چودہویں مجلس

Posted in تکون کی مجلس ۔ ناول

 

تکون کی مجلس


باطن میں کئی کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جنہوں نے ابھی تخلیق ہونا ہوتا ہے ۔کئی خواب ایسے ہوتے ہیں جن تک کسی آنکھ کی رسائی
ممکن نہیں ہوئی ہوتی۔کئی خیال ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہوا نے بھی نہیں چھوا ہوتا۔کئی شہر ایسے موجود ہوتے ہیں جنہیں ابھی
آباد ہونا ہے۔کئی کائناتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ابھی صدائے کن سے نکلنا ہوتاہے۔۔وہاں عدم بھی ہے اور وجود بھی ۔


چودہویں مجلس


سکرپٹ کے تیسرے ایپی سوڈختم ہوا تو میں نے سوچا کل ویک اینڈ شروع ہو رہا ہے دو دن ہیں آرام سے سارا پڑھ لوں گااور پھر میں
لیٹ گیا ۔لیٹتے ہی نیندنے اپنی آغوش میں کھینچ لیا اور وہاں بہلول میرا انتظار کر رہا تھا۔قافلہ رک چکا تھاخیمے نصب ہو چکے تھے دیوی
کا تخت اونٹ سے اتار کر خیمے میں سجا دیا گیا تھا دیوی اس پر براجماں تھی۔سامنے قافلے والے بیٹھے ہوئے تھے۔اور بہلول کی
طرف سے کہہ رہا تھا ’’دیوی نے جانوروں کے ساتھ جنسی تسکین کی اجازت دے دی ہے۔دیوی کہہ رہی ہے جب ہرجاپتی اکیلا
تھاتواس نے چاہاکہ دنیا کو پیدا کرے چنانچہ اس نے اگنی، داتو، آدتیہ دیو تائوں کو پیدا کیا بعد میں اس نے اپنے منہ کی پھونک سے
گائے کو پیداکیا اگنی دیوتا نے جب گائے کو دیکھا تواس کا دل للچا گیااس نے چاہا کہ میں اس گائے سے جنسی تسکین کروں چنانچہ اس
نے ایسا کر کیا۔کوہ قاف کی پہاڑیوں میںبھی ایک مقدس بکرا ہے جس کی لوگ بہت زیادہ عزت کرتے ہیں مقدس بکرا پان
دیوتااوتار ہے ۔عورتیں اولاد حاصل کرنے کی خواہش میں اس کی خدمات سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔مینا لور کی ماں کے ساتھ بھی
گھوڑاکا تعلق پیداہوگیا تھااسی لئے اس کے سینے کے اوپر کاحصہ گھوڑے کااور باقی جسم آدمی کا تھا۔بھینس ، بکری ، بھیڑاور گدھی
سے مباشرت کئی جنسی بیماریوں سے نجات دلاتی ہے۔لیکن جانوروں کے ساتھ اتصال میں بڑی ہنر مندی کی ضرورت ہوتی ہے
ایک دفعہ
ایک سوداگر اپنے غلام کیساتھ سفر پر گیا ہواتھا گھر میں سوداگر کی بیگم اورغلام کی بیوی یعنی اس بیگم کی کنیز تنہاتھیں بیگم کا ایک
گدھا بھی تھا جو کنیز کی تحویل میں تھا۔ کنیز نے اس گدھے کو اس طرح سدھایاکہ وہ ایک مردکی طرح اس کی جنسی خواہش پوری
کرتاتھاکنیزنے عقلمندی یہ کی تھی کہ ایک بڑا سا کدو خشک کر لیا تھا اوراس میں حسبِ ضرورت سوراخ کر لیا تھا اس کی ایک
مخصوص کرسی تھی وہ اس پربیٹھ جاتی اپنے اندام ِنہانی پر وہی کدو رکھ لیتی تھی سدھا یاہوا گدھا سمجھ لیتا کہ اب فعلِ مخصوص انجام
دیناہے ۔ گدھے کو بھی جنسی لذت حاصل ہوتی تھی وہ آ جاتا تھا اس کے عضو تناسل کا بڑا حصہ کدو میں آ جاتا اوراگلا حصہ جو موٹائی
میں بھی نسبتاً کم ہوتا ہے اورتقریباً مرد کے عضوِ تناسل کے برابرہوجاتا ہے کنیز کے اندام نہانی میں داخل ہوتااس طرح دونوں
