بھاگتے میں باطن کی دنیا میںپہنچ گیا تھا۔وہی حمامِ سگاں تھے یعنی کتوں کے
سوئمنگ پول۔وہی گرگِ بارہ دیدوں کی مجلس تھی یعنی بھیڑیوں کی قومی اسمبلی۔۔وہی ملبوس ناآشنا بدروحیں تھیں یعنی برہنہ
عورتیں۔لیلیٰ بھی ویسی ہی تھی مجنوں بھی ویسا ہی تھا۔وہاں بھی چودہ سالہ رضیہ کو محلے کے لڑکوں نے آنکھیں مار مار کر جوان کر دیا
تھا

 
تیرہویں مجلس

 
قسط نمبر 3

سین نمبر1

سکندر حیات اپنے بیڈ روم میں ٹہل رہا ہے ۔ مینیجر اس کے پاس موجود ہے اور کہہ رہا ہے۔
مینیجر : بس جی چھوٹی مالکن کی موت کی خبر پہنچنے ہی والی ہے۔
نواب سکندر حیات: عامر حیات کاچلا گیا ہے نا ؟
مینیجر : جی آپ کے حکم کے مطابق کھانے میں بھی نشہ آور دوا ملا دی تھی۔ نواب زادہ صاحب گاڑی میں بھی سوتے ہوئے جائیں گے
وہاں بھی باورچی کی ڈیوتی لگادی ہے ایک دودن دارالحکومت میں آرام سے سوتے رہیں گے۔
اور اسی لمحے عامر حیات کمرے میں داخل ہوتا ہے۔سکندر حیات کو اس بات کا احساس ہو جاتا ہے۔کہ مینیجر کے منہ سے نکلا ہوا
جملہ عامر حیات نے سن لیا ہے۔ اور عامر حیات اندر داخل ہوتے ہی کہتا ہے۔
عامر حیات: باباحضور ! نشہ آور نیند نے تو میری آنکھیں کھول دی ہیں۔
سکندر حیات: تم نے بغیر اجازت کمرے میں داخل حو کر اچھا نہیں کیا ۔ میں صرف تمہارا باپ نہیں دھن کوٹ کا نواب بھی ہوں۔
عامر حیات : کیا دھن کوٹ کا نواب انسان نہیں ہوتا ؟
سکندر حیات : ﴿غصہ برداشت کرتے ہوئے﴾ اپنی آمد کا سبب بیان کرو ۔ میرے پاس وقت کم ہے۔ کیا چاہتے ہو ؟
عامر حیات : نور کے کھانے میں زہر کس کے حکم سے ملایا گیا ؟
سکندر حیات : کیا ؟ زہر کھایا ہے اس نے ۔ خود کشی کر لی ہے ؟﴿حیرت سے﴾
عامر حیات : نہیں بابا حضور ۔ وہ ابھی زندہ ہے۔
سکندر حیات :﴿حیرت سے﴾ زندہ ہے؟
عامر حیات : ہاں زہر ملا کھانا نور نے نہیں میرے کتے نے کھالیا ہے ۔ اور وہ مر گیا ہے۔
سکندر حیات :مجھے تمہارے کتے کی موت کا افسوس ہے۔
عامر حیات :بابا نورجہان اور کتے میں بڑا فرق ہے۔ میں نورجہان سے محبت کرتا ہوں یا نہیں مگر میں اسے زندہ دیکھنا چاہتا
ہوں۔۔۔۔۔۔ بابا حضور میں صرف یہ کہنے آیا ہوں ۔۔۔۔۔ نور کی موت صرف آپ کے بیٹے کی نہیں ۔ دھن کوٹ کی تباہی کا
سبب بن سکتی ہے۔
سکندر حیات: ﴿غصہ کے عالم میں﴾ میرے نطفے سے جنم لینے والے نے مجھے پڑھانا شروع کر دیا ہے۔ تم کیا سمجھتے ہو مجھے۔ میں اگر
چاہوں تو دھن کوٹ کے کھیتوں میں سروں کی فصل بو دوں۔
عامر حیات : مگر بابا حضور ! یہ یاد رکھیے گا کہ سروں کے بیج بونے سے دماغوں کی فصل اگا کرتی ہے۔
اور عامر حیات یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل جاتا ہے۔
سکندر حیات : یاور علی اس بات کا علم صرف مجھے تھا اور تمہیں ۔ نور کو کیسے پتہ چلاکہ کھانے میں زہر ملا ہوا ہے۔
یاور علی : ﴿کانپتے ہوئے﴾ حضور باورچی بھی اس راز میں شریک تھا۔
سکندر حیات : باورچی ۔۔۔۔ پکڑ لائو اسے۔
﴿اور یاور علی تیزی سے کمرے سے نکل جاتا ہے﴾

سین نمبر2

عامر حیات نور کے کمرے میں داخل ہوتا ہے۔اور نور اسے دیکھتے ہوئے کہتی ہے
نورجہان : آپ پھر آگئے۔۔ اب کیا کہنے آئے ہیں ؟ یہی نا کہ کھانے میں زہر ملانے کا حکم آپ کے باپ نے نہیں دیا تھا۔
عامر حیات : نہیں ۔۔ مجھے علم ہو چکا ہے ۔ بابا آپ کی جان کے دشمن ہو گئے ہیں۔ مگر وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ ٍ میں آپ سے وجہ
پوچھنے آیا ہوں۔
نور : وجہ ؟ ۔۔ وجہ صرف تم ہو اور یہ دھن کوٹ کی جاگیر ہے۔
عامر حیات : کیا میں اتنا برا ہوں کہ آپ موت قبول کرنے پر تیا ر ہیں مگر میرے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی۔
نور۔ : ہاں
عامر حیات : اتنی نفرت کی کوئی وجہ تو ہونی چاہئے۔
نور۔ : وجہ ؟ کیا سننا چاہتے ہیں آپ ؟
عامر حیات : نور ۔۔ میں تمہاری محبت میں پاگل ہوتا جا رہا ہوں۔تمہیں کیسے یقین دلائوں ۔ اپنی محبت کا تجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
نورجہان۔ اگر تمہاری کوئی شرط ہو ۔ کوئی شرط۔ میں پوری کرسکتا ہوں۔
نورجہان : آپ کا مجھے تم کہنا اچھا نہیں لگا۔ چلو کوئی بات نہیں۔ شرط میری ایک ہے ۔ مگر وہ آپ پوری نہیں کر سکتے۔
عامر حیات : آپ شرط بتائیے۔ اگر مجھ میں کچھ ہوا تو آپ کی شرط پوری ہو جائے گی ورنہ ۔ میں کوشش کروں گا آپ کو بھول جانے
کی۔
نور۔ : مجھے حاصل کرنے کے لیے آپ کو قتل کرنا ہوگا۔۔نواب سکندر حیات کو۔
عامر حیات : ﴿حیرت اور پریشانی سے﴾ یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟کبھی کسی بیٹے نے بھی اپنے باپ کو قتل کیا
نور۔ : اگر بھائی بھائی کا قتل کرسکتا ہے تو بیٹا باپ کو کیوں نہیں؟
عامر حیات : میں سمجھا نہیں۔
نور۔ : تمہارے باپ سکندر حیات نے دھن کوٹ اسٹیٹ کے اقتدار کی خاطر اپنی بھائی نواب صولت حیات کا قتل کیا۔کیا تم مجھے
اور اقتدار دونوں کے لیے نواب سکندرحیات کو قتل نہیں کرسکتے؟
﴿اور عامر حیات یہ فقرہ سن کر بے یقینی کے عالم میںخاموشی سے باہر نکل جاتا ہے﴾

سین نمبر3

نواب سکندر حیات کی خواب گاہ مینیجر اندر داخل ہو چکا ہے اور کہہ رہا ہے‘
منیجر : حضور ! باورچی فرار ہوچکا ہے۔ یقینا اسی نے غداری کی ہے۔
سکندر حیات : میں کچھ نہیں جانتا۔ مجھے زندہ یا مردہ باورچی چاہئے۔ ورنہ میں کچھ بھی سوچ سکتا ہوں۔
منیجر: حضور اگر آپ کو بھی مجھ پر شک ہے تو پھر مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ میں اس زندگی سے مر جانا زیادہ بہتر سمجھوں گا۔
نواب : ا و پگلے ۔ میں تو ایک بات کی ہے۔ تم پر مجھے اعتماد نہ ہوتا تو تمہیں اس اسٹیٹ کا مینیجر نہ بناتا۔اسٹیٹ کا مینیجر تو وزیراعظم
ہوتا ہے وزیراعظم۔
منیجر : حضور مجھے لگتا ہے ۔ چھوٹی مالکن اکیلی نہیں۔ اس کے پیچھے آپ کا تمام مخالف اکٹھے ہیں۔
نواب : صرف ارباز خان۔۔۔ اور وہ تمہارے ہاتھ نہیں آرہا۔

سین نمبر4

ارباز خان اپنی محفوظ پناہ گاہ پر۔ اس کا ملازم اندر آتا ہے اور کہتا ہے۔
ملازم : سردار تمام لوگ پہنچ گئے ہیں۔ آپ کا انتظار ہو رہا ہے۔
ارباز : کسی کا تعاقب تو نہیں کیا گیا؟
ملازم : نہیں سرکار ۔۔ دور دور تک کسی پرندے کے پیچھے کوئی گدھ نظر نہیں آیا۔
ارباز خان اٹھتا ہے ۔ پتھروں سے بنی ہوئی ایک راہداری تنگ سی راہداری سے جھک کر گزرتا ہوا ایک پہاڑی درے میں داخل ہو
جاتا ہے اور پھر درے کے قریب ایک مکان کی طرف بڑھتا ہے۔ مکان کے اندر داخل ہوتا ہے مکان کے صحن میں چار پائیوں پر
بہت سے محافظ پیٹھے ہوئے ہیں۔ سب کے پاس اسلحہ ہوتا ہے۔ ارباز خان کے جانے پر سب اٹھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ارباز
خاں سب کوبیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے ایک کرسی پر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے۔
ارباز خان : ساتھیو ! کیسے ہیں میرے شیروں کے حوصلے۔
محافظ نمبر ۱ : سردار ۔۔ اس وقت تک پتھروں کو نچوڑتے رہیں گے جب تک ان میں سے پانی نہیں بہہ نکلے گا ارباز خان : اللہ کرے
تمہارے راستوں میں ہمیشہ روشنی اور پھول ہوں۔ مگر ابھی تک ہم لوگ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہورہے۔ اور سکندر حیات
دن بدن ہمارے ارد گرد گھیرا تنگ کرتا جا رہا ہے۔ اس کے بے بناہ وسائل سے صرف تمہارے حوصلوں نے ٹکرانا ہے۔
محافظ نمبر ۲ : سردار نور اگر ہمارا ساتھ دیتی جاتی تو ہمارا کام بہت آسان ہوجاتا۔
ارباز خان: میں کہا تھا اسے دوبارہ میری طرف پیغام بجھوا دو۔
محافظ نمبر ۳: ادھر کوئی مثبت جواب نہیں آرہا سردار۔
ارباز خان : کوئی بات نہیں۔۔ مگر کچھ لوگ ہمارے راستے سے کانٹے چننے نکل پڑے ہیں۔ ہمیں ان سے کوئی مطلب نہیں۔ وہ نور
کو اغوا کرنا چاہتے ہیں مگر جیسے نور ،محل سے باہر آئے گی۔ تم لوگوں نے نور کو ان سے چھین لینا ہے۔
محافظ نمبر ۴:سردار اور حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے
ارباز خان : کیا ؟
محافظ نمبر ۴ : اسلم کو سلاخیں کاٹنے کے جرم میں گرفتارکر لیا گیا تھا اور کوئی سزادیئے بغیر چھوڑ دیا گیا ہے وہ اسی طرح محل میں اپنی
ڈیوٹی سر انجام دے رہا ہے۔
ارباز خان : ہاں یہ حیرت انگیز بات ہے مگر اب تم لوگوں نے اسلم پر اعتبار نہیں کرنا۔ بس تمام تر توجہ اسی بات پر مرکوز رہنی ہے
کہ نور کس وقت محل سے باہر آتی ہے۔ ہمیں نورچاہئے۔ نور سردار ایاز خان کے لیے۔

سین نمبر5

لیڈزیونیورسٹی کے کسی لان میں صوفیہ اور ایاز کے درمیان گفتگو ۔ وہ باہر سے یونیورسٹی کے اندر داخل ہوتے ہیں۔
صوفیہ : یہ لیڈزیونیورسٹی ہے۔
ایاز : تم یہاں پڑھتی ہو ۔ کیا پڑھتی ہو ؟
صوفیہ : ﴿ہنس کر ﴾ میں پڑھتی ہوں کہ تمہاری طرف لوگ محبت کس طرح کرتے ہیں۔
ایاز : ﴿ہنس کر ﴾ یہ پڑھنے سے زیادہ کرنے کی بات ہے۔
صوفیہ : ہاں پڑھ تو لیا ہے۔ اب بس تجربہ کرنا باقی رہ گیا ہے۔﴿اور پھر ایاز کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے﴾ تم آگئے تو وہ بھی ہو
جائے گا۔
ایاز : پڑھا کیا ہے تم نے؟
صوفیہ : تمہارے مشرق کی محبت کی تمام کہانیاں ۔ ہیر رانجھا کی کہانی ۔ سسی پنوں کی کہانی ۔ سوہنی مہینوال کی کہانی۔
ایاز : ﴿جملہ کاٹتے ہوئے﴾ اچھا ۔۔ ابھی پتہ چل جاتا ہے تم نے کیا پڑھا ہے یہ بتاوٴ۔ رانجھے کو ہیر سے محبت کیوں ہوئی تھی؟
صوفیہ :محبت کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ لیکن صحیح اندازہ تو تجربہ کرنے کے بعد ہو گا۔
ایاز : تم تجربہ کرنے کے لیے ہمارے علاقے میں جاوٴگی۔
صوفیہ : تجربے کے لیے علاقہ کی نہیں محبت کرنے والے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور میرا خیال ہے تمہارے سینے میں بھی دل
دھڑکتا ہے۔ دھڑکتا ہے نا ؟
ایاز صوفیہ کی قربان جانے والی نظروں سے شرما جاتا ہے۔ اور کہتا ہے
ایاز : یہ یونیورسٹی کتنے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے ؟
اور صوفیہ بھر پور قہقہہ مارتی ہے۔