لذت حاصل کرتے تقریباً روز یہ کام ہوتااسلئے گدھا کمزور ہونے لگا بیگم کو تشویش ہوئی کہ گدھا کمزور کیوں ہو رہاہے اس نے
جانوروں کے امراض کے ماہرین سے مشورہ کیا مگر کوئی گدھے کے مرض کی تشخیص نہ کرسکا بیگم کو یہ حیرانی بھی تھی کہ اس کا اور
کنیز کا یعنی دونوں کے خاوند باہر گئے ہوئے تھے وہ جنسی طلب کے ہاتھوں مضطرب رہتی تھی لیکن کنیز مطمئن رہتی تھی غرضیکہ
بیگم کو تجسس ہوا اور وہ کنیز کی گھات میں رہنے لگی تلاش کرنے والا پا ہی لیتا ہے ایک روز اس نے دروازے کی کسی درزسے سارا
معاملہ دیکھ لیا کنیز اپنی مخصوص کرسی بچھاکر بیٹھی اور گدھاآ کر اپنے کام میں مصروف ہو گیابیگم کے شہوانی جذبات بھڑک اٹھے
اس نے سوچا کہ واہ گدھے کی مالک میں ہوں اوراس سے لطف کنیزلے رہی ہے اس نے دروازے پر دستک دے دی کنیزفوراً اٹھی
گدھے کو الگ کیا اپنا سارا سامان ادھر ادھر چھپا دیااوردروازہ کھول کر مالکن کے آگے ظاہر کیاکہ وہ روزہ سے تھی اور تھوڑی دیر
سستانے کو لیٹ گئی تھی بیگم نے کہا کہ وہ فلاں آدمی کے پاس جائے اور اس سے فلاں چیز لے آئے۔ دورکا گھر بتایا کنیز چلی گئی بیگم
نے اس کے چلے جانے کا اطمینان کرلیا تواسی طرح کرسی پردراز ہو گئی اورگدھا آگیا بیگم نے کدو والامعاملہ نہیں دیکھاتھا اس نے
کدو نہ رکھا گدھے کا سارا عضو تناسل اندر گیاتو اس کی آنتیں بھی باہر آگئیں اوروہ مر گئی تھی۔‘‘اور پھر بہلول نے دیوی کی مجلس
برخاست ہونے کا اعلان کیا ۔ ہم دونوں باہر نکلے تو میں نے بہلول سے کہا ’’تم اتنے دانشمند آدمی ہو۔ بھگوان کے قرب کی تلاش
میں پھرتے ہو۔اور ایسی خرافات لوگوں کو بتا رہے تھے ۔ بہلول کہنے لگا۔جنس خرافات نہیں ہے ایک سچائی ہے۔ایک عالم گیر
سچائی ۔ایک کائناتی سچائی ‘‘ میں نے کہا ’’ مگر یہ جانوروں سے جنسی تسکین۔یہ تو سراپا خرافات ہے۔بہلول کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر
بولا مجھے تمہاری بات درست لگ رہی ہے مگر ہم صدیوں سے یہ کام کرتے آئے ہیں بڑے بڑے دیوتائوں نے اسے پسند کیا ہے
‘‘میں نے حیرت سے پوچھا ’’پھر تم یہ خرافات کیوں محسوس ہوئی ۔ بہلول بولا۔۔ تمہارے دھیان دلانے پر میں نے سوچنا شروع
کیا تو مجھے خیال آیا کہ جنس کی بنیادمیں افزائش نسل کا قانون موجود ہے اور جانوروں کے ساتھ اتصال میں یہ ممکن نہیں۔ اس لئے
اسے جائز نہیں ہونا چاہئے۔میں نے ہنس کر کہا ’’ بیچاری لڑکی بڑے تاجر کے ساتھ جنسی تعلق سے بچنے کیلئے تمہارے پاس آئی
تھی تم نے اسے جنس کی دیوی بنا دیا ہے۔‘‘ بہلول نے بڑی سنجیدگی سے کہا ’’ صرف اس لئے کہ اس میں جنسی کشش بے پناہ
ہے‘‘۔۔میری آنکھ کھلی تو سائیکی کمرے میں موجود تھی میں نے آنکھیں ملتے ہوئے اسے دیکھ کر کہا ’’زہے نصیب کہ تم میرے
بیڈ روم میں تشریف لے آئی ہو ‘‘غصے سے بولی’’ بکواس کی ضرورت نہیں ۔ یہ تم فلیٹ کے دروازہ بند کر کے کیوں نہیں سوئے ۔
مجھے آئے ہوئے ایک گھنٹہ ہو چکا ہے۔‘‘میں نے سائیکی سے پوچھا کیا وقت تو کہنے لگی ’’صبح گیارہ بج رہے ہیں ‘‘میں جلدی سے اٹھا
۔برش کیا۔ منہ ہاتھ دھویا۔ سائیکی نے اتنی دیر میں سلائنس گرم کر دئیے تھے اور انڈا فرائی کر لیا تھا۔ میں نے ناشتہ کیا
سائیکی ٹی وی کے چینلز بدلنے لگی ۔ ایک خبر پر اس کی انگلی رک گئی ۔ آسٹریا میں جس برطانوی منصف کو ہولوکاسٹ کے خلاف
کتاب لکھنے پر سزا ہوئی تھی اسے رہا کر دیا گیا تھا۔مجھے اس خبر سے ایک واقعہ یاد آگیا میں نے سائیکی سے کہا
’’ایک بارٹرین پر بھر منگھم سے لندن چلے جاتے ہوئے میری ملاقات آسٹریا کے ایک یہودی سے ہوئی۔اس نے مجھے ہولو کاسٹ
کے موضوع پر اپنی ایک خوبصورت نظم سنائی۔جس کا مفہوم کچھ یوں تھا
’’ہولو کاسٹ۔۔۔ایک ہیری کین
وقت پر بجتا ہو پیانوکاخاموش نوٹ
ہولو کاسٹ۔۔۔لاکھوں لوگوں کا سفر
اپنے مرے ہوئے دوستوں کی روحوں کی تلاش میں
ہولو کاسٹ۔۔۔گندے نالے میں گرتے ہوئے پانی کی تشدآمیز زور دار آواز
صرف ایک آواز کے لئے
ہولو کاسٹ۔۔۔ایک ٹوٹے ہوئے کھلونے کے
گھاس پر بکھرے ہوئے سینکڑوں ٹکڑے جنہیں جوڑا نہیں جا سکتا
ہولو کاسٹ۔۔۔کالے جنگلوں میں کبھی نہ ختم ہونے والا سفر
سورج کو چھپانے والا کالا بادل
گرم پتھروں کی آگ پر جلنے کا عمل
ہولو کاسٹ۔۔۔ایسے سایوں کے درمیان چل رہا ہے جو کبھی
نہ دیکھے گئے ہیں اور نہ سنے گئے ہیں مگر موجود ہیں
ہولو کاسٹ۔۔ہنگام بھری سرگوشیوں سے ٹوٹی ہوئی خاموشی‘‘
میں نے نظم سن کرا سے کہا
’’نظم بہت اچھی ہے مگر اب تو یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ہولو کاسٹ محض ایک افسانہ ہے ‘‘کہنے لگا
’’ہولو کاسٹ ۔۔۔یہودیت پر ظلم کی وہ آخری انتہا ہے جس کی پیشگوئی تو رات میں موجود ہے ۔تو رات کے مطابق بنی اسرائیل
اپنے گناہوں کے کفارے کے طور پر جلتی ہوئی بھٹیوں میں ساٹھ لاکھ جانو روں کی قربانی دیں گے تو ارض مقدس پر ان کی
مراجعت ان کے نصیب میں لکھی جائے گی۔اگر تمہیں یقین نہیں تو میرے ساتھ آسٹریا آئو۔سچائی تمہارے سامنے آجائے
گی۔میں نے کہا ہٹلر کے ہاتھوں یہودیت کی اتنی بڑی تباہی نہیں ہوئی تھی کہ اسے ہولو کاسٹ کہا جائے۔اس نے مجھے عجیب سی
نظروں سے دیکھا اور کہا اعداد و شمار کے مطابق اس ہولو کاسٹ میں 1.5ملین بچے قتل ہوئے تھے ۔یہودیوں کے علاوہ پانچ ملین
سے زائد دوسرے لوگ مارے گئے جن کا تعلق پولینڈ اور کیتھولک مذہب سے تھا جہاں تک یہودیوں کے قتل عام کے اعداد و شمار
کا تعلق ہے تو عام طور پر کہا جاتا ہے کہ تقریبا 6ملین یہودی ہلاق کیئے گئے ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اس ہولو کاسٹ کے دوران یورپ
کی دو تہائی آبادی ختم کر دی گئی اور اگر اس دنیا کی آبادی پر منطبق کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے ایک تہائی یہودیوں کو