سین نمبر6

دن کا وقت

دانیال اور بابر کار میں آرہے ہیں ۔ دونوں کے درمیان گفتگو جاری ہے ۔ بابر کار کی ڈرائیونگ کر رہا ہے اور دانیال اسے مخاطب ہو کر
کہہ رہا ہے۔
دانیال:محبت کی کوئی وجہ بھی ہوتی ہے۔ کمپیوٹرپر ای میل کی وساطت سے ہونے والی محبت کیا محبت ہوتی ہے۔ میں تمہیں پہلے
مشورہ دیا ہے کہ تم اپنے دماغ کا علاج کراوٴ۔
بابر:﴿دانیال کی بات کا برا مانے بغیر﴾ لوگ خدا سے محبت کرتے ہیں‘ کیا کسی نے دیکھا ہے خدا کو۔ میں نے تو نور سے گفتگو کی
ہے۔ اسکی تصویر بھی دیکھی ہیں‘ تم کہتے ہو تمہاری محبت کی کوئی بنیاد نہیں۔
دانیال: پتہ نہیں یہ نور تمہارے کمپیوٹر میں کہاں سے آئے گی۔
بابر: میں تو صرف اتنا جانتا ہوں۔ کہ نور نے خوابوں میں کہیں مجھے کہا میں آگئی ہوں۔ محبت کی ایک نئی بنیاد رکھنے کیلئے ۔
دانیال: حیرت ہے تم پر‘ تم نے بیسویں صدی میں یورپ میں جنم لیا ہے‘ مگر تمہارا محبت کافلسفہ سن کر لگتا ہے‘ جسے تم قبل مسیح
کے زمانے میں جی رہے ہو‘ شاید محبت کا یہ فلسفہ اس سے بھی پرانا ہو۔
کار رکتی ہے‘ دونوں اترتے ہیں باہر رکتے ہوئے کار کا دروازہ لاک کرتے ہوئے کہا:
بابر: محبت نہ تو قدیم ہوتی ہے‘ اور نہ جدید۔
دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے:
دانیال: تو پھر کیا ہوتی ہے؟
فلیٹ کے دروازے کا لاک کھولتے ہوئے :
بابر: محبت تو ایسی کیفیت کا نام ہے ۔ جو ہوا کی طرح ازل سفر میں ہے۔
دونوں اندر داخل ہوتے ہوئے ‘ دانیال بابر سے کہتا ہے:
دانیال : تم سچ مچ ایب نارمل ہوتے جارہے ہو‘
کمپیوٹر والے کمرے میں داخل ہوتے ہیں‘ کمپیوٹر کی ٹون سنائی دے رہی ہوتی ہے‘ اور بابر یہ کہتے ہوئے کمپیوٹر کے سامنے والی
کرسی پر بیٹھ جاتا ہے۔
بابر: یہ دیکھ مجھے محبت پکار رہی ہے۔
اور بٹن آن کرتا ہے ‘ آواز آتی ہے ‘ نور کی:
نور : ہیلو بابر ہیلو‘
بابر: ہیلو نور
نور: ہیلو بابر ‘ کیسے ہو؟
بابر: ﴿ذرا سا ہنس کر﴾‘ مجھ سے نہ پوچھو ‘ ہجر کے ‘ اپنی کہو ‘ تم کیسی ہو؟
نور: تمہاری کوششیں کہاں تک پہنچیں؟
بابر: میں مسٹر جوزف کو تمہارا تیار کردہ پلان دے دیا ہے‘ وہ بہت پر امید ہے‘ ایک ذرا سا مسئلہ ہے‘ ہو جائے گا حل وہ بھی‘
نور: کیسا مسئلہ ہے؟
بابر : بس تم اسے رہنے دو۔
نور: نہیں مجھے بتائو۔
بابر : کوئی مسئلہ نہیں۔
نور: ﴿ناراض ہوکر﴾ یہ تو کوئی بات نہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو مجھے تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں‘
بابر: لو‘ تم تو بہت غصہ والی ہو‘ اللہ خیر کرے‘
نور: مسئلہ بتاوٴ‘
بابر: اس سلسے میں مسٹر جوزف کو دو لاکھ پو نڈ ادا کرنے ہیں ‘ ہو جائے گا بندوبست‘ پریشان نہیں ہونا۔ تم دھن کوٹ میں رہتی ہو‘
مگر میں جہاںہوں ‘ یہ اصلی دھن کوٹ ہے‘ یہاں زندگی پونڈز یعنی دھن کی گردش سی شروع ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ ختم ہو
جاتی ہے۔
نور: دو لاکھ پونڈ کے بندوبست کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟
بابر: تقریبا ایک ہفتہ۔
نور: نہیں بابر‘ میں یہاں ایک ہفتہ زندہ نہیں رہ سکتی‘
بابر: ﴿حیرت سے﴾ کیا کہہ رہی ہو؟
نور: تمہیں میں نے نہیں بتایا مجھے زہر دینے کی کوشش کی گئی ہے‘ جسے میں نے ناکام بنا دیا ہے‘ مگر دشمن کچھ بھی کر سکتا ہے۔
بابر: تم حوصلے کے ساتھ زندہ رہنے کی کوشش کرو ‘ یاد رکھنا نور جہں ‘ تم نے ہر حال میں زندہ رہنا ہے‘ میں جا رہا ہوں مسٹر
جوزف کی طرف۔

سین نمبر 7

دن کا وقت

مسٹر جوزف کا آفس ‘ مسٹر کے کے وہاںبیٹھا ہواہے ‘ کمرے میں اور کوئی نہیں‘ مسٹر جوزف کہہ رہا ہے
مسٹر جوزف: مسٹرکے کے تم جانتے ہو‘ میں اپنے کام ایک فیئر آدمی ہوں‘ میں نے کبھی اپنے ساتھی کو دھوکہ نہیں دیا ‘ میں
حرام کی کمائی کی تقسیم میں حرامی پن نہیں دکھاتا۔
مسٹر کے کے: تم دیکھو گی مسٹر جوزف‘ جو سودہ تمہارے ساتھ طے ہوگیا ہے‘ میں اس پر کس طرح پورا اترتا ہوں‘ اگر ہم بھی
ایک دوسرے سے دغا بازی کرنے لگ جائیں تو پھر دنیا میں شیطان کس پر اعتبار کرے گا؟
﴿ایک بھرپور قہقہہ ‘ دونوں کا﴾
مسٹر کے کے یہ کہہ کر باہر نکلتا ہے‘ کار میں بیٹھتا ہے‘ کار چلتی ہے‘ اور پھر اسے فریم میں ایک اور کار آکر رکتی ہے‘ اس میں سے
بابر اترتا ہے‘ اور جوزف کے دفترکے اندر داخل ہوتا ہے‘ مسٹر جوزف بابر کو دیکھتے ہی کہتاہے‘
مسٹر جوزف: مسٹر بابر آپ دو لاکھ پونڈز ساتھ لائے ہیں ؟
بابر: میں اپنی کچھ پراپرٹی فروخت کر رہا ہوں‘ ایک ہفتہ میں رقم ہو جائے گی۔
مسٹر جوزف: اوکے ایک ہفتے بعد تشریف لائیے گا‘ رقم کے بغیر مجھے کوئی گاہک اچھا نہیں لگتا‘
بابر: مسٹر جوزف‘ نور کی زندگی خطری میں ہے‘ وہ وہاں ایک یا دو روز سی زیادہ زندہ نہیں رہ سکتی‘
مسٹر جوزف: سوری‘ میں نے ادھار پر کبھی کوئی کام نہیں کیا‘ آپ وقت ضائع کر رہے ہیں‘ اپنا بھی اور میرا بھی‘ مسٹر بابر‘
دروازہ کھلا ہے‘
اور پریشان حال بابر وہاں سے نکلتا ہے‘ جیسے بابرکی کار نکلتی ہی‘ مسٹر جوزف مسٹر کے کے کو فون ملاتا ہے‘ اور کہتا ہے:
مسٹر جوزف: ہیلو مسٹر کے کے؟
مسٹر کے کے: ہاں مسٹر کے کے بول رہا ہوں۔
مسٹر جوزف: میں مسٹر بابر کو لوٹا دیا ہے‘ تم اسوقت اسکے پاس جا سکتے ہو‘ یقیناً آج تم جیت جائو گے‘
مسٹر کے کے: تھینک یو مسٹر جوزف‘ یقیناً یہ ڈیل ہم دونوں کے لیے بہت فائدہ مند ہوگی۔