ہلاک کر دیا گیا ۔تمہیں یقین تب آئے گا جب تم میرے ساتھ آسٹریا جائو گے۔تم وہاں میرے مہمان ہو گے۔میں نے اس کی
دعوت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس سے پوچھا جیوش انسائکلو پیڈیا میں جنگ عظیم سے قبل کے ایڈیشن میں یہودیت کی عا لمی
آبادی ایک کروڑ پچاس لاکھ لکھی تھی اگر ساٹھ لاکھ یہودی ہٹلر کی قتل گاہوں کی نظر ہو گئے تو 1945کے اعدادو شمار میں ان کی
تعداد 90لاکھ ہونی چا ہیے تھی مگر اس وقت کی جیوش انسائکلو پیڈیا کہتی ہے کہ کمی نہیں ہوئی بلکہ آبادی بڑھ کر ایک کروڑ ساٹھ
لاکھ ہو گئی ہے ۔
کہنے لگا ’’کہ یہ کوئی اعداد و شمار کی غلطی لگتی ہے ممکن ہے پرنٹنگ کے وقت ان کی پروف ریڈنگ ٹھیک طرح نہ ہو سکی ہو لیکن ان
سب سوالوں کے جواب تمیں آسٹریا میں مل سکتے ہیںآسٹریا نہیں تو میرے ساتھ یورپ کے کسی اور ملک میں چلے چلو وہاں بھی
ان سوالوں کے جواب موجود ہیں ۔
میں نے وہاں جانے سے معذرت کرتے وقت ایک سوال اور داغ دیا کہ مجموعی طور پر جنگ کے بعد 38لاکھ یہودیوں نے یہ
دعویٰ کیا تھا کہ اس ہولو کاسٹ سے بچ جانے والے مظلوم ہیں 60لاکھ یہودی ہٹلر نے مار دیئے یو ں ان تما م یہودیوں کی تعداد
98لاکھ ہو جاتی ہے ۔مگر اس وقت اعداد و شمار کے مطابق یورپ کا جو علاقہ جرمنی کے قبضے میں آیا تھا اس کل یہودی آبادی 24
لاکھ تھی ۔
اب اس کے ماتھے کی لکیریں گہری ہونے لگی تھی کہنے لگا یہ سب اعدادا و شمار کی غلطیاں ہیں انسانی تاریخ کی اتنی بڑی قربانی کو
اعدادا وشمار کے رجسٹر سامنے رکھ کر نہیں جھٹلایا جا سکتا تم میرے ساتھ یورپ چلو تو سہی دیکھو تم بالکل مطمئن ہو جائو گے۔
میں نے پھر اس کی دعوت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ اس دور کے بڑے بڑے لوگوں نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں ہولو
کاسٹ کا کہیں ذکر موجود نہیں خاص طور پر جرنل ڈوانٹ ڈی آئرن جو امریکہ کے چو بیسویں صدر تھے ان کی سرگزشت میں اس
دور کے باقی تمام حالات تو درج ہیں مگر ہولوکاسٹ کہیں نہیں ہے انہوں نے کہیں گیس چیمبرزکا ذکر نہیں کیا جنگ عظیم دوئم کے
دنوں میں برطانیہ کے وزیر اعظم ونسٹنٹ چرچل نے چھ جلدوں پر مشتمل جنگ کے پس منظر واقعات و نتائج کی تاریخ قلمبند کی
ہے ۔مگر اس میں بھی ہولو کاسٹ کا ذکرموجود نہیں
اب وہ مسکرا دیا اور کہنے لگا دراصل تاریخ لکھنے والا جتنا ہی غیر جانبدار کیوں نہ ہو کچھ نہ کچھ اس کی پسند نہ پسند کا بھی اس میں دخل ہو
تا ہے مگر یہ ساری باتیں آسٹریا میں کریں گے۔تم مجھے بہت پسند آئے ہو تم کہو تو میں لندن یا آسٹریا تک تمہارا ائیر ٹکٹ خریدنے
پر بھی تیار ہوں ۔میں نے ایئر ٹکٹ کی آفر پر اس سے کہا۔ ہاں اب آسٹریا جانے کا سوچا جا سکتا ہے مگر جنگ عظیم دوئم کے بعد
اتحادی طاقتوں نے جو تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا اس نے چھ برس کی چھان بین کے بعد جو رپورٹ دی تھی اس میں بھی لکھا گیا کہ
جرمنی کے نظر بندی کے کیمپوں میں کوئی شخص زہریلی گیس سے نہیں مرا ۔وہ بولا’’یہ سب باتیں تفصیل سے کریں گے آسٹریا جا
کر ۔تمہیں میرے ساتھ آنے پر کوئی پرابلم تو نہیں ہے نا۔میں نے ہنس کر کہا ’’نہیں سوائے اس کہ کہ وہاں جا کر میں سچائی بیان
نہیں کر سکتا ۔مجھے علم ہے کہ آزادی اظہار کے سب سے بڑے علمبردار یورپ میں اس سچائی کے بیان پر کم سے کم سزا تین سال
ہے اس نے بڑی مایوسی پر اور غصے سے مجھے دیکھا اور گالی دیتے ہوئے کہا ’’باسٹرڈ ‘‘۔۔۔ برطانیہ سے ذرا باہر تو نکل میںتجھے بتاوں
کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ۔‘‘میری اس کہانی پر سائیکی کھل کر ہنسی اور پھر سنجیدہ ہو کر بولی ’’ایسی باتیں برطانیہ میں بھی نہ کیا کرو۔
ان یہودیوں کے بہت لمبے ہاتھ ہیں‘‘
سائیکی اور میں خاصی دیر گفتگو کرتے رہے۔پھر آقا قافا کی طرف چلے گئے ۔حیرت انگیز طور پرگھر کھلا ہوا تھامگر آقا قافا گھر پر
موجود نہیں تھے سائیکی نے بڑی حیرت سے کہا ’’وہ جب بھی کہیں جاتے ہیں تو مجھے بتا کر جاتے ہیں اللہ خیر کرے ۔وہ اچانک کہاں
چلے گئے ہیں۔باقی لوگ بھی مجلس میں شریک ہونے کیلئے آگئے ۔ سائیکی اور میں نے سارے پیلس میں انہیں اچھی طرح تلاش کیا
آج پہلی مجھے مکمل طور پر اس پیلس کو دیکھنے کا موقع ملا تھا یہ واقعہ بہت بڑا اور بہت خوبصورت محل تھا۔جب ہم تمام گھر میں گھوم
پھیر کر واپس لیونگ روم میں آئے تو آقا قافا موجود تھے اور گفتگو کر رہے تھے۔کہہ رہے تھے’’بڑے مکانوں کے مکین زیادہ تر
چھوٹے لوگ ہوتے ہیں اور چھوٹے مکانوں میں رہنے والے زیادہ تر لوگ بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے ھصے میں دکھ
وافر مقدار میں آتے ہیں وہ بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہمیشہ بڑے لوگ ہی بڑے دکھوں کو برداشت کرتے ہیں۔میں اس
وقت کہیں دور سے آیا ہوں کسی کام میں تھوڑا سا مصروف ہوں اس لئے آج کی مجلس بھی نہیں ہوگی۔ کل انشاللہ لمبی نشست کریں
گے۔اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے ’’بہلول کے ساتھ جنسیت کو موضوع پر تمہاری گفتگو ابھی ادھوری ہے ۔اس نے گدھی
والی کہانی تمہیںسنائی تھی وہ تم پہلے موائے روم کی کتاب مثنوی معنوی میں پڑھ چکے تھے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بہلول تم سے جو
باتیں کرتا ہے وہ پہلے سے تمہارے اندر موجود ہوتی ہیں۔۔ اور ہاںتم نے ابھی سارا مکان نہیں دیکھا اس میں ایک تہہ خانہ بھی
ہے ۔اسے بھی ضرور دیکھنا۔ اور پھر وہ اندر چلے گئے۔

سائیکی اور میں وہاں سے نکلے تو سائیکی بولی ’’وہ مجھے یاد تم جانتے ہو نا سعود الہی شیخ صاحب کو ۔۔آج کل ’’مخزن ‘‘کے نام سے ایک
ادبی مجلہ نکالتے ہیں ‘‘۔ میں نے بے ساختہ کہا ’’ میرے بہت مہربان بزرگ دوست ہیں ، کیوں کیا ہوا انہیں‘‘ کہنے لگی ’’میں نے