سین نمبر8

مسٹر بابر دریا ٹیمز کے کنارے کار کھڑی کر کے پیدل پریشان حال چل رہا ہے‘ اسے کوئی بات سمجھ نہیں آرہی‘ سخت پریشانی ہے ‘
افسردہ ہے‘ اور اس کے اوپر یہ شعر ساز و آواز کے ساتھ اوور لیپ ہو رہا ہے
شعر: زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

سین نمبر9

مسٹر کے کے کی کار مسٹر بابر کے فلیٹ کے سامنے رکتی ہے‘ مسٹر کے کے اترتا ہے‘ بیل بجاتا ہے‘ اور مایوس ہو کر وہیں رک کر
مسٹر بابر کا انتظار کرنے لگتا ہے‘ اور ادھر سے مسٹر جان کی گاڑی آتی ہے وہ رکتا ہے اور گاڑی سے اتر تے ہوئے مسٹر کے کے سے
کہتا ہے۔
مسٹر جان: ہیلو ‘ مسٹر کے کے‘ یعنی۔۔۔
مسٹر کے کے :﴿ جملہ کاٹتے ہوئے﴾ مسٹرکے کے ﴿قہقہہ﴾
مسٹر جانی: مسٹر کے کے اُنے آج تک نہیں بتایا کہ یہ ڈبل کے کس نام کا مخفف ہے؟
مسٹر کے کے : مسٹر جان ‘ اب تو مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ میرا اصل نام کیا ہے؟
﴿اور دونوںکے بھرپور قہقہے﴾
مسٹر جان: آج آپ مسٹر بابر کے دروازے پر ؟ کیا بات ہے؟ مسٹر بابر ‘ بھی گان؟ ﴿قہقہہ﴾ ہاں آج کل اسے پونڈز کی اشد
ضرورت ہے۔ ﴿ ایک اور قہقہہ﴾
مسٹر کے کے: آپ نے مسٹر بابر کے سلسلے میں میری کوئی مدد نہیں کی۔
مسٹر جان: بابر از اے ویری نیٹ اینڈ کلین مین۔ تمہاری اور میری دونوں کی کوششیں ناکام ہی ہونی تھیں‘ تم نے بھی کر کے دیکھ
لیِں ۔﴿بھرپور قہقہہ﴾
مسٹر کے کے: بٹ مسٹر جان‘ میں آپ کو دکھا ئوں گا‘ کہ مسٹر بابر نے بھی میچ فکس کیا ہے‘ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔
مسٹر جان: ﴿ایک بھرپور قہقہہ کی بعد﴾ میری زندگی کے دن کچھ زیادہ باقی نہیں رہے‘ 75سال کا ہو گیا ہوں‘ خیال رکھنا ‘
میری زندگی میں تمہیں کامیاب ہوناہے‘ ﴿قہقہہ﴾

سین نمبر10

مسٹر بابر ایک پراپرٹی ڈیلر کے پاس جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے:
مسٹر بابر: ہیلو ‘ مسٹر اوکلے۔
اوکلے: ہیلو مسٹر بابر‘
بابر: میںکتھلے روڈ والا فلیٹ دو لاکھ پونڈز میں دے سکتا ہوں۔ اگر مجھے فوری طور پر پیمنٹ ہو جائے۔
اوکلے: واقعی؟
بابر: اس وقت مجھے دو لاکھ پونڈز چائییں۔
اوکلے:﴿گھڑی پر ٹائم دیکھ کر﴾ صبح نو بجے پیمنٹ ہو سکتی ہے‘
بابر: او کے میں صبح نو بجے پیمنٹ لینے آ جائوں گا۔
اوکلے: اوکی مسٹر بابر
﴿اور مسٹر بابر کمرے سے باہر نکل جاتا ہے۹

سین نمبر 11

صوفیہ اور ایاز گھر میں ڈرائنگ روم کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں ‘ مسٹر جانی باہر سی اندر آتا ہے اور کہتا ہے‘ :
مسٹر جان: ہیلو ینگ مین‘ کیسا فیل کر رہے ہو صوفیہ کے ساتھ؟‘ صوفیہ از آ ڈفرنٹ گرل ۔
ایاز : جی ‘ جی اچھی ہے صوفیہ۔
مسٹر جان: اچھی؟ ﴿قہقہہ﴾
صوفیہ: وہ مسٹر بابر کا کیا ہو ا ہے؟ گرینڈ ڈیڈ ہو گیا ہے اسکاکام۔
مسٹر جان: ﴿قہقہہ﴾ ہو جائے گا‘ اگر تم چاہو تو‘ مسٹر ایاز اسکی مدد کر سکتا ہے﴿قہقہہ﴾
صوفیہ: بٹ مسٹر ایاز۔۔ گرینڈ ڈیڈ‘ از ورکنگ ود مسٹر کے کے۔
مسٹر جان: ﴿بھرپور قہقہہ﴾ ویل ڈن ینگ مین۔ اس کا مطلب یہ ہو اکہ اس صبح میچ سے لاکھوں جیتے جا سکتے ہیں‘ مسٹر کے کے
زندہ باد۔
مسٹر جان ڈرائنگ روم کے دوسرے کمرے میں داخل ہوجاتاہے۔ اور ایاز صوفیہ سے پوچھتا ہے۔
ایاز: تمہارے دادا کی یہ لاکھوں پونڈز والی بات مجھے سمجھ نہیں آئی۔
صوفیہ: اسے چھوڑو‘ تم یہ بتاوٴ ‘ کیا بابر نور کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا؟
ایاز : نا ممکن ہے۔
صوفیہ: کیوں؟ تم نے بابر سے ملے بغیر اتنے تقین سی یہ بات کیسے کہ دی ہے؟
ایاز: نور کو وہاں سے نکالنا اتنا آسان نہیں۔
صوفیہ: اگر وہ یہاں پہنچ گئی۔
ایاز: تو بابر جیسے معمولی شخص سے ہرگز شادی نہیں کرے گی۔
صوفیہ: بابر کوئی معمولی شخص نہیں
ایاز: معروف کھلاڑی ہوتا‘ نور کے لئے کوئی بڑ ی بات نہیں ہو سکتی‘ اس کیلئے سب سے اہم بابر کا خاندانی پس منظر اور اسکی مالی
حیثیت ہے اور ان حوالوں سی میرا خیال ہے بابر ایک معمولی آدمی ہی ہو گا۔
صوفیہ: مگر وہ اس کے لیے اتنا کچھ کر رہا ہے؟
ایاز: نور اس کی قیمت ادا کردی گی۔ ایسے بے شمار لوگ اسکے باپ دادا سے ان کے پاس ملازم چلے آرہے ہیں‘ جو ان کے ایک
اشارے پر جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔ یہ نواب لو گ صرف جان کی قیمت ادا کرتے ہیں۔
صوفیہ: تم نے تو نور کا بہت خوفناک نقشہ کھنچا ہے۔