کہیں ان کے شائع کردہ تمام مجلے دیکھے ہیں ان میں برطانیہ کے تقریبا ً تمام اہم شاعر اور ادیب موجود ہیں مگر تم شامل نہیں
ہومیرے خیال میں تو یہ ایک تاریخی بدیانتی ہے۔سوسال کے بعد ادب پر تحقیق کرنے والے تو یہ سمجھیں گے کہ اس عرصہ میں
تم برطانیہ میں موجود ہی نہیں تھے‘‘۔ میں ہنس پڑا اور میں نے کہا کہ فکر نہ کروکیونکہ تاریخی عمل بہت بے رحم ہوتا ہے اور جہاں
تک ’’ مخزن‘‘ کی بات ہے تو اس میں سعود الہی شیخ صاحب کا کوئی قصور نہیں۔ انہوں نے وہ ٹائپ شدہ خط جو دوسرے ادیبوں اور
شاعروں کو بھیجاتھا اس سے مجھے محروم نہیں رکھا تھامگر میں نے انہیں اپنا کلام نہیںبھیجا تھا کیونکہ اس کے ساتھ پچاس پونڈ کی
ادائیگی بھی ضروری تھی ۔ادب کی خدمت کیلئے پچاس پونڈ کوئی بڑی رقم نہیں تھی مگر اُن دنوں میں ’’اندلس کے آخری مسلمان
فلسفی ابن باجہ کو پڑھ رہا تھا۔جہاں بالکل ایسی ہی ایک بات سامنے آئی کہ ابن باجہ کے دور میں فتح بن خاقان کے نام کا ایک لکھنے والا
شخص بھی تھا جس کا یہ طریقہ کار تھا کہ وہ اپنے زمانے کے شاعروں کے نام خط لکھتا تھا کہ وہ ادب کو تاریخ میں محفوظ کرنے کیلئے
علمی وادبی مخزن تیار کر رہا ہے۔ آپ لوگ اس مخزن میںشمولیت کیلئے اپنے شعرو سخن کے جواہربھیجیں تاکہ آپ کا کام تاریخ میں
محفوظ کیا جاسکے اور اس کے ساتھ اتنی اشرفیاں بھی ضروری ہیںکیونکہ اس عظیم کام پر بڑے اخراجات اُٹھ رہے ہیں ۔ جو لوگ
اسے کلام کے ساتھ اشرفیاں بھیج دیتے تھے وہ ان کی تعریف میں بڑے بڑے مضامین خود بھی لکھتا تھا اور دوسروں سے بھی
لکھواتا تھااور جو نہیں بھیجتے تھے ان کی ہجو گوئی کرتاتھا اور اسے ہجوگوئی کے فن میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ اس نے ابن باجہ کو
بھی خط لکھا تھا مگر اُس امامِ فلسفہ نے اس خط کو درخور اعتنا ئ نہیں سمجھا۔جو بھی معاملہ تھافتح بن خاقان نے بہت انتظار کیامگر ہجو
نہیں لکھی کیونکہ اس وقت تک ابن باجہ وزارت کے عہدے پر پہنچ چکے تھے۔ ہاں جب ابن باجہ کو زہر دے کر قتل کر دیا گیا تو فتح
بن خاقان نے بھی اپنے دِل کی بھڑاس نکال کر اپنی رنجِش کی آگ کو یوںٹھنڈا کر لیا ۔اِبن باجہ کے متعلق لکھا’’وہ سنت و فرائض
کا تارک تھا، خدا کا منکر تھا،قر آن حکیم کو چھوڑ کرعلم ہیئت اورعلم نجوم کی کتابوںکے مطالعے میں مشغول رہتا تھا۔معاد کا قائل نہیں
تھا، اِنسان کو گھاس پھونس سمجھتا تھا،ہمیشہ گانے بجانے کے شغل میں مصروف رہتا تھا،بدنسل اور بدصورت تھا‘‘۔فتح بن خاقان
نے جو کچھ لکھا اس کی تردیداُس عہد کے مورّخین نے تو کی ہی تھی ۔خوداِبن باجہ کی اپنی کتابیں بھی ان تمام باتوں کو رد کر دیتی
ہیں۔
اُنکی مشہور زمانہ تصنیف ’’تدبیر المتوحد‘‘جس کاترجمہ محمد کاظم نے’ ایک تنہا نسان کا مسلک ‘کیا تھا اس میں وہ واضح طور پر کائنات کا
مدبر اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو قرار دیتے ہیں۔ اُنہوںنے زیادہ ترکتابیں طبعیات ، منطق ، علمِ ہیئت ، علمِ ہندسہ ،الٰہیات ، عمرانیات
اورسیاسیات کے موضوع پرلکھی تھیں
سائیکی بولی ’’ ابن باجہ کا کوئی خاص فلسفہ تھا
میں نے کہا’’اُن کے فلسفے کا بنیادی موضوع روحِ مطمئنہ کے حامل لوگ‘ کِس قسم کی ریاست یا شہر میں خوشی کے ساتھ زندگی
گزارسکتے ہیں اور وہاں کیسی طرزِ حکمرانی ہونی چاہئے۔ ابنِ باجہ جِس قسم کی ریاست کا خواب دیکھتے تھے اُس میں کسی قاضی یا
عدالت کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اُس کے باشندے اِتنے مہذب ، پُر اِخلاق سادہ اور معصوم تھے کہ وہاں اِس طرح کے نظام کا
تصور بے معنی ہو جاتا تھا۔ وہاں کوئی جھگڑا، فساد ، دشمنی یا غیر اِخلاقی عوامِل جنم نہیں لے سکتے تھے۔وہاں معالِج بھی غیر ضروری
تھے۔ لوگ ایسی خوراک استعمال کرتے تھے کہ بیماری کا احتمال ہی نہیں ہوسکتا تھا۔
ابنِ باجہ نے جو سیاسی عمرانی نظام وضح کرنے کی کوشِش کی اُس کی بنیاد میں ایک ایسا فلسفیانہ طرزِ حیات رکھاجِس میں فردمکمل مگر
تنہا اورایک منفرد حیثیت کا حامل تھا۔ ابنِ رُشد کے خیال میں ابنِ باجہ پہلی بار سپین میں ایسے اکیلے لوگوں کیلئے طرزِ حکمرانی زیرِ بحث
لائے جو ایک نامکمل یا ناقِص ریاست میںخوشحال زندگی بسر کرنے کی سعی ئِ نا تمام میں تنہا زندگی گزار رہے تھے۔ اُن کے فلسفے
میں یہ بات اِنسانی دماغ اور متحرک ذہانت کے درمیان نسبت بھرے روابط اور ایک تنہا فرد یعنی ’المتواحد‘کی روحانی یا مادی طرزِ
زندگی میںخوشی کے حصول سے مطابقت کو مدِ نظر رکھتی ہے ۔ تنہا فرد کی وضاحت میں پہلی بات تو یہ کہی گئی ہے کہ ایسے اِنسان کا
عمل ؛ ابنِ باجہ اِسے ’تدبیر‘ یا طرزِ حکومت قرار دیتے ہیں،حیوانوں سے اِس لئے مختلف ہوتا ہے کہ اِنسانی اعمال کے نتائِج ہوتے
ہیں۔مقصد کو مدِ نظر رکھنا دراصل وجوہات پیدا کرنا ہے ۔ لہٰذا اِس میں توجیہہ کی اِنسانی اہلیت اور اُس کے آزادانہ اِرادے کا بہت
عمل دخل ہوتا ہے۔ اِخلاقی طور پر صرف آزادانہ اِرادے کی بنیاد پر ہونے والے اچھے برے اقدامات کو ہی پرکھا جاسکتا ہے کیونکہ
اِخلاقی ذمہ داری کی بنیاد صرف اِسی آزادی پر منحصر ہے۔ ابنِ باجہ کے نزدیک بہترین تدبیر اُسے کہا جاسکتا ہے جو ایک فرد ِخالص کو
ایسے عقلی مقاصد کے حصول کیلئے کوشاں قرار دیتی ہے جو کسی بھی حیوانی یا مادی خوشی سے مبرائ ہوں۔ عقلی دانست میںخوشی
حاصل کرنے کے لئے اِسی بات کو فیصلہ کن مقصد ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ فلسفیوں کے نزدیک خوشی اِسی میں مضمر ہے اور اِس خوشی
کی سطح کا تعین عقلی تجریدیت کی اقسام سے استفادہ کرتے ہوئے اِنسان کی ذہانت اور اُس کی عملی عقل کے ارتباط سے کیا جاتا ہے۔
اِس ارتباط میں انسان کی عقل دراصل اُس کے حاصل کردہ علم کی شکل اِختیار کرلیتی ہے ۔ابنِ باجہ کے نزدیک صوفیانہ تجربہ یا
وجدان نہیں بلکہ خوشی کا حتمی ذریعہ یہی توجیہہ ہے مگر یہ حالت روز مرہ کی زندگی میں عام طور پر بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے
اور وہ فلسفی جو اِس مقام تک پہنچ جاتا ہے اُس کا تنہا اور اکیلا رہ جانا ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابنِ باجہ کے خیال میں ایک تنہا فرد
ایک مکمل اور بے عیب شہر میں ہی پھل پھول سکتا ہے۔ ناقص شہر ایسے فرد کی جد و جہد اور کاوشوں میں اضافے کا سبب بن جاتا
ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابنِ باجہ نے تنہا فرد کی خوشگوار زندگی کا جو فلسفہ پیش کیا ہے کیا وہ اِنسان کی سماجی فِطرت کے
خلاف ہے ؟ ابنِ باجہ بھی اِس بات کو سمجھتے تھے کہ اِنسان فطری طور پر ایک سماجی جانور ہے۔ اُنہوں نے خود بھی اِس پہلو پر غور کیا
ہے اور وہ ارسطو اور الفارابی کے اِس فلسفے سے متفق تھے کہ انسان سماج سے ہے اور تنہائی کی زندگی سماجیات سے ٹکراتی ہے یعنی
غیر فِطری عمل کی فہرست میں شمار ہوتی ہے۔تاہم ابنِ باجہ نے اپنی وضاحت میں یوں بھی کہا ہے کہ متعلقہ تنہا شخص کا وجود ممکن
بھی ہے اور ضروری بھی نہیں۔ مگر وہ ہر شخص کوایسے ہی وجود کی طرف راغب کرتے دِکھائی دیتے ہیں ۔
ابنِ باجہ کے فلسفے میں خوشی کا تصور روح کے تصور سے پیوست ہے، اُن کے نزدیک روح مادی نہیں اور اُسے دوام ہے لہٰذا وہ
چاہتے ہیں کہ تنہا فرد اپنی حتمی خوشی کے مقصد کے حصول کے لئے روحانی طریقہ ئ کار کو مادی طرزِ عمل پر ترجیح دے۔ اُن کے
نزدیک مادےّت پرستوں میں کوئی مطمئن یا خوش فرد نہیں پایا جاسکتا۔ وہ چاہتے ہیں کہ تنہا فرد روحانیت سے بھی آگے عقل کو
چھونے کی سعی میں مشغول ہوکر خالص مادےّت پسندوں اور اُن لوگوں سے بھیسماجی طور پر دور ہو جائیجو اپنی روحانی طرزِ زندگی
کو مادی طرزِ زندگی کے ساتھ مربوط کرتے ہیں۔ اُس کے روابط ایسے لوگوں کے ساتھ ہوں جو عقلی اقدامات کی تلاش میں
سرگرداں ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ایسے لوگ اگر کہیں ہیں تو بہت کم ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا وجود ہی نہ
ہومگر وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ایسے لوگوں کا ہونابعید ازقیاس نہیں گردانا جاسکتا۔ ایک معالج کی حیثیت سے اُن کی اِس مثال کو نظر
انداز نہیں کیا جاسکتا کہ گوشت اور گندم وغیرہ اچھی اور ضروری غذائیںہیں اور زہر صحت کے لئے نقصان کا باعث ہوتا ہے مگر
بعض اِمراض میں مفید غذائیت اِنسان کے لئے زہریلی ہوجاتی ہے اور مصدقہ نقصان دہ زہر اِنسانی علاج کے لئے موئثر اور ضروری
ہوجاتا ہے۔‘‘
‘ میری تقریر جب ختم ہوئی تو سائیکی بولی ’’سچ بتائوں تو میں نے تمہاری کوئی بات نہیں سنی ۔میں نے تو ویسے اس کے فلسفے کے
متعلق پوچھ لیا تم نے سر میں درد ڈال دیا ہے‘‘میں نے ہنس کر کہا ’’یہ دردمیری باتیں نہ سننے کی وجہ سے ہوا‘‘اور پھر سائیکی اور جدا
ہوگئے میں نے گھر پہنچتے ہی اگلا ایپی سوڈ پڑھنا شروع کر دیا