سین نمبر12

نور اپنے کمرے میں کمپیوٹر پر بیٹھی ہوئی ہے کمپیوٹر کے اوپربابر کے چھکے مارنے والا شاٹ چل رہا ہے‘ اور نور بول رہی ہے۔
نور : معاملات اس کا مطلب ہے درست ہیں۔
بابر: کیا ان لوگوں نے مرے بنائے ہوئے پلان کو درست قرار دے دیا ہے؟
﴿بابر اپنے کمرے میں کمپوٹر کے اوپر بیٹھا ہوا ہے﴾
بابر : ہاں ان لوگوں کا خیال ہے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ممکن۔
نور: ہاں دریا والاراستہ بہت رسکی ثابت ہو سکتا ہے۔
بابر: کل شام تک تمہیں بتا دیا جائے گا‘ کہ تمہیں لینے کے لیے کتنے بجے محل کی چھت پر ہیلی کاپٹر پہنچ جائے گا۔
نور: میں کوشش کر رہی ہوں ‘ حالات کو نامل کرنے کے لیے تا کہ فرار ہونے پر یہ لوگ خاموش رہیں۔
بابر: بس اب ایک دو دن کی بات ہے۔
نور : جتنے جلدی ہو سکے اتنا بہتر ہے۔ میں کوشش کر رہی ہوں‘ کہ باپ بیٹا ایک دوسرے سی ٹکرا جائیں۔
بابر: کو ن باپ اور بیٹا؟
نور: سکندر حیات اور اسکا بیٹا عامر حیات۔

سین نمبر13

عامر حیات محل کی چھت پر بیٹھا ہوا ہے‘ شام کا وقت ہے‘ وہ ڈوبتے سورج کو دیکھ رہا ہے‘ بہت اداس ہے‘ بکھرے ہوئے بال
ہیں اور یہ شعر شازو آواز کے ساتھ اسکے اوپر اوور لیپ ہو رہا ہے۔
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نجانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
عامر حیات چھت سے اترتا ہے مختلف راہداریوں سی ہوتا ہوا نور کے کمرے کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا ہے‘ دروازہ کھلا ہوا ہے
نور کمپیوٹر پر بیٹھی ہوئی ہے‘ عامر حیات دروازے پر آکر خاموشی سے نور کو دیکھنے لگتاہے۔ نور کمپیوٹر آف کرتی ہے اور عامر
حیات کی طرف دیکھتی ہے‘ اس کے چہرے پر اس وقت کسی طرح کا کوئی تاثر موجود نہیں ‘ چند لمحے خاموشی رہتی ہے‘ آخر کار
عامر حیات کمرے کے اندر داخل ہونے کے لئے پہلا پاوٴں رکھتا ہے اور نور کہتی ہے۔
نور : کیا میں اپنی طرف اٹھنے والے قدم کا یہ مفہوم لے سکتی ہوں کہ آپ نے شرط مان لی ہے۔
عامر حیات: نہیں‘مجھ میں اتنی ہمت نہیں‘ کہ میں اپنے باپ کو قتل کر سکوں۔
نور : تو پھر آپ یہاں کس لئے تشریف لائے ہیں؟
عامر حیات: یہ کہنے کہ آوٴ اس دنیا سے ‘ اس ظلم اور جبر کی دنیا سے‘ اس سازشوں بھری دنیا سے کہیں بہت دور چلے جائیں ‘ اللہ کی
زمیں بہت وسیع ہے‘ بھاگ جاتے ہیں دھن کوٹ سے۔
نور کچھ دیر سوچتی ہے اور پھر کہتی ہے:
نور : آپ جا سکتے ہیں‘ ہاں‘ میں آپ کی اس آفر پر غور کروں گی۔
اور عامر حیات کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے ‘ وہ واپس واپسی کے لئے مڑ جاتا ہے۔

سین نمبر14

سکندر حیات اپنے ڈرائنگ روم میں ‘ اسکے پاس دھن کوٹ کے دو سردار آئے ہوئے ‘ سردار وزیر خان‘ اور سردار ابراہیم خان‘
سکندر حیات بات کر رہا ہے۔
سکندر حیات: سردار وزیر خان‘ میں کئی دنوں سے سوچ رہا ہوں‘ کہ آپ کی طرف آوٴں‘ آپ سے ملاقات کو تو عرصہ ہوگیا
ہے‘ سردار ابراہیم سے تو پچھلے دنوں اتفاق سے ملاقات ہو گئی تھی‘ شکار گا ہ میں ۔ بھائی صولت حیات کے زمانے میں تو آپ لوگ
محل میں بہت آتے جاتے رہتے تھے۔
سردار وزیر خان: سردار صاحب‘ ہمارا آنا تو آپ کے دم سے ہے‘ آپ یاد کریں ‘ ہم حاضر ہو جائیں گے‘ نواب صولت حیات‘
اللہ انہیں جنت میں جگہ دے وہ ‘ یاد کرتے رہتے تھے اور ہم آتے رہتے تھے۔
سردار ابراہیم خان: نواب صاحب‘ اس وقت حاضر ہونے کی وجہ افواہیں ہیں‘ جن کی وجہ سے آپ کی شخصیت بہت متاثر ہو رہی
ہے۔
سکندر حیات: میں سمجھا نہیں۔
سردار وزیر خان: سنا ہے نواب صاحب‘ صولت حیات کی بیٹی کو کسی نے زہر دینے کی کوشش کی ہے؟
سکندر حیات: ہاں یہ وقوعہ ہوا ہے‘ اور مجرم فرار ہو گیا ہے‘ اس لیے یہ علم نہیں ہو سکا کہ سازش کے پیچھے کون بد بخت ہے؟
سردار ابراہیم خان:دھن کوٹ کے عوام اور باقی سردار چھوٹی مالکن کے حوالے سے بہت پریشان ہین‘ وہ آپ سے توقع رکھتے
ہیں کہ آپ انکی مرضی کے بغیر کوئی بات انکی زبردستی مسلط نہیں کریں گے۔
سکندر حیات: یہ آپ کیسی باتیں کرنے لگے ہیں؟ ‘ وہ مرے بھائی کی بیٹی ہے ۔‘ میری عزت ہے‘ اور یہ مرے گھر کا معاملہ ہے۔
سردار وزیر خان: نواب صاحب ہم بھی اسی گھر کے فردہیں‘ اب دھن کوٹ ایک گھر ہی تو ہے ‘ آپ ہمارے سربراہ ہیں‘
مگرکچھ حیثیت ہماری بھی ہے‘ عامر حیات ہمارا بھی بیٹا ہے‘ مگر زبردستی۔۔ ٹھیک نہیں ہوتی۔
سردار ابراہیم: یقیناً‘ آپ ہماری درخواست سمجھ گئے ہونگے‘ ہمیں اب اجازت دیں۔
وہ اٹھتے ہیں‘ نواب صاحب بیٹھے ہوئے ‘ ہاتھ ملاتے ہیں‘ ان کے کمرے سے چلے جانے کے بعد سکندر حیات اٹھتا ہے باہر نکلتا ہے
تو دروازہ پر کھڑا ملازم انہیں کہتا ہے۔
ملازم: حضورآج نجانے چھوٹے سرکار کو کیا ہوا ہے؟ کافی دیر سے گھوڑے کو بہت بھگا رہے ہیں‘ ہمیں ڈر ہے کہیں۔۔۔
سکندر حیات: کدھر ہے؟
ملازم: شکار گاہ میں۔

سین نمبر 15

عامرحیات شکار گاہ میں گھوڑے بھگائے جا رہا ہے‘ عامر حیات خود بھی پسینے سے شرابور ہے‘ اور گھوڑے کو بھی پسینہ آیا ہو اہے‘
مگر عامر حیات شکار گاہ ویران اور پہاڑی راستوں پر مسلسل گھوڑا بھگائے جا رہا ہے۔ دور سے ایک جیپ آتی ہوئی نظر آتی ہے‘
جس سمت گھوڑا جا رہا ہوتا ہے‘ اسسی سمت سے جیپ آرہی ہوتی ہے‘ جیپ سکندر حیات خود ڈرائیو کر رہا ہے‘ عامر حیات باپ کو
جیپ میں دیکھ کر گھوڑے کو روکتا ہے‘ گھوڑا مشکل سے رکتا ہے‘ اور سکندر حیات عامر حیات سے کہتا ہے:
سکندر حیات: عامر حیات‘ بیٹے کیا بات ہے؟ کس بات کا غصہ اس بیچارے پر نکال رہے ہو؟
عامر حیات:خود کو تھکانے کی کوشش کر رہا ہوں بابا‘ تاکہ نیند آجائے‘ مجھے کئی راتوں سے نیند نہیں آ رہی۔
سکندر حیات: میں نے تو تم سے بہت امیدیں وابستہ کر رکھی ہوئی ہیں عامر حیات بیٹے‘ تم ایک لڑکی کے لئے سب کچھ بربادکرنے پر
تلے ہوئے ہو؟ پتہ ہے آج سردار وزیر خان اور ابراہیم خان آئے تھے‘ اور مجھے دھمکی دے کر گئے ہیں کہ نواب سکندر حیات
کو۔۔۔۔۔۔
عامر حیات: باباحضور‘ دھمکی؟ وہ کیوں؟
سکندر حیات: نور اور تمہاری شادے کے حوالے سے معاملہ بہت خراب ہو گیا ہے‘ اب ہمیں نور جہاں کو ہر صورت میں شادی
کے لیے رضا مند کرنا ہوگا۔
عامر حیات: یہ ممکن نہیں بابا حضور۔
سکندر حیات: ﴿تیز لہجے میں﴾: کیوں ممکن نہیں؟
عامر حیات: ایک بیٹی اپنے باپ کے قاتل کے بیٹے سے کس طرح شادی کر سکتی ہے؟
سکندر حیات: کیا بکواس کررہے ہو؟
عامر حیات:آپ کے بھائی نواب صولت حیات کا قاتل کون ہے؟
سکندر حیات: تمہیں کس نے کہا ہے کہ اس کا قاتل میں ہوں؟
عامر حیات : آپ کے رویے نے ‘ آپ نے آج تک چچا حضور کے قتل کے سلسلہ میں کوئی اقدام نہیں کیا‘ حتی کہ قاتلوں کی
تلاش کے لئے بھی حکم جاری نہیں کیا؟
سکندر حیات: نہیں‘ صرف یہ بات نہیں‘ تمہیں کہاکسی نے؟‘ تمہیں بتانا ہوگا مجھے ‘ کیا نور نے کہا ہے؟
عامر حیات: ہاں اس نے بھی کہا ہے۔
سکندر حیات: ﴿خود کلامی میں﴾: اب اسے زندہ نہیں چھوڑ ا جا سکتا‘ اب یہ ناگن کسی لمحے بھی ڈس سکتی ہے۔
اور تیزی سے جیپ واپس موڑتا ہے‘ اور عامر حیات گھوڑا جیپ کے پیچھے تیزی سی دوڑانے لگتا ہے۔

سین نمبر16

نور محل کے باغ میں‘ اس کے ساتھ صفیہ کے علاوہ چار پانچ ملازمہ اور بھی ہیں‘ ارد گرد خاصے فاصلے پر پہرے دار بھی موجود
ہیں‘ نور صفیہ سے کہتی ہے۔
نور : کسی پہرے دار کو بلاوٴ۔
صفیہ : رحمان علی﴿آواز دے کر﴾
ایک پہرے دار تقریباً بھاگتا ہوا آتا ہے‘ نور اسے کہتی ہے۔
نور : لاو ٴ‘ اپنی بندو ق مجھے دے دو۔
پہرے دار اپنی بندوق نور کودیتا ہے۔
نور : لوڈ ہے؟
پہرے دار: جی‘ چھوٹی مالکن۔
اور نور درخت پر فائر کر تی ہے‘ درخت سے پرندے اڑ جاتے ہیں اور ایک سیب نیچے آ گرتاہے‘ اسی لمحے ادھر سے گھوڑے پر
سوار عامر حیات آتا ہے اور نور سے کہتا ہے۔
عامر حیات: تمہاری زندگی خطرے میں ہے‘ کسی وقت بھی کوئی گولی آپ کو چاٹ سکتی ہے‘ آپ اپنے کمرے میں چلی جائیں اور
اپنی حفاظت کا بندو بست رکھیں۔
یہ کہتا ہوا عامر حیات گھوڑا آگے بڑھا دیتا ہےْْ اور کچھ دور جاکر گھوڑے سے اترتا ہے‘ مینیجر یاور علی قریب موجود ہے‘ گھوڑے کی
باگ ایک ملازم پکڑلیتا ہے‘ عامر حیات یاور علی سے کہتا ہے۔
عامر حیات: میرے بوڑھے باپ نے نجانے کتنے دن اور زندہ رہتا ہے‘ مگر اس کے بعد اس اسٹیٹ کا وارث میںہوں ‘ تم یہ
جانتے ہو؟
یاور علی: چھوٹے سرکار‘ کوئی غلطی ہوگئی؟
عامر حیات: بولومت‘ میری بات سنو‘ اور کان کھول کر سنو‘ اگر نور کو کچھ ہو گیا تو میں تم میں سے کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں
گا‘ اور اس کی خبر بابا حضور تک نہیں پہنچنی چائییے۔
یاور علی: ایسا ہی ہوگا‘ چھوٹے سرکار۔

سین نمبر17

نواب سکندر حیات کے ڈرائنگ روم میںجگو کھڑا ہے ‘ سکندر حیات بیٹھے ہوئے ہیں‘ جگو شکل سے کوئی عادی مجرم ‘ پیشہ ور قاتل
محسوس ہو رہا ہے‘ سکندر حیات اسے کہتا ہے۔
سکندر حیات: میں کوئی رسک نہیں سکتا‘ اسکی لاش یوں غائب ہوجانی جائییے جیسے دنیا میں موجود ہی نہیں تھی‘ خون کا کوئی داغ
کوئی دھبہ نظر نہیں آنا چائیے۔ اگر کوئی سراغ رہ گیا تو پھر لوگ میری اس کہانی پر یقین نہیں کریں گے کہ نور محل سے فرار ہو گئی
ہے۔
جگو: حضور اگر اتنی احتیاط سے یہ کام کرنا ہے تو پھر آج رات اس کے لیے موضوں نہیں۔
سکندر حیات: کیوں؟
جگو: حضور: پوری پلاننگ کرنی پَڑے گی۔کم ازکم مجھے کمرے سے خون صاف کرنے کے لئے اور لاش غائب کرنے کے لئے دو
آدمی چاہیئں۔قابل اعتماد آدمی۔
سکندر حیات:وہ بھی تمہیں مل جائیں گے۔
جگو: حضور میں پوری طرح مطمن ہو کر واردات کرنا چاہتا ہوں ‘اس محل میں چھوٹی مالکن کے بہت سے وفادار موجود ہیں۔
سکندر حیات:چلو کوئی بات نہیں‘ ایک رات اور سہی ‘یہ سچ ہے جو جتنی زندگی لے کر آتا ہے‘ دنیا میں اتنی ہی گزار کر جاتا ہے۔

سین نمبر18
نور اپنے کمرے میں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھی ہوئی ہے‘ اور کمپیوٹر کی سکرین پر بار بار چھکا مارنے والا شاٹ چل رہا ہے‘ باہر سے رابطہ
کیلیے نور کی ہر کوشش ناکام ہو رہی ہے‘ صفیہ اندر آتی ہے اور آہستہ سے نور کے کان میں کچھ کہتی ہے۔
صفیہ:آپ کے وفادار آپ کے کمرے کے ارد گرد موجود ہیں‘ فکر کی کوئی بات نہیں۔
نور : رئیس علی سے کہو کہ مجھے پسٹل کی کچھ گولیاں بھی چاہیئں۔
صفیہ چلی جاتی ہے‘ اور نور کمپیوٹر سے باہر کے لیے رابطہ کے لئے کوشش کرنے لگتی ہے۔

سین نمبر19

مسٹر بابر جوزف کے دفتر میں اسے دو لاکھ پونڈ کی رقم دیتے ہوئے کہ رہا ہے۔
بابر: یہ لیجئے‘ مسٹر جوزف‘ پورے دو لاکھ پونڈ
مسٹرجوزف: سور مسٹر بابر‘ میں آپ کا کام نہیں کر سکتا۔
مسٹر بابر:﴿پریشانی کے عالم میں﴾: کیو ں کیا ہوا ہے؟
مسٹر جوزف: مسٹر بابر‘ اس کام پر میرے اخراجات پانچ لاکھ پونڈ آرہے ہیں‘ میںدو لاکھ پونڈ میں کس طرح کر دوں؟ سوری
مسٹربابر‘ آئی ایم سوری‘۔
اوربابر پریشانی کے عالم میں اٹھتا ہے‘ اپنی کار میں بیٹھتا ہے‘ اور پاگلوں کی طرح سڑک پر کار چلانے لگتاہے۔

سین نمبر 20

مسٹر جوزف ٹیلی فون پر مسٹر کے کے سے کہہ رہا ہے۔
مسٹر جوزف: مسٹر کے کے‘ اگلے چند لمحے تمہارے لئے بہت قیمتی ہیں۔
مسٹر کے کے: اوکے‘ اوکے مسٹر جوزف۔
مسٹر کے کے تیزی اپنے دفتر سے باہر نکلتا ہے۔

سین نمبر21

مسٹر بابر اپنے فلیٹ کے اندر داخل ہوتا ہے‘ کمپیوٹر سے کال ٹون آرہی ہے ‘ بابر اسے سنتا ہے‘ اور پھر کانوں میں انگلیاں دے
دیتا ہے۔ مگر کال ٹون اسکے دماغ میں بجتی رہتی ہے۔ وہ تنگ آکر کمپیوٹر کا سوئچ آف کر دیتا ہے۔ مگر اس کے دماغ میں کال ٹون
بجتی رہتی ہے۔اور پھر بابر پاگلوں کی طرح چیزیں اٹھا اٹھا کر دیواروں پر مارنے لگتا ہے‘ چند ہی لمحے میں کمرے کباڑخانے میں بدل
جاتا ہے۔ اور مسٹر کے کے اندر داخل ہوتا ہے۔ اس بات کا خیال رہے کہ جب بابر فلیٹ کے اندر داخل ہوا تھا تو اس نے فلیٹ کا
دروازہ بند نہیں کیا تھا۔ مسٹر کے کے چند لمحے مسٹر بابر کی دیوانگی کا مشاہدہ کر تا رہتا ہے اور پھر بھرپور آواز کے ساتھ کہتا ہے۔
مسٹر کے کے: مسٹر بابر‘ میں نور کو تمہارے پاس پہنچا سکتا ہون‘ مجھے خدمت کا موقع دیجیے۔
بابر کو پہلی مرتبہ مسٹرکے کے کی وہاں موجود ہونے کا احساس ہوتا ہے وہ ہوتا ہے وہیں جم جاتا ہے‘ اور پھر بہت آہستہ مڑتا ہے
اور مسٹر کے کے کی طرف دیکھتاہے‘ کچھ دیر خاموشی سے دیکھتا رہتا ہے اور پھر بڑے سکون سے کہتا ہے۔
مسٹر بابر: مجھے تمہارا ہر مطالبہ منظور ہے‘ مجھے نور چاہئیے۔ زندہ نور ۔
مسٹرکے کے: مسٹر بابر‘ آپ کی تمام پریشانیاں دورہو جائیں گی نور ‘ دو دن کے بعد آپ کے پاس ہوگی۔ میچ ختم ہونے سے پہلے
پہلے وہ آپ کی نظروںکے سامنے ہوگی‘ یہ میرا وعدہ ہے‘ بلکہ آپکی آئوٹ ہونے سے پہلے۔
بابر جلدی سے کمپیوٹرجوڑتاہے‘ اس کا سو ئچ آن کرتا ہے۔ نور سے رابطہ کرتا ہے‘ اور اسے آواز آتی ہے۔
بابر: ہیلو ہیلو
نور : ہیلو بابر۔
نور : ہیلو تم نے ابھی کمپیوٹر آف کیوں کر دیا تھا؟
بابر: کوئی خرابی پیدا ہو گئی تھی۔
نور : کیا ہوا؟
بابر: تم دو کے بعد یہاں پر پہنچ جائو گی۔
نور :پرسوں تھیک آٹھ بجے اگر ہیلی کاپٹر محل کی چھت پر پہنچ جائے‘ تومیں وہاں موجود ہو سکتی ہوں۔
بابر : اس پروگرام میں کوئی تبدیلی ہوئی تو میں تمہیں بتا دوں گا۔ انشائ اللہ سب کچھ طے شدہ پروگرام کے مطابق ہو جائے گا۔
نور: میں فائنل پروگرام کا انتظار کرونگی۔
بابر : او کے نور
﴿اور مسٹر کے کے﴾
مسٹر بابر: نور کے سلسلے میں ہم نے ایک ماسٹر پلان بنایا تھا۔ وہ مسٹر جوزف کے پاس موجود ہے۔ مگر وہ پانچ لاکھ پونڈ کا مطالبہ کرتا
ہے‘
م
سٹر کے کے: تم صرف انتظار کرو‘ مسٹر بابر‘ کے کے کے کام کچے نہیں ہوتے‘ میں جانوں اور مسٹر جوزف جانے‘ تمہارے
ساتھ جو بات طے ہو گئی ۔ میں جا رہا ہوں
مسٹر کے کے باہر نکلتا ہے اور کار میں بیٹھتے ہی مسٹر جوزف کے موبائل پر کال ملاتا ہے۔
مسٹر کے کے: ہیلو مسٹر جوزف۔
مسٹر جوزف: ہاںمسٹر کے کے کیا ہوا؟
مسٹر کے کے: کام او کے ہوگیا ہے۔ اب تم بتا ئو لڑکی کو یہاں تک جتنی جلدی ہو سکے پہنچانے کی کوشش کرو۔
مسٹر جوزف: میں نے تو کئی دنوں سے تمام معاملات فائنل کے ہوئے ہیں ‘ بس تمہارے سگنل کا انتظار تھا۔ مسٹر کے کے: او کے ‘
میں ادھر ہی آ رہا ہوں۔

سین نمبر22

صوفیہ‘ ایاز‘ مسٹر جا ن ایاز سے پوچھتا ہے۔
مسٹرجان: وہ بابر کاکیا ہوا؟ مسٹر کے کے کامیاب ہوا یا نہیں؟
صوفیہ:گرینڈ ڈیڈ‘ کامیابی یقینی ہے‘ کیونکہ مسٹرجوزف مسٹرکے کے ملا ہوا ہے۔
مسٹر جان: ﴿بھرپور قہقہہ﴾: اس کا مطلب ہے میچ فکس ہو گاہی۔ اس مرتبہ گیمبلنگ کا مزا آ ئے گا۔ ﴿قہقہہ﴾
ایاز: مسٹر جان آپ بھی جوا کھیلتے ہیں؟
مسٹر جان:﴿قہقہہ﴾: نیگ مین‘ رسک ہی تو لائف ہے۔
صوفیہ:گرینڈ ڈیڈ‘ کل تک کنفرم ہو جائے گا‘ ویسے مسٹر بابر کا کچھ اعتبار نہیں۔
مسٹر جان: ﴿بھرپور قہقہہ﴾ : نو‘ اس مرتبہ وہ بری طرح پھنس گیاہے۔محبت‘ مشرق کی محبت اس کے لہو میں شامل ہے۔ وہ اپنی
محبت کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔
ایاز: مجھے حیرت ہے‘ بابر نور سے ملے بغیر اس کے لیے اتنا کچھ کر رہا ہے۔
مسٹر جان: ﴿قہقہہ﴾: نیگ مین۔ بابر ان لوگوں میں سے ہے‘ جن کا محبوب ان کے اندر کہیں موجود ہوتا ہے۔ مجھے تویہ نور بابرکی
ذات کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔

سین نمبر23

رات: نور اپنے کمرے میں موجود ہے‘ وہ شیلف کے کسی کونے سے پسٹل نکال کر اسے لوڈ کرتی ہے‘ اور پھر پسٹل بیڈ کے ا وپر اپنے
تکیے کے نیچے رکھ دیتی ہے‘ تمام کھڑکیاں اچھی طرح چیک کرتی ہے۔ کمرے کے اندر‘ ڈریس چیکنگ روم کا پردہ درست کرتی
ہے‘ دروازے کے لاک کو دیکھتی ہے‘اور پھرمسہری پر سونے کے لئے لیٹتی ہے، ڈریس چیکنگ روم والے پردہ میں حرکت پیدا
ہوتی ہے۔ جس کی فوری طور پر کوئی معنی نہیں نکلتے۔دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ نور پوچھتی ہے
نور : کون؟
آواز: چھوٹی مالکن‘ نواب صاحب نے آپ کو یا د کیا ہے۔
نور سرہانے کے نیچے سے پستول نکال کر ہاتھ میں پکڑلیتی ہے‘ اور دروازے کا لاک کھولتی ہے۔ اور خود پیجھے چھپ جاتی ہے۔جگو
اندر داخل ہوتا ہے اور تیزی سے دروازے کے پیچھے کھڑی نور پر فائر کرنے کے لیے مڑتا ہے‘ مگر پیچھے ڈریس چیکنگ روم کے
پردے کے پیچھے سے ہاتھ برآمد ہوتا ہے‘ اور فائر ہوتا ہے‘ جگو وہیں گر جاتا ہے اور مر جاتا ہے‘پردے کے پیچھے سے ایک ملازم
نکلتا ہے۔
ملازم: میرا خیال ہے چھوٹی مالکن اب آپ کا اس کمرے میں رہنا ٹھیک نہیں‘
نور : تم لاش ٹھکانے لگا دو۔ میں یہیں ٹھیک ہوں۔
اسی لمحے دو آدمی کمرے میں داخل ہوتے ہیں ‘ ملازم جلدی سے پردے کے پیچھے چھپ جاتا ہے‘ وہ دونو ں اسے نہیں دیکھ سکے
ہوتے‘ انکی نظر جگو کی لاش پر پڑتی ہے‘ اور نور کے ہاتھ میں پستول نظر آتا ہے تو وہ تیزی سے پیچھے مڑنے لگتے ہیں اور بھاگنے لگتے
ہیں‘ نور اپنے وفادار ملازم سے کہتی ہے۔
نور : اب اس کمرے میں رہنا ممکن نہیں‘
دونوں لاش کو پھلانگتے ہوئے ‘ بھاگ نکلتے ہیں‘ کافی عجیب و غریب اور پراسرار راستوں سے گزر کر ایک تہ خانے کی سیڑھیاں
اترتے ہیں‘ تہہ خانے میں پہنچ کر نور ملازم سے پوچھتی ہے۔
نور : تمہیں پورا یقین ہے کہ اس تہہ خانے کے بارے میں نواب سکندر حیات کچھ نہیں جانتا؟
ملازم : چھوٹی مالکن ‘ آپ کے بابا حضور کے علاوہ اس تہہ خانے کا کسی کو علم نہیں۔
نور : اس کا کوئی ثبوت؟
ملازم: جو خزانہ ‘ ہیرے اور جواہرات یہاں پڑے ہوئے ہیں‘ اگر نواب سکندر حیات کو اس کا علم ہوتا تو انہیں کبھی کا نکال کر لے
جا چکا ہوتا۔
نور : تم جائو‘ کہیں کوئی تم پر شک نہ کر جائے
اور ملازم تہہ خانے کی سیڑھیاں واپس اوپر کو چڑھنے لگتا ہے۔